30/08/2022

Ya Rasulallahi Unzur Ha Lana

یا رسول اللہ انظر حالنا
یا حبیب اللہ اسمع قالنا

اننی فی بحر غم مغرق
خذیدی سہل لنا اشکا لنا

یا رسولِ کبریا فریاد ہے
اے میرے حاجت روا فریاد ہے

سخت مشکل میں پھنسا ہوں آج کل
اے میرے مشکل کشا فریاد ہے

گنبد خضریٰ کے جلوے ہو نصیب
یہ کرم یا مصطفٰے فرمائیے 

یا رسول اللہ میری مغفرت
وہ خدا سے یہ دعا فرمائیے

دم لبوں پہ آگیا عطؔار کا
اب قدم رنج شاہا فرمائیے

 

27/08/2022

Simna Ke Tajdar

 

سمناں کے تاجدار سا سلطاں کوئی نہیں

سلطان بہت ہوئے شہہ سمناں کوئی نہیں

اے شاہِ سمناں آپ کے دامن کو چھوڑ کر
بخشش کا میری حشر میں ساماں کوئی نہیں

دار الشّفاء ہے آپ کا دربارِ نور بار
کیسے کہوں کہ درد کا درماں کوئی نہیں

ہیں آپ جیسے ہند میں اولادِ غوثِ پاک
اس شان کا یہاں شہ میراں کوئی نہیں

کیا کیا نہیں دیا مرے مخدوم آپ نے
جامؔی پہ آپ جیسا مہرباں کوئی نہیں

22/08/2022

Bahar E Jaan Fiza Tum Ho

بہار جاں فزا تم ہو نسیم گلستاں تم ہو

بہار باغ رضواں تم سے ہے زیب جناں تم ہو

خدا کی سلطنت کا دو جہاں میں کون دولہا ہے
تمہی تم ہو تمہی تم ہو یہاں تم ہو وہاں تم ہو

حقیقت سے تمہاری جز خدا اور کون واقف ہے
کہے تو کیا کہے کوئی چنیں تم ہو چناں تم ہو

کجا ہم خاک افتادہ کجا تم اے شہہ بالا
اگر مثل زمیں ہم ہیں تو مثل آسماں تم ہو

یہ کیا میں نے کہا مثل سما تم ہو معاذاللہ
منزہ مثل سے ، برتر ز ہر وہم و گماں تم ہو

میں بھولا آپ کی رفعت سے نسبت ہی ہمیں کیا ہے
وہ کہنے بھر کی نسبت تھی کہاں ہم ہیں کہاں تم ہو

میں بے کس ہوں میں بے بس ہوں مگر کس کا تمہارا ہوں
تہہ دامن مجھے لے لو پناہ بے کساں تم ہو

ہمیں امید ہے روز قیامت ان کی رحمت سے
کہ فرمائیں ادھر آؤ نہ مایوس از جناں تم ہو

ستم کارو، خطا کارو ، سیہ کارو، جفا کارو
ہمارے دامن رحمت میں آ جاؤ کہاں تم ہو

تمہارے ہوتے ساتے درد و دکھ کس سے کہوں پیارے
شفیع عاصیاں تم ہوں وکیل مجرماں تم ہو

ریاضت کے یہی دن ہیں بڑھاپے میں کہاں ہمت
جو کچھ کرنا ہے اب کر لو ابھی نوری جواں تم ہو

فقط نسبت کا جیسا ہوں حقیقی نوری ہو جاؤں
مجھے جو دیکھے کہہ اٹھے میاں نوری میاں تم ہو

ثنا منظور ہے ان کی نہیں یہ مُدّعا نوریؔ
سخن سنج و سخنور ہو سخن کے نکتہ داں تم ہو

 

