07/08/2022

Imtehan E Karbala

سوچو کتنا سخت ہوگا امتحانِ کربلا

دیں کی خاطر لٹ گیا تھا کاروانِ کربلا

احمدِ مختارﷺ کے لالوں کا لاشہ دیکھ کر
رو رہا تھا خوں کے آنسو آسمانِ کربلا

جزبۂ شبّیر پیدا ہوگا اُنکے دل میں بھی
اپنے بچّوں کو سناؤ داستانِ کربلا

بھوکے رہ کر تیر کھائے اور پانی کی جگہ
پی گئے جامِ شہادت تشنگانِ کربلا

کٹ گئے بازو نہ پرچم دین کا جھکنے دیئے
کہتے ہیں عباسؓ جن کو ہیں وہ جانِ کربلا

مُصطفیٰﷺ کے جاں نثاروں نے لہو اپنے دئے
تب کہیں جا کر کھلا ہے گلستانِ کربلا

یا حسین ابنِ علی روضے پہ بلوالیجئے
حاضری کو ہیں تڑپتے عاشقانِ کربلا

جن بہتّر نے بہایا دین کی خاطر لہو
ان کے دم سے ہی عطؔا باقی ہے شانِ کربلا

عامرعطؔا ( کولکاتا )

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...