28/12/2022

Farsh E Makhmal Pe Aye Sone Walo


فرش مخمل پہ اے سونے والوں تمہیں قبر میں سونا پڑے گا 
اپنے اعمال کا جائزہ لو ورنہ قبر میں رونا پڑے گا 

چھوڑ دے زندگی کا یہ میلہ جائے گا توں یہاں سے اکیلا 
خوبصورت حسیں یہ بدن ہے اس کو بے جان ہونا پڑے گا

چار یاروں کے کاندوں پہ جس دن تیری بارات نکلے گی گھر سے
پہن کے کفن کا ایک جوڑا جب جنازے میں سونا پڑے گا

خاک سے یہ بنا جسم تیرا خاک میں ہی یہ جب جا ملے گا
ایک روز یہاں پہ تو آیا ایک روز تو جانا پڑے گا

تیری دلہن جو آئی سہاگن اسکے ہاتھوں سے اتریں گے کنگن
لاش بے جان پر تیری ان کو اپنا دامن بھگونا پڑے گا

https://t.me/NaatLyricsTKR
🍃ثـواب حـاصـل کـرنـے کـی نـیـت سـے زیـادہ سـے زیـادہ شــئـیـر کیجیئے🍃

 

24/12/2022

Naseema Janib E Batha

نسیما جانب بطحا گزر کن
ز احوالم محمد ﷺ را خبر کن

اے بادِ صبا مدینہ منورہ کی طرف گزر کر
محمد عربیﷺ کو میرے احوال سے آگاہ کر

توئی سلطان عالم یا محمد! ﷺ
ز روئے لطف سوئے من نظر کن

اے محمد ﷺ آپ ہی جہاں کے سلطان ہیں
محض اپنے لطف و کرم سے میری طرف نگاہ کیجئے 

ببر ایں جان مشتاقم بہ آں جا
فدائے روضہ خیر البشر ﷺ کن

میری اس مشتاق جان کو وہاں لے جا
 خیر البشرﷺ کے روضہ اقدس پر قربان کر دے

مشرف گرچہ شد جامی ز لطفت
خدایا ایں کرم بار دگر کن

اگر چہ جامی آپ کے لطف و کرم سے مشرف ہو چکا ہے
اے رب یہ کرم مجھ پر پھر ایک بار پھر کر

مولانا عبد الرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَنَبِيِكَ وَرَسُولِكَ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ وَعَلَى آلِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيـَّتِهِ واصحبہ وبارک وَسَلِّمْ عَدَدَ خَلْقِكَ وَرِضَاءَ نَفْسِكَ وَزِنَةَ عَرْشِكَ وَمِدَادَ كَلِمَاتِكَ

 

11/12/2022

Yaad Aaqa Ko Baar Baar Karen

چارۀ رنجِ دل فگار کریں 

یاد آقا ﷺ کو بار بار کریں 

لطفِ جنت جنہیں اٹھانا ہو
سیرِ شہرِ دیارِ یار کریں

یاد دل میں بسا کے اُس گُل کی
اپنی  ہستی کو مشکبار کریں

مضمحل جان پائے گی تسکیں
مدحتِ شاہِ ذی وقار کریں

پی کے جام اُن کے عشق کا خود کو
خوابِ غفلت سے ہوشیار کریں

آ کے زیرِ  لِوائے شہ خود کو
زیرِ الطافِ کردگار کریں

اہلِ دنیا ! انا بُری خو ہے
خاکساری کو اختیار کریں

ائے رضؔا اُن  پہ سب عیاں ہیں، پھر
کیا بیاں حالِ قلبِ زار کریں

🖋️از سید رضا علی اورنگ آباد مہاراشٹر

26/11/2022

Itna kafi Hai Zindagi ke liye

اتنا کافی ہے زندگی کے لیے
رکھ لیں آقا جو نوکری کے لیے

ماہ و خورشید ان کی چوکھٹ پر
روز آتے ہیں روشنی کے لیے

دونوں عالم بنائے مولا نے
یا نبی صرف آپ ہی کے لیے

تک کے اُن کو ایوب کے گھر نے
محل ترسے ہیں جھونپڑی کے لیے

لمبے سجدے کیے نبیﷺ نے کہا
اے نواسے تیری خوشی کے لیے

آ گئے قبر میں بھی چھڑوانے
درد کتنا ہے اُمتی کے لیے

دید مانگی ہے اُن کی اے حاکم
میں نے بس وقتِ آخری کے لیے

 

22/11/2022

Tujhe Salam

اسلام کے اے مَردِ مجاہد تجھے سلام
اے کاروانِ عشق کے مُرشِد تجھے سلام

آواز تیری شعلہ و شمشیر بن گئی 
اے جانشینِ "طارق و خالد " تجھے سلام

تو دے گیا ہے عشقِ نبی کو نئی حیات
اعداد اور شمار سے زائد تجھے سلام

تاعمر کی حفاظتِ ناموسِ مصطفیٰ
اے سُنّیوں کے رہبرِ راشد تجھے سلام

نبضِ جہاں ٹھہر گئی تیری وفات پر
سب رو کے کہہ رہے ہیں اے قائد تجھے سلام

لکھّی ہوئی رہے گی دلوں پر تری حیات
تازہ رہیں گے تیرے شواہد ، تجھے سلام

جبر و ستم کی چھاؤں میں بھی تو ڈٹا رہا
رسمِ حُسَینیت کے مُجدّد تجھے سلام

میداں کو تو نے سجدہ گہِ عشق کر لیا
اے کربلائے وقت کے عابد تجھے سلام

پیغامِ حق سنایا بھی ، اُس پر چلایا بھی
اے عشقِ مصطفائی کے قاصد تجھے سلام

تجھ پر فدا اے ختم نبوت کے پہریدار
اے پاسبانِ باغِ عقائد تجھے سلام

کردار میں بھری تھیں عزیمت کی بجلیاں
تجھ کو جھکا سکے نہ شَدائد، تجھے سلام

ماں باپ سے بھی بڑھ کے ہمیں تو عزیز ہے
اے جلوۂ خودی کے مُشاہد تجھے سلام

اعزاز میں جبینِ جہاں ہے جھکی ہوئی
سب کر رہے ہیں غائب و شاہد، تجھے سلام

فکر رضا میں ڈھل گیا تیرا وجودِ ناز
محرابِ حق پرستی کے ساجد تجھے سلام

ملت میں روحِ عشق کو بیدار کردیا
ہیں سارے اہلِ حق ترے حامد ، تجھے سلام

اے سنیت کے شیر ، نہ بھولیں گے ہم تجھے
حاصل کریں گے تیرے مقاصد ، تجھے سلام

مشغول ہیں دعا میں فریدی کے جان و دل
فضلِ خدا ہو تیرا مُساعِد تجھے سلام

از فریدی صدیقی مصباحی مسقط عمان

 

08/11/2022

Charcha Ghous E Azam Ka

زمانے میں ہر اک جانب ہے چرچا غوث اعظم کا 
ہر اک جن وبشر رہتا ہے شیدا غوث اعظم کا

بنایا غوث نے اک چور کو ابدال پل بھر میں
اسی سے جان لو کیسا ہے رتبہ غوث اعظم کا

تمہیں جائز ہے کوا نجدیو پھر شوق سے کھاؤ 
ہمارے واسطے کافی ہے مرغا غوث اعظم کا 

خدا نے کس قدر اعلیٰ کیا ہے مرتبہ ان کا
کہ کل ولیوں کی گردن پر ہے تلوا غوث اعظم کا 

کوئی عاشق شہ جیلاں کا صدقہ کھائے کیا حیرت
"زمانہ پل رہا ہے کھا کے ٹکڑا غوث اعظم کا"

ولایت کی جہاں خیرات بنٹتی ہے جہاں بھر میں
علی شیر خدا بابا ہے کس کا ؟ غوث اعظم کا 

ہر اک غوث و قطب ابدال جن پر ناز کرتے ہیں 
ہے بغداد معلی میں وہ روضہ غوث اعظم کا

خدا کے فضل سے اور شاہ بطحا کی عنایت سے
زہے قسمت شکیل احمد ہے منگتا غوث اعظم کا

از۔شکیل نان پوری،سیتا مڑھی بہار

 

07/11/2022

Sultan E Auliya ko Hamara Salam Ho

سلطانِ اولیاء کو ہمارا سلام ہو

جِیلاں کے پیشوا کو ہمارا سلام ہو

پیارے حَسن حُسین کے، حیدر کے لاڈلے
محبوبِ مصطَفٰے کو ہمارا سلام ہو

وہ غوث جس کے خوف سے جِنّات کانپ اُٹھیں
اُس دافعِ بلا کو ہمارا سلام ہو

چھوڑا ہے ماں کا دودھ بھی ماہِ صِیام میں
سرتاجِ اتقیا کو ہمارا سلام ہو

سب اَولیاکی گردنیں زیرِ قدم ہیں خم
سردارِ اصفیا کو ہمارا سلام ہو

دل کی جو بات جان لے روشن ضمیر ہے
اُس مردِ باصفا کو ہمارا سلام ہو

بھٹکے ہوؤں کو راستہ سیدھا دکھا دیا
عالَم کے رہنما کو ہمارا سلام ہو

گرتے سنبھالیں، ڈوبتی کِشتی بچائیں جو
غمخوارِ غم زَدہ کو ہمارا سلام ہو

پوری مُراد جو کرے اور جھولیاں بھرے
اُس مَخزنِ عطا کو ہمارا سلام ہو

اِذنِ خدا ئے پاک سے مُردے جِلائے جو
اُس مَظہرِ خدا کو ہمارا سلام ہو

کہہ کر کے’’ لَاتَخَف‘‘ ہمیں بے خوف کردیا
اُس رحمتِ خدا کو ہمارا سلام ہو

پڑھتے رہو مُدام یہ عطارؔ قادِری
سلطانِ اولیا کو ہمارا سلام ہو

 

