26/11/2022

Itna kafi Hai Zindagi ke liye

اتنا کافی ہے زندگی کے لیے
رکھ لیں آقا جو نوکری کے لیے

ماہ و خورشید ان کی چوکھٹ پر
روز آتے ہیں روشنی کے لیے

دونوں عالم بنائے مولا نے
یا نبی صرف آپ ہی کے لیے

تک کے اُن کو ایوب کے گھر نے
محل ترسے ہیں جھونپڑی کے لیے

لمبے سجدے کیے نبیﷺ نے کہا
اے نواسے تیری خوشی کے لیے

آ گئے قبر میں بھی چھڑوانے
درد کتنا ہے اُمتی کے لیے

دید مانگی ہے اُن کی اے حاکم
میں نے بس وقتِ آخری کے لیے

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...