17/09/2022

Main To Panjatan Ka Ghulam Hoon

 

میں تو پنجتنؑ کا غلام ہوں 
میں غلام ابنِ غلام ہوں
مجھے عشق ہے تو خدا سے ہے 
مجھے عشق ہے تو رسولؐ سے
یہ کرم ہے سارا بتولؑ کا
میرے منہ سے آئے مہک سدا 

جو میں نام لوں تیرا جھوم کے
میں تو پنجتنؑ کا غلام ہوں 

مجھے عشق سرو و سمن سے ہے 
مجھے عشق سارے چمن سے ہے
مجھے عشق ان کی گلی سے ہے 
مجھے عشق ان کے وطن سے ہے
مجھے عشق ہے تو علیؑ سے ہے 
مجھے عشق ہے تو حسنؑ سے ہے
مجھے عشق ہے تو حسینؑ سے 
مجھے عشق شاہِ زمن سے ہے

میں تو پنجتنؑ کا غلام ہوں 
میں غلام ابنِ غلام ہوں

ہوا کیسے تن سے وہ سر جدا 
جہاں عشق ہو وہیں کربلا
میری بات انہی کی بات ہے 
میرے سامنے وہی ذات ہے
وہی جن کو شیرِ خدا کہیں 
جنہیں بابِ صِلّ علیٰ کہیں
وہی جن کو آلِ نبیؐ کہیں 
وہی جن کو ذاتِ علیؑ کہیں

وہی پختہ ہیں میں تو خام ہوں
میں تو پنجتنؑ کا غلام ہوں

میں قمر ہوں شاعرِ بے نوا
میری حیثیت ہی بھلا ہے کیا
وہ ہیں بادشاہوں کے بادشاہ
میں ہوں ان کے در کا بس اک گدا
میرا پنجتن سے ہے واسطہ
میرا نسبتوں کا ہے سلسلہ

میں فقیرِ خیرالانام ہوں
میں تو پنجتنؑ کا غلام ہوں 

میرا شعر کیا میرا ذکر کیا 
میری بات کیا میری فکر کیا
میری بات ان کے سبب سے ہے 
میرا شعر ان کے ادب سے ہے
میرا ذکر ان کے طفیل سے  
میری فکر ان کے طفیل سے
کہاں مجھ میں اتنی سکت بھلا 
کہ ہو منقبت کا بھی حق ادا

میں مریدِ خیرالانام ہوں
میں تو پنجتنؑ کا غلام ہوں

(الحاج ڈاکٹر محمد یوسف قمر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...