05/11/2022

Ghous E Azam Baman E Be Saro Saman Madade

غوث اعظم بمنِ بے سرو ساماں مد دے
قبلۂ دیں مد دے، کعبۂ ایماں مدد دے

ہند میں رہتا ہوں، دل رکھتا ہوں سوئے بغدادؔ
نگۂ لطف اِدھر اے شہ جیلاں مدد دے

داغِ دل کھول کے دکھلا نہیں سکتا لیکن
نذر میں لایا ہوں اک چاکِ گریباں مدد دے

پھر بہار آئے تو زنجیر بکف ہو کے پڑھوں
سلسلے والوں میں ہوں اے شہِ پیراں مد دے

تیرے دربار کی پیزاروں کا رکھوالا ہوں
اپنے اس منصبِ عالی پہ ہوں نازاں مد دے

میں تہی دست ہوں، نذرانۂ سر لایا ہوں
لاج رکھ لے مرے آقائے غلاماں مدد دے

سارے ولیوں کے سروں پہ قدمِ عالی ہے
ایک ٹھوکر، کہ مرا سر بھی ہو رقصاں مد دے

شاہِ حمزہ کی غزل پڑھ کے نواسنج ہوں میں
مہر اشرفؔ پہ ہو اے ماہ درخشاں مدد دے

 

04/11/2022

Shah E Jeelan Peer Peeran

شاہِ جیلاں پیرِ پیراں
مرشد میرے غوث پاک

اپنے در پر اپنے منگتے کو بُلائیں غوثِ پاک
اور اپنی دید کا شربت پِلائیں غوثِ پاک

ہو رہی ہے آپ کی ہم پر عطائیں غوثِ پاک
کیوں نہ پھر ہم آپ کے نعرے لگائیں غوثِ پاک

ہے وہ تیرا دبدبہ کہ تیرے نامِ پاک سے
ہر طرح کے ہیں سبھی جنّ و بَلائیں غوثِ پاک

آپ میرے دل جگر میں اور آنکھوں میں رہیں
یاد بن کر میری نس نس میں سمائیں غوثِ پاک

بے وفا ہیں ہم نبھا پائیں نہ کچھ بھی آپ سے
حشر تک بس آپ ہی ہم کو نبھائیں غوثِ پاک

جاکنی کا وقت ہے بحرِ علی المرتضٰی
اپنے خاکی کے سرہانے آپ آئیں غوثِ پاک

 

03/11/2022

Masha Allah Ya Abdul Qadir

آل نبی اولاد علی ہیں قطب ربانی

ولیوں کے سردار ہیں میرے غوث پیا جیلانی
ہے محبوبِ سبحانی عبدالقادر جیلانی

ماشاء اللہ یا عبد القادر ماشاء اللہ
ماشاء اللہ یا غوثِ اعظم ماشاء اللہ

بدکاروں کو ولی بنا دے چوروں کو ابدال
منگتے در پر آئیں تو کرتے ہیں مالا مال
ان کی عطا کا ان کی سخا کا کوئی نہیں ہے ثانی
ہے محبوبِ سبحانی عبدالقادر جیلانی

ماشاء اللہ یا عبد القادر ماشاء اللہ
ماشاء اللہ یا غوثِ اعظم ماشاء اللہ

پیدا ہوتے ہی رکھتے ہیں رمضاں کے روزے
سحری سے افطاری تک وہ دودھ نہیں پیتے
ماں کے پیٹ سے حفظ ہے اٹھارہ پارے قرآنی
ہے محبوبِ سبحانی عبدالقادر جیلانی

ماشاء اللہ یا عبد القادر ماشاء اللہ
ماشاء اللہ یا غوثِ اعظم ماشاء اللہ

رب کی عطا سے دیتے ہیں وہ مانگنے سے نا دان
ان سے مانگنے آتے ہیں اِس دنیا کے سلطان
اپنے گداؤں کو دیتے ہیں عالم کی سلطانی
ہے محبوبِ سبحانی عبدالقادر جیلانی

ماشاء اللہ یا عبد القادر ماشاء اللہ
ماشاء اللہ یا غوثِ اعظم ماشاء اللہ

سب سے بڑے داتا ہیں وہ تو سب سے بڑے ہیں پیر
یوں ہی نہیں کہتی دنیا ان کو روشن ضمیر
بڑھ جاتا ہے عشق سے ان کے جزبۂ ایمانی
ہے محبوبِ سبحانی عبدالقادر جیلانی

ماشاء اللہ یا عبد القادر ماشاء اللہ
ماشاء اللہ یا غوثِ اعظم ماشاء اللہ

دنیا بھی آباد ہے ہوگی عقبیٰ بھی آباد
تم ہو قادری عکسؔ ہمیشہ رکھنا ہے یہ یاد
جب تک جاں ہے کرتے رہنا اُنکی مدحت خوانی
ہے محبوبِ سبحانی عبدالقادر جیلانی

ماشاء اللہ یا عبد القادر ماشاء اللہ
ماشاء اللہ یا غوثِ اعظم ماشاء اللہ

 

01/11/2022

Yaa Ghous Al Madad

پیروں کے آپ پیر ہیں یا غوث المدد

اہل صفا کے میر ہیں یا غوث المدد

رنج و الم کثیر ہیں یا غوث المدد
ہم عاجز و اسیر ہیں یا غوث المدد

ہم کیسے جی رہے ہیں یہ تم سے کیا کہیں
ہم ہیں الم کے تیر ہیں یا غوث المدد

تیرے نظر سے پھیر دو سارے الم کے تیر
کیا یہ الم کے تیر ہیں یا غوث المدد

تیرے ہی ہاتھ لاج ہے یا پیر دستگیر
ہم تجھ سے دستگیر ہیں یا غوث المدد

کس دل سے ہو بیاں بےداد ظالماں
ظالم بڑے شریر ہیں یا غوث المدد

صدقہ رسول پاک کا جھولی میں ڈال دو
ہم قادری فقیر ہیں یا غوث المدد

دل کی سنائے اخؔتر دل کی زبان میں 
کہتے یہ بہتے نیر ہیں یا غوث المدد

 

31/10/2022

Yaa Ghous

اُلوہیّت نبوّت کے سوا تو
تمام افضال کا قابل ہے یا غوث

نبی کے قدموں پر ہے جز نبوّت
کہ ختم اس راہ میں حائل ہے یا غوث

اُلوہیّت ہی احمد نے نہ پائی
نبوّت ہی سے تو عاطل ہے یا غوث

صحابیّت ہوئی پھر تابعیت
بس آگے قادری منزل ہے یا غوث

ہزاروں تابعی سے تو فزوں ہے
وہ طبقہ مجملاً فاضل ہے یا غوث

کوئی کیا جانے تیرے سر کا رتبہ
کہ تَلوا تاجِ اہلِ دل ہے یا غوث

رضاؔ کے سامنے کی تاب کس میں 
فلک وار اس پہ تیرا ظِلّ ہے یا غوث

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ

 

30/10/2022

Meeran Waliyon ke Imam

 

میراں ولیوں کے امام دے دو پنجتن کے نام ہم نے جھولی ہے پھیلائی بڑی دیر سے
ڈالو نظر کرم سرکار اپنے منگتوں پہ اک بار ہم نے آس ہے لگائی بڑی دیر سے

دل کی کلی میری آج کھلی ہے، آپ ہیں آئے خبر ملی ہے
ذرا دھیرے دھیرے آؤ للہ کرم فرماؤ ہم نے محفل ہے سجائی بڑی دیر سے

قلب و نظر میں نور سمایا ایک سرور سا ذھن پہ چھایا
جب میراں لگے پلانے میرے ہوش لگے ٹھکانے ایسی پی ہے میں نے مئے دستگیر سے

تم جو بناؤ بات بنے گی دونوں جہاں میں لاج رہے گی
لجپال کرم اب کردوں منگتوں کی جھولی بھر دو بھر دو کاسہ میرا پنجتنی خیر سے

روتے روتے عمر گزاری کب آئے گی اپنی باری
ذرا جلوہ ہمیں دکھا دو میرے دل کی کلی کھلا دو میں نے بپتا ہے سنائی بڑی دیر سے

مشکل جب بھی سر پہ آئی تیری رحمت آڑے آئی
جب میں نے تمہیں پکارا کام آیا تیرا سہارا چلتا عاصؔی کا گزارا تیری خیر سے

22/10/2022

Huzoor Agaye Hain


ﻓﻠﮏ ﮐﮯ ﻧﻈﺎﺭﻭ، زمیں کی ﺑﮩﺎﺭﻭ

ﺳﺐ ﻋﯿﺪﯾﮟ ﻣﻨﺎﺅ، ﺣﻀﻮﺭﷺ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍُﭨﮭﻮ ﻏﻢ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﻭ، چلو بے سہارو
ﺧﺒﺮ ﯾﮧ ﺳﻨﺎﺅ، ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ

