05/11/2022

Ghous E Azam Baman E Be Saro Saman Madade

غوث اعظم بمنِ بے سرو ساماں مد دے
قبلۂ دیں مد دے، کعبۂ ایماں مدد دے

ہند میں رہتا ہوں، دل رکھتا ہوں سوئے بغدادؔ
نگۂ لطف اِدھر اے شہ جیلاں مدد دے

داغِ دل کھول کے دکھلا نہیں سکتا لیکن
نذر میں لایا ہوں اک چاکِ گریباں مدد دے

پھر بہار آئے تو زنجیر بکف ہو کے پڑھوں
سلسلے والوں میں ہوں اے شہِ پیراں مد دے

تیرے دربار کی پیزاروں کا رکھوالا ہوں
اپنے اس منصبِ عالی پہ ہوں نازاں مد دے

میں تہی دست ہوں، نذرانۂ سر لایا ہوں
لاج رکھ لے مرے آقائے غلاماں مدد دے

سارے ولیوں کے سروں پہ قدمِ عالی ہے
ایک ٹھوکر، کہ مرا سر بھی ہو رقصاں مد دے

شاہِ حمزہ کی غزل پڑھ کے نواسنج ہوں میں
مہر اشرفؔ پہ ہو اے ماہ درخشاں مدد دے

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...