20/08/2022

Aye Baad E Saba

اے باد صبا ان ﷺ کے روضے کی ہوا لے آ  
ہم ہجر کے ماروں کی طیبہ سے دوا لے آ

تن من کو ہمارے جو ایماں کی جِلا بخشے  
سرکار ﷺ کی نگری سے وہ خاکِ شفا لے آ

صدیق سے سچائی، فاروق سے بے باکی  
عثمان سے فیاضی حیدر سے ولا لے آ

ایثار حسن سے اور شبیر سے قربانی  
اجمیر کے خواجہ سے وہ خوف خدا لے آ

میں عشقِ شہِ دیں میں ہو جاؤں فنا اک دن  
ہر سومری شہرت ہو کچھ ایسی کلا لے آ

حسنین و علی زہرا کا سایہ رہے مجھ پر  
نورانی گھرانے کی نورانی ضیا لے آ

ہوں غرق گناہوں میں، اعمال ہیں بد میرے  
آقا ﷺ سے شفاعت کا فرمان ذرا لے آ

آقا ﷺ کے غلاموں کے دل جن سے چمک اٹھیں  
کرنیں ہرے گنبد کی اے باد صبا لے آ

دنیا مری بن جائے، عقبیٰ بھی سنور جائے  
آمین کہیں قدسی وہ حرفِ دعا لے آ

نعتِ شہِ طیبہ ہے، پیشہ میرا آبائی  
نظمیؔ کی کمائی میں برکت کی دعا لے آ

نظمی میاں مارہروی
https://t.me/NaatLyricsTKR
🍃ثـواب حـاصـل کـرنـے کـی نـیـت سـے

زیـادہ سـے زیـادہ شــئـیـر کیجیئے🍃
 

17/08/2022

Ze Rahmat Kun

ترجــــمہ👇🏼

اے اللہ کے رسولﷺ میری تباہ حالی پر کرم کی نظر فرمائیں
کہ میں غریب ہوں بے آسرا ہوں، اور خاک نشیں ہوں

اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کی فرقت کے داغ سے میرا دل کیسا ریزہ ریزہ ہوا ہے
کہ سیکڑوں گلشنوں کی بہار کا تصوّر دل میں لیے ہوئے ہوں

اے اللہ کے رسول آپ ﷺ ہی کی ذاتِ گرامی دل کا سکون روح کا چین اور میرا صبر اور دل کی ڈھارس ہے
آپ ﷺ کا نور سے بھر پُور چہرہ میری بے قرار روح کا چین ہے

آپ ﷺ ہیں میرے آقا میرے سرپرست اور میری جان کے مالک ہیں
آپ ﷺ جانتے ہیں کہ آپ ﷺ کے علاوہ میرا کوئی نہیں ہے

آخری وقت جامؔی کو اپنے دیدار کا جلوہ دیکھا دیجئے
آپ ﷺ کی مہربانی سے اے اللہ کے رسول میں یہی توقع رکھتا ہوں

کـــــــــــــــــــــلام✍🏻
مولانا عبد الرحمن جامی رحمتہ اللہ تعالی علیہ

​https://t.me/NaatLyricsTKR

🍃ثـواب حـاصـل کـرنـے کـی نـیـت سـے
زیـادہ سـے زیـادہ شــئـیـر کیجیئے🍃

 

15/08/2022

Sare Jahan se Achcha Hindustan Hamara


سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی ، یہ گلستاں ہمارا

غربت میں ہوں اگر ہم ، رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو وہیں ہمیں بھی ، دل ہو جہاں ہمارا

پربت وہ سب سے اونچا ، ہم سایہ آسماں کا
وہ سنتری ہمارا ، وہ پاسباں ہمارا

گودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاں
گلشن ہے جن کے دم سے رشکِ جناں ہمارا

اے آبِ رودِ گنگا ، وہ دن ہیں یاد تجھ کو ؟
اترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہيں ہم ، وطن ہے ہندوستاں ہمارا

يونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا

کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہيں ہماری
صديوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا

اقباؔل ! کوئی محرم اپنا نہيں جہاں ميں
معلوم کيا کسی کو دردِ نہاں ہمارا

ڈاکٹر اقبال

 

