08/08/2022

Jab Na Mila Tha Pani

سینکڑوں سال ہوئے جب نہ ملا تھا پانی 

آج تک ہے لب شبیر کا پیاسا پانی 

کربلا سامنے آتی جو وہ لاشے لے کر 
آنکھ تو آنکھ ہے پتھر سے بھی رستا پانی 

کیسی بستی میں محمدؐ کا مسافر ٹھہرا 
دھوپ خیمہ تھی دری ریت نظارہ پانی 

تشنگی اس کی سمندر کو بلا سکتی تھی 
کاٹ سکتا تھا وہ تلوار سے چلتا پانی 

کس کے سر فتح کا تاریخ نے سہرا باندھا 
سرخ رو کون ہے دونوں میں لہو یا پانی 

موت کے گھاٹ اترتے ہی رہیں گے پیاسے 
جب تک اس دجلۂ دنیا میں رہے گا پانی 

جب بھی ذکر شہداء دل نے مظفرؔ چھیڑا 
آنکھ اک زخم بنی زخم سے ٹپکا پانی 

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...