03/08/2022

Zi Qadr Turabul Haq

ذی قدر تراب الحق، ذی جاہ تراب الحق

اسرار شریعت کے آگاہ تراب الحق

دکھلائے زمانے کو افکار کے وہ جوہر
حیرت سے پکار اُٹّھے، سب واہ تراب الحق

کیا سوز بلالی تھا کیا جذبِ اویسی تھا
تو عاشق صادق تھا، والله تراب الحق

کردار کے جلوؤں میں کھویا تھا جہاں سارا
افسوس ہوئے رخصت، نا گاہ تراب الحق

سَکتے میں زمانہ ہے، رحلت کی خبر سن کر
غمگین ہیں اہل حق، سب آہ ! تراب الحق

تو فکر رضا کا اک، بے باک مجاہد تھا
فرقت ہے تری ہم کو، جانکاہ تراب الحق

ہر دشمن ایماں پر، غالب تھی تری جرأت
نا کام رہے سارے بد خواہ تراب الحق

مسلک کی حفاظت سے، پیچھے نہ ہٹے تا عمر
تجھ پر نہ چلا "جبر و اِکراہ" تراب الحق

بڑھ چڑھ کے سدا تو نے ملّت کی حمایت کی
کس درجہ تھی ملّت کی، پرواہ تراب الحق

مدھم نہ کبھی ہوں گے، جلوے تری حکمت کے
تو نیّر ملّت ہے، اے شاہ تراب الحق

چھوڑیں گے نہ ہرگز ہم، دستورِ عمل تیرا
تا حشر رہے گا تو، ہمراہ تراب الحق

ذرے تری چوکھٹ کے، ہمدوش ثریا ہیں
تو عشق رسالت کا، اک ماہ تراب الحق

تا حشر رہے تیرے، مرقد پہ گہر باری
اعزاز تجھے بخشے الله تراب الحق

کردارِ حسینی کے، بنتے ہیں جہاں انجم
انوار کا مرکز ہے درگاہ ترا ب الحق

ہاتھوں میں ہے جنکے بھی، اے شاہ ترا دامن
وہ لوگ نہیں ہوں گے گمراہ تراب الحق

اعجاز و شَرَف تیرا، کیا مجھ سے بیاں ہوگا
ہے فکرِ فریدی تو، کوتاہ تراب الحق

از فریدی صدیقی مصباحی - مسقط عمان

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...