13/08/2022

Ek Yazeed Tha Hussain Hai

یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے
فضلِ کبریا حسین ہے
 
کیا بتاؤں کیا حسین ہے
میرا مدَّعا حسین ہے

بات ہے بس اتنی مختصر
اِک یزید تھا حسین ہے

کیسے ہو سکے گا یہ فنا
دین کی بقاء حسین ہے

وعدۂ نبیﷺ کیا وفا
ایسا با وفا حسین ہے

کربلا نے دے دیا ثبوت
دین میں کھرا حسین ہے

صبر و شکر کا ہے منتہا
پیکرِ رضا حسین ہے

مرتضیٰ کا ہے وہ شاہکار
آلِ مصطفیٰ حُسین ہے

کربلا میں آخری نماز
کر گیا ادا حُسین ہے

خلد ہے انہی کی ملکیت
جن کا مقتدیٰ حسین ہے

ارفؔق آپ کی ہیں جنتیں
کیونکہ آپ کا حسین ہے

 

11/08/2022

Karbala Ke Jaan Nesaroon Ko Salam

کَربَلا کے جاں نِثاروں کو سلام

فاطِمَہ زَہرا کے پیاروں کو سلام

مُصطفٰی کے ماہ پاروں کو سلام
نوجوانوں گُل غذاروں کو سلام

کَربَلا تیری بہاروں کو سلام
جاں نِثاری کے نظاروں کو سلام

یا حُسین اِبنِ علی مُشکل کُشا
آپ کے سب جانثاروں کو سلام

اَکبر و اَصغر پہ جاں قُربان ہو
میرے دِل کے تاجداروں کو سلام

قاسِم و عبّاس پر لاکھوں دُرُود
کَربَلا کے شَہسواروں کو سلام

جِس کِسی نے کَربَلا میں جان دی
اُن سبھی اِیمانداروں کو سلام

بُھوکی پیاسی بِیبیوں پر رحمتیں
بُھوکے پیاسے گُل عذاروں کو سلام

بھید کیا جانے شہادَت کا کوئی
اُن خدا کے رازداروں کو سلام

بے بسی میں بھی حیا باقی رہی
اُن حسینی پَردہ داروں کو سلام

رحمتیں ہوں ہر صحابی پر مُدام
اَور خصُوصاً چار یاروں کو سلام

بِیبیوں کو عابدِ بِیمار کو
بےکسوں کو سب بے چاروں کو سلام

ہوگئے قُربان مُحَمَّد اَور عَون
سیّدہ زینب کے پیاروں کو سلام

کَربَلا میں میں ظُلم کے ٹُوٹے پہاڑ
جِن پہ اُن سب دِلفِگاروں کو سلام

آل و اصحابِ نبی کے جِس قَدر
چاہنے والے ہیں ساروں کو سلام

یا خُدا اے کاش پِھر جا کر کہوں
کَربَلا کے سب مزاروں کو سلام

تِین دِن کے بُھوکے پیاسے آپ کی
یانبی آنکھوں کے تاروں کو سلام

جو حُسینی قافلے میں تھے شرِیک
کہتا ہے عطارؔ ساروں کو سلام...!

✍... امیرِ اہلسنّت مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری صاحب

 

