06/09/2022

Ustad E Mohtarm

کتنی محبتوں سے پہلا سبق پڑھایا 
میں کچھ نہ جانتا تھا، سب کچھ مجھے سکھایا
اَن پڑھ تھا اور جاہل ، قابل مجھے بنایا
دنیا ئے علم و دانش کا راستہ دکھایا
اے دوستو ملیں تو بس ایک پیام کہنا
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا

مجھ کو خبر نہیں تھی، آیاہوں میں کہاں سے
ماں باپ اس زمیں پر لائے تھے آسمان سے
پہنچا دیافلک تک استاد نے یہاں سے
واقف نہ تھا ذرا بھی، اتنے بڑے جہاں سے
مجھ کو دلایا کتنا اچھا مقام کہنا
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا

جینے کا فن سکھایا،مرنے کا بانکپن بھی
عزت کے گر بتائے ، رسوائی کے چلن بھی
کانٹے بھی راہ میں ہیں ،پھولوں کی انجمن بھی
تم فخرِ قوم بننا اور نازشِ وطن بھی
ہے یاد مجھ کو ان کا ایک اک کلام کہنا
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا

جو عِلم کا عَلم ہے، استاد کی عطا ہے
ہاتھوں میں جو قلم ہے، استاد کی عطا ہے
جو فکر تازہ دم ہے، استاد کی عطا ہے
جو کچھ کیا رقم ہے، استاد کی عطا ہے
اُن کی عطا سے چمکا، حاطبؔ کا نام کہنا
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...