04/08/2022

Ganj E Shkar Ka Uras hlHai

مژدۂ تسکیں فزا گنجِ شکر کا عرس ہے 

غمزدوں کا آسرا گنجِ شکر کا عرس ہے 

زہد میں کیا دھوم ہے گنجِ شکر کی چار سو 
محفلِ ہستی میں کیا گنجِ شکر کا عرس ہے 

جس کو ہو شوقِ لقا آتا ہے وہ آخر یہیں 
اس تڑپ کی انتہا گنجِ شکر کا عرس ہے 

اک بہشتِ امن ہے دروازۂ بابا فرید 
باعثِ دفعِ بلا گنجِ شکر کا عرس ہے 

عمر بھر جس نے ملایا عبد کو معبود سے 
آج اس مردِ خدا گنجِ شکر کا عرس ہے 

لوگ آتے ہیں یہاں حق سے تعلق جوڑنے 
درسِ پیمانِ وفا گنجِ شکر کا عرس ہے 

پاؤں دھرنے کو جگہ ملتی نہیں ہے شہر میں 
بھیڑ یہ کیسی ہے کیا گنجِ شکر کا عرس ہے؟ 

یا تو پھر بغداد میں ہے بارگاہِ دستگیر 
اہلِ دل کی عید یا گنجِ شکر کا عرس ہے 

کھینچتا تھا مجھ کو رضواں خلد کی جانب نصیرؔ 
وہ تو میں نے کہہ دیا گنجِ شکر کا عرس ہے

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...