09/08/2022

Nana Hain Yaad Aaye Hue

بس اب تو رہتے ہیں آنکھوں میں اَشک آئے ہوئے

زمانہ بِیت گیا ہم کو مُسکرائے ہوئے

غمِ حُسینؑ کا گھاؤ ہے کس قدر گہرا
یہ اُن سے پُوچھ جو ہیں دِل پہ چوٹ کھائے ہوئے

نبیؐ کے گھر کے اُجالوں کا اب خدا حافظ
اندھیرے شامِ ستم کے ہیں سر اُٹھائے ہوئے

لگی ہے بھیڑ غم و رنج و درد و کُلفت کی
ہم اپنے دِل میں ہیں اِک کربلا بسائے ہوئے

عجیب وقت ہے زہراؑ کے گُل عِزاروں پر
سکینہؑ پیاسی ہے، اصغرؑ ہیں تیر کھائے ہوئے

یہ ناتوانی، یہ رستے کی سختیاں سجادؑ!
چلو گے کیسے بھلا بیڑیاں اُٹھائے ہوئے

نمازِ عشق کی یہ طُرفگی کوئی دیکھے
حُسینؑ سجدے سے اُٹھے تو سر کٹائے ہوئے

شکست دے نہ سکی عزمِ ابنِ حیدرؑ کو
اجل کھڑی ہے ندامت سے منہ چُھپائے ہوئے

سبب خموشی کا پوچھا گیا جو زینبؑ سے
تو رو کے بولیں کہ ناناؐ ہیں یاد آئے ہوئے

یہ شب کہیں شبِ عاشُور تو نہیں لوگو
اُداس چاند ہے تارے ہیں جِھلملائے ہوئے

پلٹ کے آئے نہ اب تک مِرے چچا عبّاسؑ
سکینہؑ روتی ہے دستِ دعا اُٹھائے ہوئے

نڈھال کر گئی اصغرؑ کی آخری ہچکی
حُسینؑ خمیے میں آئے کمر جُکھائے ہوئے

بھٹک رہی ہے ابھی تک تلاش میں منزل
گُزر گیا ہے کوئی کارواں لُٹائے ہوئے

وہ حق پرست سرِ منزلِ وفا پہنچے
خدا کی یاد کو زادِ سفر بنائے ہوئے

ہم اہلِ دل ہیں، ہمیں اہلِ زر سے کیا مطلب
ہم اپنے شاہِؑ نجف سے ہیں لَو لگائے ہوئے

نصِیرؔ! گُلشنِ زہراؑ کے پیاسے پُھولوں کو
سَلام کہتے ہیں آنکھوں میں اَشک آئے ہوئے 

سیّدپِیرنصِیرالدّین نصِیرؔ جیلانی
رحمتُ اللّٰه تعالٰی علیہ، گولڑہ شریف

 

Husain Tumko Zamana Salam kehta Hai

تمہارے سجدے کو کعبہ سلام کہتا ہے

جلالِ قبۂ خضریٰ سلام کہتاہے
چمن کا ہر گل وغنچہ سلام کہتاہے
حسین تم کو زمانہ سلام کہتا ہے

چراغ و مسجد ومنبر سلام کہتے ہیں
نبی رسول و پیمبر سلام کہتے ہیں
علی و فاطمہ شبّر سلام کہتے ہیں
خدا گواہ کہ نانا سلام کہتا ہے

تمھیں فلک کے ستارے سلام کہتے ہیں 
تمھیں قرآن کے پارے سلام کہتے ہیں 
تمھیں حرم کے منارے سلام کہتے ہیں 
امام تم کو مدینہ سلام کہتا ہے 

خدا کی راہ میں سر کو کٹادیا تم نے
نبی کے دین پہ گھر کو لٹادیا تم نے
نشانِ کفر کو یکسر مٹادیا تم نے
تمہیں خدا بھی تمہارا سلام کہتا ہے

ثنا تمہاری وظیفہ ھے میرا آبائی
تمہاری مدح تو شیوہ ہے میرا مولائی
بس اک نظر ہو جو مجھ پر تو میری بن آئی 
تمہارا سیدِ شیدا سلام کہتا ہے    

نتیجۂ فکر: حضرت سید شاہ آل مصطفیٰ سید میاں مارہروی قدس سرہٗ

 

08/08/2022

Mera Badshah Hussain Hai

یہ بات کس قدر حسیں جو کہہ گئے معین الدیں

کہ دین کی پناہ حسین ہے میرا بادشاہ حسین ہے
امن کا مہر و ماہ بھی جو شاہوں کا ہے شاہ بھی
ایسا بادشاہ حسین ہے میرا بادشاہ حسین ہے

ہے جس کی فکر کربلا حسین وہ دماغ ہے
یہ پنجتن کی انجمن کا پانچواں چراغ ہے
حسن کا پہلا ہمسفر علی کا دوسرا پِسر
امام تیسرا حسین ہے میرا بادشاہ حسین ہے