ﺍﻧﻮﮐﮭﺎ ﻧﺮﺍﻻ، ﻭﮦ ﺫﯾﺸﺎﻥ ﺁﯾﺎ
ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﺭﺳﻮﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺁﯾﺎ
ﺍﺭﮮ ﮐﺞ ﮐﻼ ﮨﻮ، ﺍﺭﮮ ﺑﺎﺩ ﺷﺎﮨﻮ
ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ ﺟﮭﮑﺎﺅ، ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ

ﮨُﻮﺍ ﭼﺎﺭ ﺳﻮ ﺭﺣﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺴﯿﺮﺍ
ﺍُﺟﺎﻻ ﺍُﺟﺎﻻ، ﺳﻮﯾﺮﺍ ﺳﻮﯾﺮﺍ
ﺣﻠﯿﻤﮧ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﯽ، ﺧﺒﺮ ﺁﻣﻨﮧ ﮐﯽ
ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﺅ، ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ

ﮨﻮﺍﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﻣﺮﺣﺒﺎ ﮐﮯ
ﻓﻀﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻐﻤﺎﺕ ﺻَﻞِّ ﻋَﻠٰﯽ ﮐﮯ
ﺩﺭﻭﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﮔﺠﺮﮮ، ﺳﻼﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﺤﻔﮯ
غلاموں ﺳﺠﺎﺅ، ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﺁ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ

ﺳﻤﺎﮞ ﮨﮯ ﺛﻨﺎﺀِ ﺣﺒﯿﺐِ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ
ﯾﮧ ﻣﯿﻼﺩ ﮨﮯ ﺳﺮﻭﺭِ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﮐﺎ
ﻧﺒﯽ ﷺ ﮐﮯ ﮔﺪﺍﺅ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ
گلے سے لگاؤ، ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ

ﮐﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻇﮩﻮﺭﯼ ﮐﮩﺎﮞ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ
ﮐﺮﻡ ﮨﯽ ﮐﺮﻡ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺩﻥ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺗﯿﮟ
ﺟﮩﺎﮞ پر ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺅ، ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﮕﺎﺅ
ﯾﮩﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﺟﺎﺅ، ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ

 

20/10/2022

Haal e Dil Kis Ko Sunayen

حالِ دل کس کو سنائیں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے
کیوں کسی کے در پہ جائیں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے

میں غلام مصطفی ﷺ ہوں یہ مری پہچان ہے
غم مجھے کیوں کر ستائیں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے

شانِ محبوبی دکھائی جائے گی محشر کے دن
کون دیکھے گا خطائیں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے

زلفِ محبوب خدا لہرائے گی محشر کے دن
خوب یہ کس کی گھٹائیں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے

میں یہ کیسے مان جاؤں شام کے بازار میں
چھین لے کوئی ردائیں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے

اپنا جینا اپنا مرنا اب اسی چوکھٹ پہ ہے
ہم کہاں سرکار جائیں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے

کہہ رہا ہے آپ کا رب “اَنتَ فِیھِم” آپ سے
میں انہیں دوں کیوں سزائیں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے

یہ تو ہو سکتا نہیں ہے یہ بات ممکن ہی نہی
میرے گھر آلام آئیں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے

کون ہے الطافؔ اپنا حال دل کس سے کہیں
زخم دل کس کو دکھائیں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے

 

19/10/2022

Woh Mera Nabi hai

وہ جس کے لئے محفل کونین سجی ہے
فردوس بریں جس کے وسیلے سے بنی ہے
وہ ہاشمی مکّی مدنیُ العربی ہے
وہ میرا نبی ، میرا نبی ، میرا نبی ہے

احمد ہے محمد ہے وہی ختم ِ رُسل ہے
مخدوم و مربّی ہے وہی والئ کل ہے
اُس پر ہی نظر سارے زمانے کی لگی ہے
وہ میرا نبی ، میرا نبی ، میرا نبی ہے

والشمس ضحٰی چہرہء انور کی جھلک ہے
والیل سجیٰ گیسوئے حضرت کی لچک ہے
عالم کو ضیاء جس کے وسیلے سے ملی ہے
وہ میرا نبی ، میرا نبی ، میرا نبی ہے

اللہ کا فرماں الم نشرح لک صدرک
منسوب ہے جس سے ورفعنا لک ذکرک
جس ذات کا قرآن میں بھی ذکر جلی ہے
وہ میرا نبی ، میرا نبی ، میرا نبی ہے

مُزّمل و یٰسین و مدّثر و طٰہٰ
کیا کیا نئے القاب سے مولا نے پکارا
کیا شان ہے اس کی کہ جو اُمّی لقبی ہے
وہ میرا نبی ، میرا نبی ، میرا نبی ہے

وہ ذات کہ جو مظہر لو لاک لما ہے
وہ صاحب رب ہے اسے معراج ہوئی ہے
اسریٰ میں امامت جسے نبیوں کی ملی ہے
وہ میرا نبی ، میرا نبی ، میرا نبی ہے

کس درجہ زمانے میں تھی مظلوم یہ عورت
پھر جس کی بدولت ملی اسے عزت و رفعت
وہ محسن و غم خوار ہمارا ہی نبی ہے
وہ میرا نبی ، میرا نبی ، میرا نبی ہے

 

25/09/2022

Jaga Ji Lagane Ki Duniya Nahi Hai

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سُو نمونے
مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ و بُو نے
کبھی غور سے بھی دیکھا ہے تو نے
جو معمور تھے وہ محل اب ہیں سُونے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

ملے خاک میں اہلِ شاں کیسے کیسے
مکیں ہو گئے لا مکاں کیسے کیسے
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی نوجواں کیسے کیسے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

اجل نے نہ کسریٰ ہی چھوڑا نہ دارا
اسی سے سکندر سا فاتح بھی ہارا
ہر ایک چھوڑ کے کیا کیا حسرت سدھارا
پڑا رہ گیا سب یہیں ٹھاٹ سارا
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

تجھے پہلے بچپن میں برسوں کھلایا
جوانی نے پھر تجھ کو مجنوں بنایا
بڑھاپے نے پھر آ کے کیا کیا ستایا
اجل تیرا کر دے گی بالکل صفایا
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

یہی تُجھکو دُھن ہے رہوں سب سے بالا
ہو زینت نرالی ہو فیشن نرالا
جیا کرتا ہے کیا یونہی مرنے والا 
تجھے حسنِ ظاہر نے دھوکے میں ڈالا
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

بڑھاپے سے پاکر پیامِ قضا بھی
نہ چونکا نہ چیتا نہ سنبھلا ذرا بھی
کوئی تیری غفلت کی ہے انتہا بھی
جنوں چھوڑ کر اب ہوش میں آ بھی
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

جب اس بزم سے اٹھ گئے دوست اکثر
اور اٹھتے چلے جا رہے ہیں برابر
یہ ہر وقت پیشِ نظر جب ہے منظر
یہاں پر ترا دل بہلتا ہے کیوں کر
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

یہ دنیائے فانی ہے محبوب تجھ کو
ہوئی واہ کیا چیز مرغوب تجھ کو
نہیں عقل آئی مجذوبؔ تجھ کو
سمجھ لینا اب چاہیے خوب تجھ کو
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

 

17/09/2022

Main To Panjatan Ka Ghulam Hoon

 

میں تو پنجتنؑ کا غلام ہوں 
میں غلام ابنِ غلام ہوں
مجھے عشق ہے تو خدا سے ہے 
مجھے عشق ہے تو رسولؐ سے
یہ کرم ہے سارا بتولؑ کا
میرے منہ سے آئے مہک سدا 

جو میں نام لوں تیرا جھوم کے
میں تو پنجتنؑ کا غلام ہوں 

مجھے عشق سرو و سمن سے ہے 
مجھے عشق سارے چمن سے ہے
مجھے عشق ان کی گلی سے ہے 
مجھے عشق ان کے وطن سے ہے
مجھے عشق ہے تو علیؑ سے ہے 
مجھے عشق ہے تو حسنؑ سے ہے
مجھے عشق ہے تو حسینؑ سے 
مجھے عشق شاہِ زمن سے ہے

میں تو پنجتنؑ کا غلام ہوں 
میں غلام ابنِ غلام ہوں

ہوا کیسے تن سے وہ سر جدا 
جہاں عشق ہو وہیں کربلا
میری بات انہی کی بات ہے 
میرے سامنے وہی ذات ہے
وہی جن کو شیرِ خدا کہیں 
جنہیں بابِ صِلّ علیٰ کہیں
وہی جن کو آلِ نبیؐ کہیں 
وہی جن کو ذاتِ علیؑ کہیں

وہی پختہ ہیں میں تو خام ہوں
میں تو پنجتنؑ کا غلام ہوں

میں قمر ہوں شاعرِ بے نوا
میری حیثیت ہی بھلا ہے کیا
وہ ہیں بادشاہوں کے بادشاہ
میں ہوں ان کے در کا بس اک گدا
میرا پنجتن سے ہے واسطہ
میرا نسبتوں کا ہے سلسلہ

میں فقیرِ خیرالانام ہوں
میں تو پنجتنؑ کا غلام ہوں 

میرا شعر کیا میرا ذکر کیا 
میری بات کیا میری فکر کیا
میری بات ان کے سبب سے ہے 
میرا شعر ان کے ادب سے ہے
میرا ذکر ان کے طفیل سے  
میری فکر ان کے طفیل سے
کہاں مجھ میں اتنی سکت بھلا 
کہ ہو منقبت کا بھی حق ادا

میں مریدِ خیرالانام ہوں
میں تو پنجتنؑ کا غلام ہوں

(الحاج ڈاکٹر محمد یوسف قمر)

