11/08/2022

Karbala Ke Jaan Nesaroon Ko Salam

کَربَلا کے جاں نِثاروں کو سلام

فاطِمَہ زَہرا کے پیاروں کو سلام

مُصطفٰی کے ماہ پاروں کو سلام
نوجوانوں گُل غذاروں کو سلام

کَربَلا تیری بہاروں کو سلام
جاں نِثاری کے نظاروں کو سلام

یا حُسین اِبنِ علی مُشکل کُشا
آپ کے سب جانثاروں کو سلام

اَکبر و اَصغر پہ جاں قُربان ہو
میرے دِل کے تاجداروں کو سلام

قاسِم و عبّاس پر لاکھوں دُرُود
کَربَلا کے شَہسواروں کو سلام

جِس کِسی نے کَربَلا میں جان دی
اُن سبھی اِیمانداروں کو سلام

بُھوکی پیاسی بِیبیوں پر رحمتیں
بُھوکے پیاسے گُل عذاروں کو سلام

بھید کیا جانے شہادَت کا کوئی
اُن خدا کے رازداروں کو سلام

بے بسی میں بھی حیا باقی رہی
اُن حسینی پَردہ داروں کو سلام

رحمتیں ہوں ہر صحابی پر مُدام
اَور خصُوصاً چار یاروں کو سلام

بِیبیوں کو عابدِ بِیمار کو
بےکسوں کو سب بے چاروں کو سلام

ہوگئے قُربان مُحَمَّد اَور عَون
سیّدہ زینب کے پیاروں کو سلام

کَربَلا میں میں ظُلم کے ٹُوٹے پہاڑ
جِن پہ اُن سب دِلفِگاروں کو سلام

آل و اصحابِ نبی کے جِس قَدر
چاہنے والے ہیں ساروں کو سلام

یا خُدا اے کاش پِھر جا کر کہوں
کَربَلا کے سب مزاروں کو سلام

تِین دِن کے بُھوکے پیاسے آپ کی
یانبی آنکھوں کے تاروں کو سلام

جو حُسینی قافلے میں تھے شرِیک
کہتا ہے عطارؔ ساروں کو سلام...!

✍... امیرِ اہلسنّت مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری صاحب

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...