کرے کوئی جو ہمسری کسی کی کیا مجال ہے
حسین ہر لحاظ سے جہان بے مثال ہے
یہ ہو چکا ہے فیصلہ نہ کوئی دوسرا خدا 
نہ کوئی دوسرا حسین ہے میرا بادشاہ حسین ہے

ہدایت حسین پر عمل کرو اے مومنو
رہیں گے ہم بہشت میں یقیں رکھو اے مومنو
قبول ہوگی ہر دعا کسی سے کیوں ڈریں بھلا
ہمارا واسطہ حسین ہے میرا بادشاہ حسین ہے

دعاؤوں میں نداؤں میں جو واسطہ اسے بنائے گا
بہشت کی جو راہوں کا راستہ اسے بنائے گا
نہ واسطے میں توڑ ہے نہ راستے میں موڑ ہے
ایسی سیدھی راہ حسین ہے میرا بادشاہ حسین ہے

شہیدِ کربلا کا غم جسے بھی ناگوار ہے
وہ بد عمل ہے بد نصب اُسی پہ بے شمار ہے
ارے اُو منکرِ فضل تو مر ذرا قبر میں چل
پتا چلے گا کیا حسین ہے میرا بادشاہ حسین ہے

قضا کے بعد پھر مجھے نئی حیات مل گئی
عذاب سے عتاب سے مجھے نجات مل گئی
سوال جب کیا گیا ہے کون تیرا پیشوا
تو میں نے کہہ دیا حسین ہے میرا بادشاہ حسین ہے

کرے گا جو مخالفت غمِ حسین کی یہاں
وہ ہوگا حشر حشر میں کہ الحفیظ و الأماں
جہاں بھی چھپنا چاہے گا کہیں بھی بچ نہ پائے گا
کہ ہر جگہ میرا حسین ہے میرا بادشاہ حسین ہے

 

Jab Na Mila Tha Pani

سینکڑوں سال ہوئے جب نہ ملا تھا پانی 

آج تک ہے لب شبیر کا پیاسا پانی 

کربلا سامنے آتی جو وہ لاشے لے کر 
آنکھ تو آنکھ ہے پتھر سے بھی رستا پانی 

کیسی بستی میں محمدؐ کا مسافر ٹھہرا 
دھوپ خیمہ تھی دری ریت نظارہ پانی 

تشنگی اس کی سمندر کو بلا سکتی تھی 
کاٹ سکتا تھا وہ تلوار سے چلتا پانی 

کس کے سر فتح کا تاریخ نے سہرا باندھا 
سرخ رو کون ہے دونوں میں لہو یا پانی 

موت کے گھاٹ اترتے ہی رہیں گے پیاسے 
جب تک اس دجلۂ دنیا میں رہے گا پانی 

جب بھی ذکر شہداء دل نے مظفرؔ چھیڑا 
آنکھ اک زخم بنی زخم سے ٹپکا پانی 

 

07/08/2022

Hussain jaisa Shaheed E Azam

حسین جیسا شہید اعظم، جہاں میں کوئی ہوا نہیں ہے

چھری کے نیچے گلا ہے لیکن، کسی سے کوئی گِلا نہیں ہے

عدو تھے جب سر پہ تیغ تولے، حسین سجدے میں جا کے بولے
مدینے والوں گواہ رہنا، نماز میری قضا نہیں ہے

حسین فرمائے ساتھیوں سے، ادا کرو پُر جلال سجدے
ہے تیغ و خنجر تبر کا سایہ، کہاں ہمارا خدا نہیں ہے

پکارے عباس اے سکینہ، میں پانی لاؤں گا اے سکینہ
کٹے ہیں بازو چھدا ہے سینہ، ابھی مرا سر کٹا نہیں ہے

غریب امّت کی بیکسی پر، حسین کا سر کٹا ہے لیکن
یزید جیسے شقی کے آگے، حسین کا سر جھکا نہیں ہے

