03/09/2022

Ummat ko aye Khudaya

امت کو اے خدایا تیرا ہی آسرا ہے
شیرازہ اس کا بکھرا تیرا ہی آسرا ہے

غیروں نے ظلم توڑا اپنوں نے ہائے چھوڑا
دے دے تو ہی سہاراتیرا ہی آسرا ہے

دل خون رو رہا ہے رنجور ہو رہا ہے
حالات نے ستایا تیرا ہی آسرا ہے

دشمن ملے ہوئے ہیں جنگ پر تلے ہوئے ہیں
چاروں طرف سے گھیرا تیرا ہی آسرا ہے

پھر سے کوئی عمر دے اعدا کی جو خبر لے
ہر ایک نے پکارا تیرا ہی آسرا ہے

بندوں کو اپنے دے دے اسباب زندگی کے
ظلم و ستم نے مارا تیرا ہی آسرا ہے

کرتا ہے التجا اب تیرا عبید یا رب
کر دے کرم خدایا تیرا ہی آسرا ہے

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...