09/08/2022

Nana Hain Yaad Aaye Hue

بس اب تو رہتے ہیں آنکھوں میں اَشک آئے ہوئے

زمانہ بِیت گیا ہم کو مُسکرائے ہوئے

غمِ حُسینؑ کا گھاؤ ہے کس قدر گہرا
یہ اُن سے پُوچھ جو ہیں دِل پہ چوٹ کھائے ہوئے

نبیؐ کے گھر کے اُجالوں کا اب خدا حافظ
اندھیرے شامِ ستم کے ہیں سر اُٹھائے ہوئے

لگی ہے بھیڑ غم و رنج و درد و کُلفت کی
ہم اپنے دِل میں ہیں اِک کربلا بسائے ہوئے

عجیب وقت ہے زہراؑ کے گُل عِزاروں پر
سکینہؑ پیاسی ہے، اصغرؑ ہیں تیر کھائے ہوئے

یہ ناتوانی، یہ رستے کی سختیاں سجادؑ!
چلو گے کیسے بھلا بیڑیاں اُٹھائے ہوئے

نمازِ عشق کی یہ طُرفگی کوئی دیکھے
حُسینؑ سجدے سے اُٹھے تو سر کٹائے ہوئے

شکست دے نہ سکی عزمِ ابنِ حیدرؑ کو
اجل کھڑی ہے ندامت سے منہ چُھپائے ہوئے

سبب خموشی کا پوچھا گیا جو زینبؑ سے
تو رو کے بولیں کہ ناناؐ ہیں یاد آئے ہوئے

یہ شب کہیں شبِ عاشُور تو نہیں لوگو
اُداس چاند ہے تارے ہیں جِھلملائے ہوئے

پلٹ کے آئے نہ اب تک مِرے چچا عبّاسؑ
سکینہؑ روتی ہے دستِ دعا اُٹھائے ہوئے

نڈھال کر گئی اصغرؑ کی آخری ہچکی
حُسینؑ خمیے میں آئے کمر جُکھائے ہوئے

بھٹک رہی ہے ابھی تک تلاش میں منزل
گُزر گیا ہے کوئی کارواں لُٹائے ہوئے

وہ حق پرست سرِ منزلِ وفا پہنچے
خدا کی یاد کو زادِ سفر بنائے ہوئے

ہم اہلِ دل ہیں، ہمیں اہلِ زر سے کیا مطلب
ہم اپنے شاہِؑ نجف سے ہیں لَو لگائے ہوئے

نصِیرؔ! گُلشنِ زہراؑ کے پیاسے پُھولوں کو
سَلام کہتے ہیں آنکھوں میں اَشک آئے ہوئے 

سیّدپِیرنصِیرالدّین نصِیرؔ جیلانی
رحمتُ اللّٰه تعالٰی علیہ، گولڑہ شریف

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...