یزید دنیا میں لاکھ آے، ستم بن بن کے ظلم ڈھائے
چراغِ توحید پھر بھی صادقؔ، جلا ہے لیکن بجھا نہیں ہے

 

Imtehan E Karbala

سوچو کتنا سخت ہوگا امتحانِ کربلا

دیں کی خاطر لٹ گیا تھا کاروانِ کربلا

احمدِ مختارﷺ کے لالوں کا لاشہ دیکھ کر
رو رہا تھا خوں کے آنسو آسمانِ کربلا

جزبۂ شبّیر پیدا ہوگا اُنکے دل میں بھی
اپنے بچّوں کو سناؤ داستانِ کربلا

بھوکے رہ کر تیر کھائے اور پانی کی جگہ
پی گئے جامِ شہادت تشنگانِ کربلا

کٹ گئے بازو نہ پرچم دین کا جھکنے دیئے
کہتے ہیں عباسؓ جن کو ہیں وہ جانِ کربلا

مُصطفیٰﷺ کے جاں نثاروں نے لہو اپنے دئے
تب کہیں جا کر کھلا ہے گلستانِ کربلا

یا حسین ابنِ علی روضے پہ بلوالیجئے
حاضری کو ہیں تڑپتے عاشقانِ کربلا

جن بہتّر نے بہایا دین کی خاطر لہو
ان کے دم سے ہی عطؔا باقی ہے شانِ کربلا

عامرعطؔا ( کولکاتا )

 

06/08/2022

Hussain Sa Koi Nahi

زمین و آسمان میں حسین سا کوئی نہیں

خدا کے اِس جہان میں حسین سا کوئی نہیں

لکھا ہوا ہے لوحِ دل پہ نام بس حسین کا
تو دل کے اِس مکان میں حسین سا کوئی نہیں

لکھے گا کون اِس طرح شہادتوں کی داستاں
کسی کے خاندان میں حسین سا کوئی نہیں

کرے گا کون سامنا یزیدِ وقت کا یہاں
ہمارے درمیان میں حسین سا کوئی نہیں

رضائے حق پہ کربلا میں اپنا سب کچھ لُٹا دیا
وفا کے امتحان میں حسین سا کوئی نہیں

 

04/08/2022

Ganj E Shakar Ka Uras Hai

جانشینِ قُطب و دلبندِ عُمر کا عرس ہے

آج زُہدُ الانبیا گنجِ شکرؒ کا عرس ہے

ہر طرف سے اُٹھ رہا ہے نعرۂ حق یا فرید
کیا انوکھی آن ، کس شانِ دگر کا عرس ہے

لوگ پلکوں کی طرح صف بستہ ہیں گِردِ مزار
خواجہ اجمیری کے منظورِ نظر کا عرس ہے

چشتیو ! آؤ ذرا دیکھیں اجودھن کی بہار
اوج پر ہیں رونقیں ، کس کرّوفر کا عرس ہے

سج رہا ہے آج دلہن کی طرح شہرِ فریدؒ
نور کی بارش میں بھیگے بام در کا عرس ہے

جس کی چوکھٹ پر جُھکے دیکھے شہنشاہوں کے سر
فقر کی دنیا کے ایسے تاجور کا عرس ہے

غوثِ اعظمؒ کا نظر آتا ہے توحیدی جلال
سارے عُرسوں سے جدا گنجِ شکرؒ کا عرس ہے

قادری جلووں میں شامل ہیں فریدی رنگتیں
یوں لگے ہے جیسے یہ اپنے ہی گھر کا عرس ہے

مجھ سے گر پوچھے کوئی تو شمع کی لَو پر نصیرؔ
رقصِ پروانہ بھی گویا لمحہ بھر کا عرس ہے

کلام حضرت الشیخ پیر سید نصیر الدین نصیر جیلانی رحمتہ اللہ تعالی علیہ گولڑہ شریف

 