12/09/2022

Aye Rasul E Hashmi

Muntazir Hun Phir Karam Ka A Rasool E Hashmi
Jald Dekhon Dar Tumhara A Rasool E Hashmi

Kyun Na Main Honton Se Chomun Aur Lagaon Aankhon Se
Hai Tumhara Naam Pyara A Rasool E Hashmi

Jab Bhi Mushkil Paish Aayi Aagye Dar Par Gada
De Diya Tum Ne Sahara A Rasool E Hashmi

Jam Apne Ishq Ka Hum Ko Pilaya Aap Ne
Aap Ne Hum Ko Sanwara A Rasool E Hashmi

Aap Ki Ummat Paresha’n Hai Shaha Is Dehr Main
Ho Karam Ka Ik Ishara Ya Rasool E Hashmi

Aap Hi Faryad Sunte Hain Humari Aap Par
Haal E Dil Hai Aashkara A Rasool E Hashmi

Bakht E Shakir Ko Jaga Do Aur Aata Kar Do Ise
Apne Rauze Ka Nazara A Rasool E Hashmi

Kalam: Ameer e Sunni Dawat e Islami
Maulana Shakir Ali Noori

 

10/09/2022

Mustafa Ke Baad Nabi Koi Nahi Hai

ہم ختمِ نبوت کی حفاظت کے امیں ہیں
ہم زندہ و بیدار ہیں مردار نہیں ہے
کوئی نہیں کوئی نہیں کوئی نہیں ہے 
مصطفٰےﷺ کے بعد نبی کوئی نہیں ہے

میں ختم نبیین ہو فرمانِ محمد ﷺ
بعد ان کے نہیں کوئی نبی شانِ محمدﷺ
اس شان پہ امت ہوئی قربانِ محمدﷺ

اَکْمَلْتُ لَکُمْ ختمِ نبوت کی بشارت
اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ اس نعمت کی وضاحت
ہاں دین فروشی کی نہیں ہم کو ہے عادت

ہم حاجِب و دربارن ہیں غدار نہیں ہیں
ہم فرش پہ چلتے ہیں مگر خُلد نشیں ہیں
ہم عشق کا پیکر ہیں گنہگار نہیں ہیں

جو مکر کرے اس کیلئے تیغِ خدا ہیں
ہم ختمِ نبوت کے عقیدے پہ فدا ہیں
مرزا کے طرف دار تو برباد صدا ہیں

آدم سے جو پہلے تھے نبی ہیں وہی عاقب
وہ ختمِ رسولاں ہیں عقیدہ یہی واجب
ہوشیار ہیں پرجوش ہیں کہہ دیجئے ثاقؔب

 

07/09/2022

Khatam E Nabwat Zindabad

یہ فیصلہ ہے اپنا یہی بات ہے آخر

ہے ختم نبوت کے لیے جان بھی حاضر

اسلام کی بنیاد ہے یہ ختمِ رسالت
ہے نقش دلوں پہ نبی کی مہر نبوت

جب لا نبی بعدی محمد نے کہا ہے
اب جو نبی کا دعوی کرے جھوٹا بڑا ہے

واللہ ادھورا تھا نبوت کا محل بھی
سرکار کے آنے سے ہی تکمیل ہوئی تھی

صدیق کی تلوار نے کذاب کو مارا
یوں ختم نبوت پہ کڑا پہرہ لگایا

مرزائی قادیانی ہیں کافر بڑے کافر
نہ شک کرو اسلام سے ہو جاؤ گے باہر

گھربار بھی اولاد بھی سرکار پہ قربان
اس نام پہ قربان ہے ہر ایک مسلمان

سرکار کی تعریف میں قرآن کے پارے
وہ آخری نبی ہیں یہ قرآن پکارے

میں ختم نبوت کا محافظ ہوں اجاگر
پیچھے نہ ہٹوں گا بھلے کٹ جائے میرا سر

 

06/09/2022

Ustad E Mohtarm

کتنی محبتوں سے پہلا سبق پڑھایا 
میں کچھ نہ جانتا تھا، سب کچھ مجھے سکھایا
اَن پڑھ تھا اور جاہل ، قابل مجھے بنایا
دنیا ئے علم و دانش کا راستہ دکھایا
اے دوستو ملیں تو بس ایک پیام کہنا
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا

مجھ کو خبر نہیں تھی، آیاہوں میں کہاں سے
ماں باپ اس زمیں پر لائے تھے آسمان سے
پہنچا دیافلک تک استاد نے یہاں سے
واقف نہ تھا ذرا بھی، اتنے بڑے جہاں سے
مجھ کو دلایا کتنا اچھا مقام کہنا
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا

جینے کا فن سکھایا،مرنے کا بانکپن بھی
عزت کے گر بتائے ، رسوائی کے چلن بھی
کانٹے بھی راہ میں ہیں ،پھولوں کی انجمن بھی
تم فخرِ قوم بننا اور نازشِ وطن بھی
ہے یاد مجھ کو ان کا ایک اک کلام کہنا
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا

جو عِلم کا عَلم ہے، استاد کی عطا ہے
ہاتھوں میں جو قلم ہے، استاد کی عطا ہے
جو فکر تازہ دم ہے، استاد کی عطا ہے
جو کچھ کیا رقم ہے، استاد کی عطا ہے
اُن کی عطا سے چمکا، حاطبؔ کا نام کہنا
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا

 

03/09/2022

Ummat ko aye Khudaya

امت کو اے خدایا تیرا ہی آسرا ہے
شیرازہ اس کا بکھرا تیرا ہی آسرا ہے

غیروں نے ظلم توڑا اپنوں نے ہائے چھوڑا
دے دے تو ہی سہاراتیرا ہی آسرا ہے

دل خون رو رہا ہے رنجور ہو رہا ہے
حالات نے ستایا تیرا ہی آسرا ہے

دشمن ملے ہوئے ہیں جنگ پر تلے ہوئے ہیں
چاروں طرف سے گھیرا تیرا ہی آسرا ہے

پھر سے کوئی عمر دے اعدا کی جو خبر لے
ہر ایک نے پکارا تیرا ہی آسرا ہے

بندوں کو اپنے دے دے اسباب زندگی کے
ظلم و ستم نے مارا تیرا ہی آسرا ہے

کرتا ہے التجا اب تیرا عبید یا رب
کر دے کرم خدایا تیرا ہی آسرا ہے

 

01/09/2022

Aye Naam E Muhammad Salle Ala



اے نامِ محمد صل علی سبحان اللہ سبحان اللہ

دی جس نے ہمارے دلوں کو جلا سبحان اللہ سبحان اللہ

گیسو والیل اذا یغشیٰ یسین جبیں عارض طٰہ
ماذاغ کا آنکھوں میں سرمہ سبحان اللہ سبحان اللہ

تنویر ہے قلبِ فطرت کی تفسیر ہے راز وحدت کی
وہ پیکر نوری صل علےٰ سبحان اللہ سبحان اللہ

قرآن اٹھا کر دیکھ ذرا معلوم تجھے ہو جائے گا
ہے قول محمد قول خدا سبحان اللہ سبحان اللہ

جب پایا اشارہ انگلی کا دو ٹکڑے فلک پر چاند ہوا
ڈوبا ہوا سورج پلٹا سبحان اللہ سبحان اللہ

ہے قول خدائے جن و بشر انا اعطینک الکوثر
رب نے جو دیا کثرت سے دیا سبحان اللہ سبحان اللہ

معراج کی شب معلوم ہوا عالم کو تیری رفعت کا پتہ
ہے قدموں کے نیچے عرش علیٰ سبحان اللہ سبحان اللہ

خالق بھی ساتھ فرشتوں کے بھیجے درودوں کے تحفے
یہ شان تیری رتبہ یہ تیرا سبحان اللہ سبحان اللہ

پتھر تھے بندھے بالائے شکم بوسیدہ قبا تھی زیب تن
شاہنشاہ دو عالم کی یہ ادا سبحان اللہ سبحان اللہ

ہم رات کو شب بھر سوتے ہیں امت کے وہ غم میں روتے ہیں
ہم جرم کریں وہ عفو عطا سبحان اللہ سبحان اللہ

اعمال نا دیکھے یہ دیکھا محبوب کے کوچے کا ہے گدا
مولا نے مجھے یوں بخش دیا سبحان اللہ سبحان اللہ

جب میں نے سنائی نعت نبی سن ہو گیا نجدی سنتے ہی
سنّی نے سنا سن کر یہ کہا سبحان اللہ سبحان اللہ

 

30/08/2022

Ya Rasulallahi Unzur Ha Lana

یا رسول اللہ انظر حالنا
یا حبیب اللہ اسمع قالنا

اننی فی بحر غم مغرق
خذیدی سہل لنا اشکا لنا

یا رسولِ کبریا فریاد ہے
اے میرے حاجت روا فریاد ہے

سخت مشکل میں پھنسا ہوں آج کل
اے میرے مشکل کشا فریاد ہے

گنبد خضریٰ کے جلوے ہو نصیب
یہ کرم یا مصطفٰے فرمائیے 

یا رسول اللہ میری مغفرت
وہ خدا سے یہ دعا فرمائیے

دم لبوں پہ آگیا عطؔار کا
اب قدم رنج شاہا فرمائیے

 

27/08/2022

Simna Ke Tajdar

 

