13/08/2022

Ek Yazeed Tha Hussain Hai

یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے
فضلِ کبریا حسین ہے
 
کیا بتاؤں کیا حسین ہے
میرا مدَّعا حسین ہے

بات ہے بس اتنی مختصر
اِک یزید تھا حسین ہے

کیسے ہو سکے گا یہ فنا
دین کی بقاء حسین ہے

وعدۂ نبیﷺ کیا وفا
ایسا با وفا حسین ہے

کربلا نے دے دیا ثبوت
دین میں کھرا حسین ہے

صبر و شکر کا ہے منتہا
پیکرِ رضا حسین ہے

مرتضیٰ کا ہے وہ شاہکار
آلِ مصطفیٰ حُسین ہے

کربلا میں آخری نماز
کر گیا ادا حُسین ہے

خلد ہے انہی کی ملکیت
جن کا مقتدیٰ حسین ہے

ارفؔق آپ کی ہیں جنتیں
کیونکہ آپ کا حسین ہے

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...