07/08/2022

Hussain jaisa Shaheed E Azam

حسین جیسا شہید اعظم، جہاں میں کوئی ہوا نہیں ہے

چھری کے نیچے گلا ہے لیکن، کسی سے کوئی گِلا نہیں ہے

عدو تھے جب سر پہ تیغ تولے، حسین سجدے میں جا کے بولے
مدینے والوں گواہ رہنا، نماز میری قضا نہیں ہے

حسین فرمائے ساتھیوں سے، ادا کرو پُر جلال سجدے
ہے تیغ و خنجر تبر کا سایہ، کہاں ہمارا خدا نہیں ہے

پکارے عباس اے سکینہ، میں پانی لاؤں گا اے سکینہ
کٹے ہیں بازو چھدا ہے سینہ، ابھی مرا سر کٹا نہیں ہے

غریب امّت کی بیکسی پر، حسین کا سر کٹا ہے لیکن
یزید جیسے شقی کے آگے، حسین کا سر جھکا نہیں ہے

یزید دنیا میں لاکھ آے، ستم بن بن کے ظلم ڈھائے
چراغِ توحید پھر بھی صادقؔ، جلا ہے لیکن بجھا نہیں ہے

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...