01/08/2022

Maula Umar

فلک جس کا پڑھے خطبہ وہی فاروقِ اعظم ہیں
زمیں پر جس کا ہے شہرا وہی فاروقِ اعظم ہیں

وہ جس نے خشک دریا پر حکومت کرکے بتلایا
بہایا نیل کا دھارا وہی فاروقِ اعظم ہیں

رسولِ پاک نے اپنی خلافت اور اجازت سے
جسے ہے خوب چمکایا وہی فاروقِ اعظم ہیں

میرے صدیقِ اکبر کی نیابت جانشینی کا
بندھا ہے جس کے سر سہرا وہی فاروقِ اعظم ہیں

جسے بس دیکھ کر شیطان رستہ ناپ لیتا تھا
ہے جس سے کفر تھرّایا وہی فاروقِ اعظم ہیں

حکومت جس کی چلتی تھی ہواؤں اور پانی پر
ہے کہتی مسجدِ اقصیٰ وہی فاروقِ اعظم ہیں

فلک دن رات جھک جھک کر سلامی پیش کرتا ہے
ہے جس کا ہر طرف نعرہ وہی فاروقِ اعظم ہیں

قؔیامِ قادری صبح و مسا دربار پر جن کے
فرشتے دیتے ہیں پہرا وہی فاروقِ اعظم ہیں

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...