سمناں کے تاجدار سا سلطاں کوئی نہیں

سلطان بہت ہوئے شہہ سمناں کوئی نہیں

اے شاہِ سمناں آپ کے دامن کو چھوڑ کر
بخشش کا میری حشر میں ساماں کوئی نہیں

دار الشّفاء ہے آپ کا دربارِ نور بار
کیسے کہوں کہ درد کا درماں کوئی نہیں

ہیں آپ جیسے ہند میں اولادِ غوثِ پاک
اس شان کا یہاں شہ میراں کوئی نہیں

کیا کیا نہیں دیا مرے مخدوم آپ نے
جامؔی پہ آپ جیسا مہرباں کوئی نہیں

22/08/2022

Bahar E Jaan Fiza Tum Ho

بہار جاں فزا تم ہو نسیم گلستاں تم ہو

بہار باغ رضواں تم سے ہے زیب جناں تم ہو

خدا کی سلطنت کا دو جہاں میں کون دولہا ہے
تمہی تم ہو تمہی تم ہو یہاں تم ہو وہاں تم ہو

حقیقت سے تمہاری جز خدا اور کون واقف ہے
کہے تو کیا کہے کوئی چنیں تم ہو چناں تم ہو

کجا ہم خاک افتادہ کجا تم اے شہہ بالا
اگر مثل زمیں ہم ہیں تو مثل آسماں تم ہو

یہ کیا میں نے کہا مثل سما تم ہو معاذاللہ
منزہ مثل سے ، برتر ز ہر وہم و گماں تم ہو

میں بھولا آپ کی رفعت سے نسبت ہی ہمیں کیا ہے
وہ کہنے بھر کی نسبت تھی کہاں ہم ہیں کہاں تم ہو

میں بے کس ہوں میں بے بس ہوں مگر کس کا تمہارا ہوں
تہہ دامن مجھے لے لو پناہ بے کساں تم ہو

ہمیں امید ہے روز قیامت ان کی رحمت سے
کہ فرمائیں ادھر آؤ نہ مایوس از جناں تم ہو

ستم کارو، خطا کارو ، سیہ کارو، جفا کارو
ہمارے دامن رحمت میں آ جاؤ کہاں تم ہو

تمہارے ہوتے ساتے درد و دکھ کس سے کہوں پیارے
شفیع عاصیاں تم ہوں وکیل مجرماں تم ہو

ریاضت کے یہی دن ہیں بڑھاپے میں کہاں ہمت
جو کچھ کرنا ہے اب کر لو ابھی نوری جواں تم ہو

فقط نسبت کا جیسا ہوں حقیقی نوری ہو جاؤں
مجھے جو دیکھے کہہ اٹھے میاں نوری میاں تم ہو

ثنا منظور ہے ان کی نہیں یہ مُدّعا نوریؔ
سخن سنج و سخنور ہو سخن کے نکتہ داں تم ہو

 

20/08/2022

Aye Baad E Saba

اے باد صبا ان ﷺ کے روضے کی ہوا لے آ  
ہم ہجر کے ماروں کی طیبہ سے دوا لے آ

تن من کو ہمارے جو ایماں کی جِلا بخشے  
سرکار ﷺ کی نگری سے وہ خاکِ شفا لے آ

صدیق سے سچائی، فاروق سے بے باکی  
عثمان سے فیاضی حیدر سے ولا لے آ

ایثار حسن سے اور شبیر سے قربانی  
اجمیر کے خواجہ سے وہ خوف خدا لے آ

میں عشقِ شہِ دیں میں ہو جاؤں فنا اک دن  
ہر سومری شہرت ہو کچھ ایسی کلا لے آ

حسنین و علی زہرا کا سایہ رہے مجھ پر  
نورانی گھرانے کی نورانی ضیا لے آ

ہوں غرق گناہوں میں، اعمال ہیں بد میرے  
آقا ﷺ سے شفاعت کا فرمان ذرا لے آ

آقا ﷺ کے غلاموں کے دل جن سے چمک اٹھیں  
کرنیں ہرے گنبد کی اے باد صبا لے آ

دنیا مری بن جائے، عقبیٰ بھی سنور جائے  
آمین کہیں قدسی وہ حرفِ دعا لے آ

نعتِ شہِ طیبہ ہے، پیشہ میرا آبائی  
نظمیؔ کی کمائی میں برکت کی دعا لے آ

نظمی میاں مارہروی
https://t.me/NaatLyricsTKR
🍃ثـواب حـاصـل کـرنـے کـی نـیـت سـے

زیـادہ سـے زیـادہ شــئـیـر کیجیئے🍃
 

17/08/2022

Ze Rahmat Kun

ترجــــمہ👇🏼

اے اللہ کے رسولﷺ میری تباہ حالی پر کرم کی نظر فرمائیں
کہ میں غریب ہوں بے آسرا ہوں، اور خاک نشیں ہوں

اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کی فرقت کے داغ سے میرا دل کیسا ریزہ ریزہ ہوا ہے
کہ سیکڑوں گلشنوں کی بہار کا تصوّر دل میں لیے ہوئے ہوں

اے اللہ کے رسول آپ ﷺ ہی کی ذاتِ گرامی دل کا سکون روح کا چین اور میرا صبر اور دل کی ڈھارس ہے
آپ ﷺ کا نور سے بھر پُور چہرہ میری بے قرار روح کا چین ہے

آپ ﷺ ہیں میرے آقا میرے سرپرست اور میری جان کے مالک ہیں
آپ ﷺ جانتے ہیں کہ آپ ﷺ کے علاوہ میرا کوئی نہیں ہے

آخری وقت جامؔی کو اپنے دیدار کا جلوہ دیکھا دیجئے
آپ ﷺ کی مہربانی سے اے اللہ کے رسول میں یہی توقع رکھتا ہوں

کـــــــــــــــــــــلام✍🏻
مولانا عبد الرحمن جامی رحمتہ اللہ تعالی علیہ

​https://t.me/NaatLyricsTKR

🍃ثـواب حـاصـل کـرنـے کـی نـیـت سـے
زیـادہ سـے زیـادہ شــئـیـر کیجیئے🍃

 

15/08/2022

Sare Jahan se Achcha Hindustan Hamara


سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی ، یہ گلستاں ہمارا

غربت میں ہوں اگر ہم ، رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو وہیں ہمیں بھی ، دل ہو جہاں ہمارا

پربت وہ سب سے اونچا ، ہم سایہ آسماں کا
وہ سنتری ہمارا ، وہ پاسباں ہمارا

گودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاں
گلشن ہے جن کے دم سے رشکِ جناں ہمارا

اے آبِ رودِ گنگا ، وہ دن ہیں یاد تجھ کو ؟
اترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہيں ہم ، وطن ہے ہندوستاں ہمارا

يونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا

کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہيں ہماری
صديوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا

اقباؔل ! کوئی محرم اپنا نہيں جہاں ميں
معلوم کيا کسی کو دردِ نہاں ہمارا

ڈاکٹر اقبال

 

13/08/2022

Ek Yazeed Tha Hussain Hai

یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے
فضلِ کبریا حسین ہے
 
کیا بتاؤں کیا حسین ہے
میرا مدَّعا حسین ہے

بات ہے بس اتنی مختصر
اِک یزید تھا حسین ہے

کیسے ہو سکے گا یہ فنا
دین کی بقاء حسین ہے

وعدۂ نبیﷺ کیا وفا
ایسا با وفا حسین ہے

کربلا نے دے دیا ثبوت
دین میں کھرا حسین ہے

صبر و شکر کا ہے منتہا
پیکرِ رضا حسین ہے

مرتضیٰ کا ہے وہ شاہکار
آلِ مصطفیٰ حُسین ہے

کربلا میں آخری نماز
کر گیا ادا حُسین ہے

خلد ہے انہی کی ملکیت
جن کا مقتدیٰ حسین ہے

ارفؔق آپ کی ہیں جنتیں
کیونکہ آپ کا حسین ہے

 

11/08/2022

Karbala Ke Jaan Nesaroon Ko Salam

کَربَلا کے جاں نِثاروں کو سلام

فاطِمَہ زَہرا کے پیاروں کو سلام

مُصطفٰی کے ماہ پاروں کو سلام
نوجوانوں گُل غذاروں کو سلام

کَربَلا تیری بہاروں کو سلام
جاں نِثاری کے نظاروں کو سلام

یا حُسین اِبنِ علی مُشکل کُشا
آپ کے سب جانثاروں کو سلام

اَکبر و اَصغر پہ جاں قُربان ہو
میرے دِل کے تاجداروں کو سلام

قاسِم و عبّاس پر لاکھوں دُرُود
کَربَلا کے شَہسواروں کو سلام

جِس کِسی نے کَربَلا میں جان دی
اُن سبھی اِیمانداروں کو سلام

بُھوکی پیاسی بِیبیوں پر رحمتیں
بُھوکے پیاسے گُل عذاروں کو سلام

بھید کیا جانے شہادَت کا کوئی
اُن خدا کے رازداروں کو سلام

بے بسی میں بھی حیا باقی رہی
اُن حسینی پَردہ داروں کو سلام

رحمتیں ہوں ہر صحابی پر مُدام
اَور خصُوصاً چار یاروں کو سلام

بِیبیوں کو عابدِ بِیمار کو
بےکسوں کو سب بے چاروں کو سلام

ہوگئے قُربان مُحَمَّد اَور عَون
سیّدہ زینب کے پیاروں کو سلام

کَربَلا میں میں ظُلم کے ٹُوٹے پہاڑ
جِن پہ اُن سب دِلفِگاروں کو سلام

آل و اصحابِ نبی کے جِس قَدر
چاہنے والے ہیں ساروں کو سلام

یا خُدا اے کاش پِھر جا کر کہوں
کَربَلا کے سب مزاروں کو سلام

تِین دِن کے بُھوکے پیاسے آپ کی
یانبی آنکھوں کے تاروں کو سلام

جو حُسینی قافلے میں تھے شرِیک
کہتا ہے عطارؔ ساروں کو سلام...!

