02/08/2022

Karbala Hai

ہر لب پہ ہر زباں پر تقریر کربلا ہے

دنیا میں جا بجا بس تشہیر کربلا ہے

مومن کا بچہ بچہ تسخیر کربلا ہے
سینے میں اس کے ہردم توقیر کربلا ہے

اس کی یزیدیوں ! کو بو بھی نہیں میسر
باغ جناں جو ہے وہ جاگیر کربلا ہے

جلوہ فگن ہیں میرے دل میں حسین اعظم
"آنکھوں کی پتلیوں میں تصویر کربلا ہے"

جانباز دین حق کے اس میں لہو بہیں ہیں
اللہ کتنی اعلی تقدیر کربلا

کوئی پتہ نہیں ہے شمر لعیں کا لیکن
پر اب بھی ہر سو ذکر شبیر کربلا ہے

کیسےنہ رعشہ طاری قلب و جگر میں ہوجب
آنکھیں جو پڑھ رہی ہیں تحریر کربلا ہے

اس کی زباں سے صادر حقانیت ہی ہوگی
جس کی زباں میں نازاؔں تاثیر کربلا ہے

معصوم ننھے اصغر کو راہ حق پہ نازاؔں
قرباں کیا ہے جس نے وہ میر کربلا ہے

نتیجۂ فکر: صدام حسین نازاؔں ، پورنوی

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...