22/08/2022

Bahar E Jaan Fiza Tum Ho

بہار جاں فزا تم ہو نسیم گلستاں تم ہو

بہار باغ رضواں تم سے ہے زیب جناں تم ہو

خدا کی سلطنت کا دو جہاں میں کون دولہا ہے
تمہی تم ہو تمہی تم ہو یہاں تم ہو وہاں تم ہو

حقیقت سے تمہاری جز خدا اور کون واقف ہے
کہے تو کیا کہے کوئی چنیں تم ہو چناں تم ہو

کجا ہم خاک افتادہ کجا تم اے شہہ بالا
اگر مثل زمیں ہم ہیں تو مثل آسماں تم ہو

یہ کیا میں نے کہا مثل سما تم ہو معاذاللہ
منزہ مثل سے ، برتر ز ہر وہم و گماں تم ہو

میں بھولا آپ کی رفعت سے نسبت ہی ہمیں کیا ہے
وہ کہنے بھر کی نسبت تھی کہاں ہم ہیں کہاں تم ہو

میں بے کس ہوں میں بے بس ہوں مگر کس کا تمہارا ہوں
تہہ دامن مجھے لے لو پناہ بے کساں تم ہو

ہمیں امید ہے روز قیامت ان کی رحمت سے
کہ فرمائیں ادھر آؤ نہ مایوس از جناں تم ہو

ستم کارو، خطا کارو ، سیہ کارو، جفا کارو
ہمارے دامن رحمت میں آ جاؤ کہاں تم ہو

تمہارے ہوتے ساتے درد و دکھ کس سے کہوں پیارے
شفیع عاصیاں تم ہوں وکیل مجرماں تم ہو

ریاضت کے یہی دن ہیں بڑھاپے میں کہاں ہمت
جو کچھ کرنا ہے اب کر لو ابھی نوری جواں تم ہو

فقط نسبت کا جیسا ہوں حقیقی نوری ہو جاؤں
مجھے جو دیکھے کہہ اٹھے میاں نوری میاں تم ہو

ثنا منظور ہے ان کی نہیں یہ مُدّعا نوریؔ
سخن سنج و سخنور ہو سخن کے نکتہ داں تم ہو

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...