✍... امیرِ اہلسنّت مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری صاحب

 

09/08/2022

Nana Hain Yaad Aaye Hue

بس اب تو رہتے ہیں آنکھوں میں اَشک آئے ہوئے

زمانہ بِیت گیا ہم کو مُسکرائے ہوئے

غمِ حُسینؑ کا گھاؤ ہے کس قدر گہرا
یہ اُن سے پُوچھ جو ہیں دِل پہ چوٹ کھائے ہوئے

نبیؐ کے گھر کے اُجالوں کا اب خدا حافظ
اندھیرے شامِ ستم کے ہیں سر اُٹھائے ہوئے

لگی ہے بھیڑ غم و رنج و درد و کُلفت کی
ہم اپنے دِل میں ہیں اِک کربلا بسائے ہوئے

عجیب وقت ہے زہراؑ کے گُل عِزاروں پر
سکینہؑ پیاسی ہے، اصغرؑ ہیں تیر کھائے ہوئے

یہ ناتوانی، یہ رستے کی سختیاں سجادؑ!
چلو گے کیسے بھلا بیڑیاں اُٹھائے ہوئے

نمازِ عشق کی یہ طُرفگی کوئی دیکھے
حُسینؑ سجدے سے اُٹھے تو سر کٹائے ہوئے

شکست دے نہ سکی عزمِ ابنِ حیدرؑ کو
اجل کھڑی ہے ندامت سے منہ چُھپائے ہوئے

سبب خموشی کا پوچھا گیا جو زینبؑ سے
تو رو کے بولیں کہ ناناؐ ہیں یاد آئے ہوئے

یہ شب کہیں شبِ عاشُور تو نہیں لوگو
اُداس چاند ہے تارے ہیں جِھلملائے ہوئے

پلٹ کے آئے نہ اب تک مِرے چچا عبّاسؑ
سکینہؑ روتی ہے دستِ دعا اُٹھائے ہوئے

نڈھال کر گئی اصغرؑ کی آخری ہچکی
حُسینؑ خمیے میں آئے کمر جُکھائے ہوئے

بھٹک رہی ہے ابھی تک تلاش میں منزل
گُزر گیا ہے کوئی کارواں لُٹائے ہوئے

وہ حق پرست سرِ منزلِ وفا پہنچے
خدا کی یاد کو زادِ سفر بنائے ہوئے

ہم اہلِ دل ہیں، ہمیں اہلِ زر سے کیا مطلب
ہم اپنے شاہِؑ نجف سے ہیں لَو لگائے ہوئے

نصِیرؔ! گُلشنِ زہراؑ کے پیاسے پُھولوں کو
سَلام کہتے ہیں آنکھوں میں اَشک آئے ہوئے 

سیّدپِیرنصِیرالدّین نصِیرؔ جیلانی
رحمتُ اللّٰه تعالٰی علیہ، گولڑہ شریف

 

Husain Tumko Zamana Salam kehta Hai

تمہارے سجدے کو کعبہ سلام کہتا ہے

جلالِ قبۂ خضریٰ سلام کہتاہے
چمن کا ہر گل وغنچہ سلام کہتاہے
حسین تم کو زمانہ سلام کہتا ہے

چراغ و مسجد ومنبر سلام کہتے ہیں
نبی رسول و پیمبر سلام کہتے ہیں
علی و فاطمہ شبّر سلام کہتے ہیں
خدا گواہ کہ نانا سلام کہتا ہے

تمھیں فلک کے ستارے سلام کہتے ہیں 
تمھیں قرآن کے پارے سلام کہتے ہیں 
تمھیں حرم کے منارے سلام کہتے ہیں 
امام تم کو مدینہ سلام کہتا ہے 

خدا کی راہ میں سر کو کٹادیا تم نے
نبی کے دین پہ گھر کو لٹادیا تم نے
نشانِ کفر کو یکسر مٹادیا تم نے
تمہیں خدا بھی تمہارا سلام کہتا ہے

ثنا تمہاری وظیفہ ھے میرا آبائی
تمہاری مدح تو شیوہ ہے میرا مولائی
بس اک نظر ہو جو مجھ پر تو میری بن آئی 
تمہارا سیدِ شیدا سلام کہتا ہے    

نتیجۂ فکر: حضرت سید شاہ آل مصطفیٰ سید میاں مارہروی قدس سرہٗ

 

08/08/2022

Mera Badshah Hussain Hai

یہ بات کس قدر حسیں جو کہہ گئے معین الدیں

کہ دین کی پناہ حسین ہے میرا بادشاہ حسین ہے
امن کا مہر و ماہ بھی جو شاہوں کا ہے شاہ بھی
ایسا بادشاہ حسین ہے میرا بادشاہ حسین ہے

ہے جس کی فکر کربلا حسین وہ دماغ ہے
یہ پنجتن کی انجمن کا پانچواں چراغ ہے
حسن کا پہلا ہمسفر علی کا دوسرا پِسر
امام تیسرا حسین ہے میرا بادشاہ حسین ہے

کرے کوئی جو ہمسری کسی کی کیا مجال ہے
حسین ہر لحاظ سے جہان بے مثال ہے
یہ ہو چکا ہے فیصلہ نہ کوئی دوسرا خدا 
نہ کوئی دوسرا حسین ہے میرا بادشاہ حسین ہے

ہدایت حسین پر عمل کرو اے مومنو
رہیں گے ہم بہشت میں یقیں رکھو اے مومنو
قبول ہوگی ہر دعا کسی سے کیوں ڈریں بھلا
ہمارا واسطہ حسین ہے میرا بادشاہ حسین ہے

دعاؤوں میں نداؤں میں جو واسطہ اسے بنائے گا
بہشت کی جو راہوں کا راستہ اسے بنائے گا
نہ واسطے میں توڑ ہے نہ راستے میں موڑ ہے
ایسی سیدھی راہ حسین ہے میرا بادشاہ حسین ہے

شہیدِ کربلا کا غم جسے بھی ناگوار ہے
وہ بد عمل ہے بد نصب اُسی پہ بے شمار ہے
ارے اُو منکرِ فضل تو مر ذرا قبر میں چل
پتا چلے گا کیا حسین ہے میرا بادشاہ حسین ہے

قضا کے بعد پھر مجھے نئی حیات مل گئی
عذاب سے عتاب سے مجھے نجات مل گئی
سوال جب کیا گیا ہے کون تیرا پیشوا
تو میں نے کہہ دیا حسین ہے میرا بادشاہ حسین ہے

کرے گا جو مخالفت غمِ حسین کی یہاں
وہ ہوگا حشر حشر میں کہ الحفیظ و الأماں
جہاں بھی چھپنا چاہے گا کہیں بھی بچ نہ پائے گا
کہ ہر جگہ میرا حسین ہے میرا بادشاہ حسین ہے

 

Jab Na Mila Tha Pani

سینکڑوں سال ہوئے جب نہ ملا تھا پانی 

آج تک ہے لب شبیر کا پیاسا پانی 

کربلا سامنے آتی جو وہ لاشے لے کر 
آنکھ تو آنکھ ہے پتھر سے بھی رستا پانی 

کیسی بستی میں محمدؐ کا مسافر ٹھہرا 
دھوپ خیمہ تھی دری ریت نظارہ پانی 

تشنگی اس کی سمندر کو بلا سکتی تھی 
کاٹ سکتا تھا وہ تلوار سے چلتا پانی 

کس کے سر فتح کا تاریخ نے سہرا باندھا 
سرخ رو کون ہے دونوں میں لہو یا پانی 

موت کے گھاٹ اترتے ہی رہیں گے پیاسے 
جب تک اس دجلۂ دنیا میں رہے گا پانی 

جب بھی ذکر شہداء دل نے مظفرؔ چھیڑا 
آنکھ اک زخم بنی زخم سے ٹپکا پانی 

 

07/08/2022

Hussain jaisa Shaheed E Azam

حسین جیسا شہید اعظم، جہاں میں کوئی ہوا نہیں ہے

چھری کے نیچے گلا ہے لیکن، کسی سے کوئی گِلا نہیں ہے

عدو تھے جب سر پہ تیغ تولے، حسین سجدے میں جا کے بولے
مدینے والوں گواہ رہنا، نماز میری قضا نہیں ہے

حسین فرمائے ساتھیوں سے، ادا کرو پُر جلال سجدے
ہے تیغ و خنجر تبر کا سایہ، کہاں ہمارا خدا نہیں ہے

پکارے عباس اے سکینہ، میں پانی لاؤں گا اے سکینہ
کٹے ہیں بازو چھدا ہے سینہ، ابھی مرا سر کٹا نہیں ہے

غریب امّت کی بیکسی پر، حسین کا سر کٹا ہے لیکن
یزید جیسے شقی کے آگے، حسین کا سر جھکا نہیں ہے

یزید دنیا میں لاکھ آے، ستم بن بن کے ظلم ڈھائے
چراغِ توحید پھر بھی صادقؔ، جلا ہے لیکن بجھا نہیں ہے

 

Imtehan E Karbala

سوچو کتنا سخت ہوگا امتحانِ کربلا

دیں کی خاطر لٹ گیا تھا کاروانِ کربلا

احمدِ مختارﷺ کے لالوں کا لاشہ دیکھ کر
رو رہا تھا خوں کے آنسو آسمانِ کربلا

جزبۂ شبّیر پیدا ہوگا اُنکے دل میں بھی
اپنے بچّوں کو سناؤ داستانِ کربلا

بھوکے رہ کر تیر کھائے اور پانی کی جگہ
پی گئے جامِ شہادت تشنگانِ کربلا

کٹ گئے بازو نہ پرچم دین کا جھکنے دیئے
کہتے ہیں عباسؓ جن کو ہیں وہ جانِ کربلا

مُصطفیٰﷺ کے جاں نثاروں نے لہو اپنے دئے
تب کہیں جا کر کھلا ہے گلستانِ کربلا

یا حسین ابنِ علی روضے پہ بلوالیجئے
حاضری کو ہیں تڑپتے عاشقانِ کربلا

جن بہتّر نے بہایا دین کی خاطر لہو
ان کے دم سے ہی عطؔا باقی ہے شانِ کربلا

عامرعطؔا ( کولکاتا )

 

06/08/2022

Hussain Sa Koi Nahi

زمین و آسمان میں حسین سا کوئی نہیں

خدا کے اِس جہان میں حسین سا کوئی نہیں

لکھا ہوا ہے لوحِ دل پہ نام بس حسین کا
تو دل کے اِس مکان میں حسین سا کوئی نہیں

لکھے گا کون اِس طرح شہادتوں کی داستاں
کسی کے خاندان میں حسین سا کوئی نہیں

کرے گا کون سامنا یزیدِ وقت کا یہاں
ہمارے درمیان میں حسین سا کوئی نہیں

رضائے حق پہ کربلا میں اپنا سب کچھ لُٹا دیا
وفا کے امتحان میں حسین سا کوئی نہیں

 

04/08/2022

Ganj E Shakar Ka Uras Hai

جانشینِ قُطب و دلبندِ عُمر کا عرس ہے

آج زُہدُ الانبیا گنجِ شکرؒ کا عرس ہے

ہر طرف سے اُٹھ رہا ہے نعرۂ حق یا فرید
کیا انوکھی آن ، کس شانِ دگر کا عرس ہے

لوگ پلکوں کی طرح صف بستہ ہیں گِردِ مزار
خواجہ اجمیری کے منظورِ نظر کا عرس ہے

چشتیو ! آؤ ذرا دیکھیں اجودھن کی بہار
اوج پر ہیں رونقیں ، کس کرّوفر کا عرس ہے

سج رہا ہے آج دلہن کی طرح شہرِ فریدؒ
نور کی بارش میں بھیگے بام در کا عرس ہے

جس کی چوکھٹ پر جُھکے دیکھے شہنشاہوں کے سر
فقر کی دنیا کے ایسے تاجور کا عرس ہے

غوثِ اعظمؒ کا نظر آتا ہے توحیدی جلال
سارے عُرسوں سے جدا گنجِ شکرؒ کا عرس ہے

قادری جلووں میں شامل ہیں فریدی رنگتیں
یوں لگے ہے جیسے یہ اپنے ہی گھر کا عرس ہے

مجھ سے گر پوچھے کوئی تو شمع کی لَو پر نصیرؔ
رقصِ پروانہ بھی گویا لمحہ بھر کا عرس ہے

کلام حضرت الشیخ پیر سید نصیر الدین نصیر جیلانی رحمتہ اللہ تعالی علیہ گولڑہ شریف

 

Ganj E Shkar Ka Uras hlHai

مژدۂ تسکیں فزا گنجِ شکر کا عرس ہے 

غمزدوں کا آسرا گنجِ شکر کا عرس ہے 

زہد میں کیا دھوم ہے گنجِ شکر کی چار سو 
محفلِ ہستی میں کیا گنجِ شکر کا عرس ہے 

جس کو ہو شوقِ لقا آتا ہے وہ آخر یہیں 
اس تڑپ کی انتہا گنجِ شکر کا عرس ہے 

اک بہشتِ امن ہے دروازۂ بابا فرید 
باعثِ دفعِ بلا گنجِ شکر کا عرس ہے 

عمر بھر جس نے ملایا عبد کو معبود سے 
آج اس مردِ خدا گنجِ شکر کا عرس ہے 

لوگ آتے ہیں یہاں حق سے تعلق جوڑنے 
درسِ پیمانِ وفا گنجِ شکر کا عرس ہے 

پاؤں دھرنے کو جگہ ملتی نہیں ہے شہر میں 
بھیڑ یہ کیسی ہے کیا گنجِ شکر کا عرس ہے؟ 

یا تو پھر بغداد میں ہے بارگاہِ دستگیر 
اہلِ دل کی عید یا گنجِ شکر کا عرس ہے 

کھینچتا تھا مجھ کو رضواں خلد کی جانب نصیرؔ 
وہ تو میں نے کہہ دیا گنجِ شکر کا عرس ہے

 

03/08/2022

Zi Qadr Turabul Haq

ذی قدر تراب الحق، ذی جاہ تراب الحق

اسرار شریعت کے آگاہ تراب الحق

دکھلائے زمانے کو افکار کے وہ جوہر
حیرت سے پکار اُٹّھے، سب واہ تراب الحق

کیا سوز بلالی تھا کیا جذبِ اویسی تھا
تو عاشق صادق تھا، والله تراب الحق

کردار کے جلوؤں میں کھویا تھا جہاں سارا
افسوس ہوئے رخصت، نا گاہ تراب الحق

سَکتے میں زمانہ ہے، رحلت کی خبر سن کر
غمگین ہیں اہل حق، سب آہ ! تراب الحق

تو فکر رضا کا اک، بے باک مجاہد تھا
فرقت ہے تری ہم کو، جانکاہ تراب الحق

ہر دشمن ایماں پر، غالب تھی تری جرأت
نا کام رہے سارے بد خواہ تراب الحق

مسلک کی حفاظت سے، پیچھے نہ ہٹے تا عمر
تجھ پر نہ چلا "جبر و اِکراہ" تراب الحق

بڑھ چڑھ کے سدا تو نے ملّت کی حمایت کی
کس درجہ تھی ملّت کی، پرواہ تراب الحق

مدھم نہ کبھی ہوں گے، جلوے تری حکمت کے
تو نیّر ملّت ہے، اے شاہ تراب الحق

چھوڑیں گے نہ ہرگز ہم، دستورِ عمل تیرا
تا حشر رہے گا تو، ہمراہ تراب الحق

ذرے تری چوکھٹ کے، ہمدوش ثریا ہیں
تو عشق رسالت کا، اک ماہ تراب الحق

تا حشر رہے تیرے، مرقد پہ گہر باری
اعزاز تجھے بخشے الله تراب الحق

کردارِ حسینی کے، بنتے ہیں جہاں انجم
انوار کا مرکز ہے درگاہ ترا ب الحق

ہاتھوں میں ہے جنکے بھی، اے شاہ ترا دامن
وہ لوگ نہیں ہوں گے گمراہ تراب الحق

اعجاز و شَرَف تیرا، کیا مجھ سے بیاں ہوگا
ہے فکرِ فریدی تو، کوتاہ تراب الحق

از فریدی صدیقی مصباحی - مسقط عمان

 

Mard E Momin Mard E Haq

مرد مومن مرد مومن مرد حق تراب الحق

مسلمانوں کے نوری پیشوا حضرت تراب الحق

گزاری حق کی ترویج و اشاعت میں حیات اپنی
مقدس دین کے تھے رہنما حضرت تراب الحق

رہے پُر جوش داعی مسلکِ احمد رضا کے وہ
تھے حق گو حق نگر حق آشنا حضرت تراب الحق

خطابت ہوکے وہ تحریر یا تدریس کا میداں
رہے ہر گامزاں ذیشاں مقتدی حضرت تراب الحق

دعائے مفتی اعظم کی کچھ ایسی ہوئی تاثیر
بنے ہر دل عزیز اور با صفا حضرت تراب الحق

کبھی یہ اہلسنت بھول پائیں غیر ممکن ہے
تھے ایسے حامل خلق و وفا حضرت تراب الحق

@NaatLyricsTKR

 

02/08/2022

Karbala Hai

ہر لب پہ ہر زباں پر تقریر کربلا ہے

دنیا میں جا بجا بس تشہیر کربلا ہے

مومن کا بچہ بچہ تسخیر کربلا ہے
سینے میں اس کے ہردم توقیر کربلا ہے

اس کی یزیدیوں ! کو بو بھی نہیں میسر
باغ جناں جو ہے وہ جاگیر کربلا ہے

جلوہ فگن ہیں میرے دل میں حسین اعظم
"آنکھوں کی پتلیوں میں تصویر کربلا ہے"

جانباز دین حق کے اس میں لہو بہیں ہیں
اللہ کتنی اعلی تقدیر کربلا

کوئی پتہ نہیں ہے شمر لعیں کا لیکن
پر اب بھی ہر سو ذکر شبیر کربلا ہے

کیسےنہ رعشہ طاری قلب و جگر میں ہوجب
آنکھیں جو پڑھ رہی ہیں تحریر کربلا ہے

اس کی زباں سے صادر حقانیت ہی ہوگی
جس کی زباں میں نازاؔں تاثیر کربلا ہے

معصوم ننھے اصغر کو راہ حق پہ نازاؔں
قرباں کیا ہے جس نے وہ میر کربلا ہے

نتیجۂ فکر: صدام حسین نازاؔں ، پورنوی

 

01/08/2022

Maula Umar

فلک جس کا پڑھے خطبہ وہی فاروقِ اعظم ہیں
زمیں پر جس کا ہے شہرا وہی فاروقِ اعظم ہیں

وہ جس نے خشک دریا پر حکومت کرکے بتلایا
بہایا نیل کا دھارا وہی فاروقِ اعظم ہیں

رسولِ پاک نے اپنی خلافت اور اجازت سے
جسے ہے خوب چمکایا وہی فاروقِ اعظم ہیں

میرے صدیقِ اکبر کی نیابت جانشینی کا
بندھا ہے جس کے سر سہرا وہی فاروقِ اعظم ہیں

جسے بس دیکھ کر شیطان رستہ ناپ لیتا تھا
ہے جس سے کفر تھرّایا وہی فاروقِ اعظم ہیں

حکومت جس کی چلتی تھی ہواؤں اور پانی پر
ہے کہتی مسجدِ اقصیٰ وہی فاروقِ اعظم ہیں

فلک دن رات جھک جھک کر سلامی پیش کرتا ہے
ہے جس کا ہر طرف نعرہ وہی فاروقِ اعظم ہیں

قؔیامِ قادری صبح و مسا دربار پر جن کے
فرشتے دیتے ہیں پہرا وہی فاروقِ اعظم ہیں

 

30/07/2022

Aise Marde Qalander

میرا مرشد میرا آقا عمر مولا عمر مولا

میرا مرشد میرا آقا عمر مولا عمر مولا

ذوالفقارِ پیمبر ہیں حضرت عمر
ایسے مردِ قلندر ہیں حضرت عمر

ان کا قائم رہا کفر پر دبدبہ
ان کے سائے سے شیطاں بھی مانگے پناہ
بالیقیں قاطعِ شر ہیں حضرت عمر
ایسے مردِ قلندر ہیں حضرت عمر

ہے جلالِ عمر کفرو پر برق بار
ان کی ہیبت سے مرعوب ہے اہلِ نار
پاس رکھتے وہ تیور ہیں حضرت عمر
ایسے مردِ قلندر ہیں حضرت عمر

بعد میرے اگر کوئی ہوتے نبی
وہ عمر ہوتے یہ ہے حدیثِ نبی
نازِ محبوب داور ہیں حضرت عمر
ایسے مردِ قلندر ہیں حضرت عمر

وہ جو ملکِ کے عدالت کے ہیں بادشاہ
دے گا انصاف سے کانٹا دستِ جفا
ہاں عدالت کے پیکر ہیں حضرت عمر
ایسے مردِ قلندر ہیں حضرت عمر

رہتے ہیں اپنے عاشق کے دل میں عمر
اُس کی امداد کرتے ہیں ہر گام پر
قلبِ راغؔب کے اندر ہیں حضرت عمر
ایسے مردِ قلندر ہیں حضرت عمر

 

29/07/2022

Rashid Khalifa Hazrat Umar

جدا باطل کو حق سے کر دیا فاروقِ اعظم نے

اَلم اسلام کا اونچا کیا فاروقِ اعظم نے

اُنھیں کے نام کی تاثیر تھی یا خط کی ہیبت تھی
رُکے دریا کو جاری کردیا فاروقِ اعظم نے

عمر کو دیکھ کر شیطان خود رستہ بدل لیتا
وہ پایا حق سے لوگوں دبدبہ فاروقِ اعظم نے

نبیﷺ کے بعد گر کوئی نبی ہوتے عمر ہوتے
نبیﷺ سے پالیا یہ مرتبہ فاروقِ اعظم نے

جدا کیسے کرو گے حشر تک ان کو نبی سے تم
لیا پہلوئے محبوب خدا فاروقِ اعظم نے

مصفّٰی آئینۂ ہے قلب کیوں نہ ہو اجؔاگر کا
اسے بھی اپنے دامن میں لیا فاروقِ اعظم نے

 

27/07/2022

Woh Umar Hai

اسلام کی شوکت ، صدف دیں کا گہر ہے

شہکار رسالت جسے کہیۓ ، وہ عمر ہے

جس نام کے صدقے سے دُعاؤں میں اثر ہے
وہ نامِ عمر ، نامِ عمر ، نامِ عمر ہے

وہ صحنِ حرم اور وہ اِک اینٹ کا تکیہ
کیا تربیتِ سرورِؐ عالَم کا اثر ہے

کترا کے گزر جاتا ہے اُس دن سے ہر اِک غم
جس دن سے مِرے وردِ زباں ، نامِ عمر ہے

 کعبے میں نماز آج ادا ہو کے رہے گی
خطّاب کے بیٹے کی یہ آمد کا اثر ہے

عدل ایسا ، پکڑ سکتے ہیں کمزور بھی دامن
رعب ایسا کہ خود ظلم کا دل زیر و زبر ہے

"ہوتا جو نبی کوئی مرے بعد ، تو فاروق "
اس کا ہے یہ فرمان کہ جو خیر بشر ہے

قرآن کی آیات یہ دیتی ہیں گواہی
تقوی جسے کہتے ہیں ،وہ کردار عمر ہے

ہر سلسلۂ فیض میں چمکے ترے موتی
کوئی ہے مُجِدّد ، تو کوئی گنجِ شکر ہے

وہ دَور نہ پا کر بھی یہ نسبت ، کہ نصیرؔ آج
بیعت تِرے افکار کی ، بر دستِ عمر ہے

کلام الشیخ پیر نصیر الدین نصیرجیلانی رحمتہ اللہ علیہ گولڑہ

 

Gada Farooq E Azam Ka

خدا کے فَضْل سے میں ہوں گدا فاروقِ اعظم کا

خدا اُن کا محمد مصطَفٰے فاروقِ اعظم کا

کرم اللّٰه کا ہر دم نبی کی مجھ پہ رَحمت ہے
مجھے ہے دو جہاں میں آسرا فاروقِ اعظم کا

پسِ صدّیقِ اکبر مصطَفٰے کے سب صحابہ میں
ہے بے شک سب سے اونچا مرتبہ فاروقِ اعظم کا

گلی سے ان کی شیطاں دُم دبا کر بھاگ جاتا ہے
ہے ایسا رُعْب ایسا دبدبہ فاروقِ اعظم کا

صحابہ اور اہلبیت کی دل میں محبت ہے
بَفیضانِ رضا میں ہوں گدا فاروقِ اعظم کا

رہے تیری عطا سے یاخدا! تیری عنایت سے
ہمارے ہاتھ میں دامن سدا فاروقِ اعظم کا

بھٹک سکتا نہیں ہرگز کبھی وہ سیدھے رستے سے
کرم جس بَخْت وَر پر ہو گیا فاروقِ اعظم کا

خدا کی خاص رحمت سے محمد کی عنایت سے
جہنم میں نہ جائے گا گدا فاروقِ اعظم کا

سدا آنسو بہائے جو غَمِ عشقِ محمد میں
دے ایسی آنکھ یارب! واسِطہ فاروقِ اعظم کا

مجھے حجّ وزیارت کی سعادت اب عنایت ہو
وسیلہ پیش کرتا ہوں خدا فاروقِ اعظم کا

الٰہی! ایک مدّت سے مِری آنکھیں 
دکھا دے سبز گنبد واسِطہ فاروقِ اعظم کا

شہادت اے خدا عطّارؔ کو دیدے مدینے میں
کرم فرما الٰہی! واسِطہ فاروقِ اعظم کا

@NaatLyricsTKR

 

26/07/2022

Hargiz Mere Rasool khuda se juda nahi

ہر گز میرے رسول خدا سے جدا نہیں

ان کی رضا بغیر خدا کی رضا نہیں

اللہ کے رسول کی الفت ہے لازمی
اس کے بغیر زہد و وراء کام کا نہیں

جود و کرم فیض و سخا کی ہو کیا بساط
سائل نے نا کبھی تیرے پر سنا نہیں

یوں تو رسول اور نبی بھی بہت ہوئے
تیرے علاوہ کوئی مگر مصطفٰی نہیں

میری طرف نگاہِ کرم کیجیئے حضور
میرا جہاں میں اب کوئی بھی اسراء نہیں

مجھ کو بس اے رسول مدینے بلائیے
کوئی بھی آرزو میری اِس کے سوا نہیں

مرشد فقیہ اعظمِ ہندوستاں میرے
مجھ کو شمیم خوفِ جزا و سزا نہیں

 

24/07/2022

Sultan E Karbala Ko

سلطان کربلا کو ہمارا سلام ہو

جانانِ مصطفٰی ﷺ کو ہمارا سلام ہو

عباسِ نامدار ہیں زخموں سے چور چور
اس پیکر رضا کو ہمارا سلام ہو

اکبر سے نوجوان بھی رن میں ہوئے شہید
ہم شکلِ مصطفٰیﷺ کو ہمارا سلام ہو

اصغر کی ننھی جان پہ لاکھوں درود ہوں
مظلوم و بے خطا کو ہمارا سلام ہو

بھائی بھتیجے بھانجے سب ہوگئے نثار
ہر لعل بے بہا کو ہمارا سلام ہو

ہو کر شہید قوم کی کشتی ترا گئے
امت کے ناخدا کو ہمارا سلام ہو

ناصؔر ولائے شاہ میں کہتے ہیں بار بار
سلطان کربل ا کو ہمارا سلام ہو

صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم

 

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...