Ganj E Shkar Ka Uras hlHai

مژدۂ تسکیں فزا گنجِ شکر کا عرس ہے 

غمزدوں کا آسرا گنجِ شکر کا عرس ہے 

زہد میں کیا دھوم ہے گنجِ شکر کی چار سو 
محفلِ ہستی میں کیا گنجِ شکر کا عرس ہے 

جس کو ہو شوقِ لقا آتا ہے وہ آخر یہیں 
اس تڑپ کی انتہا گنجِ شکر کا عرس ہے 

اک بہشتِ امن ہے دروازۂ بابا فرید 
باعثِ دفعِ بلا گنجِ شکر کا عرس ہے 

عمر بھر جس نے ملایا عبد کو معبود سے 
آج اس مردِ خدا گنجِ شکر کا عرس ہے 

لوگ آتے ہیں یہاں حق سے تعلق جوڑنے 
درسِ پیمانِ وفا گنجِ شکر کا عرس ہے 

پاؤں دھرنے کو جگہ ملتی نہیں ہے شہر میں 
بھیڑ یہ کیسی ہے کیا گنجِ شکر کا عرس ہے؟ 

یا تو پھر بغداد میں ہے بارگاہِ دستگیر 
اہلِ دل کی عید یا گنجِ شکر کا عرس ہے 

کھینچتا تھا مجھ کو رضواں خلد کی جانب نصیرؔ 
وہ تو میں نے کہہ دیا گنجِ شکر کا عرس ہے

 

03/08/2022

Zi Qadr Turabul Haq

ذی قدر تراب الحق، ذی جاہ تراب الحق

اسرار شریعت کے آگاہ تراب الحق

دکھلائے زمانے کو افکار کے وہ جوہر
حیرت سے پکار اُٹّھے، سب واہ تراب الحق

کیا سوز بلالی تھا کیا جذبِ اویسی تھا
تو عاشق صادق تھا، والله تراب الحق

کردار کے جلوؤں میں کھویا تھا جہاں سارا
افسوس ہوئے رخصت، نا گاہ تراب الحق

سَکتے میں زمانہ ہے، رحلت کی خبر سن کر
غمگین ہیں اہل حق، سب آہ ! تراب الحق

تو فکر رضا کا اک، بے باک مجاہد تھا
فرقت ہے تری ہم کو، جانکاہ تراب الحق

ہر دشمن ایماں پر، غالب تھی تری جرأت
نا کام رہے سارے بد خواہ تراب الحق

مسلک کی حفاظت سے، پیچھے نہ ہٹے تا عمر
تجھ پر نہ چلا "جبر و اِکراہ" تراب الحق

بڑھ چڑھ کے سدا تو نے ملّت کی حمایت کی
کس درجہ تھی ملّت کی، پرواہ تراب الحق

مدھم نہ کبھی ہوں گے، جلوے تری حکمت کے
تو نیّر ملّت ہے، اے شاہ تراب الحق

چھوڑیں گے نہ ہرگز ہم، دستورِ عمل تیرا
تا حشر رہے گا تو، ہمراہ تراب الحق

ذرے تری چوکھٹ کے، ہمدوش ثریا ہیں
تو عشق رسالت کا، اک ماہ تراب الحق

تا حشر رہے تیرے، مرقد پہ گہر باری
اعزاز تجھے بخشے الله تراب الحق

کردارِ حسینی کے، بنتے ہیں جہاں انجم
انوار کا مرکز ہے درگاہ ترا ب الحق

ہاتھوں میں ہے جنکے بھی، اے شاہ ترا دامن
وہ لوگ نہیں ہوں گے گمراہ تراب الحق

اعجاز و شَرَف تیرا، کیا مجھ سے بیاں ہوگا
ہے فکرِ فریدی تو، کوتاہ تراب الحق

از فریدی صدیقی مصباحی - مسقط عمان

 

Mard E Momin Mard E Haq

مرد مومن مرد مومن مرد حق تراب الحق

مسلمانوں کے نوری پیشوا حضرت تراب الحق

گزاری حق کی ترویج و اشاعت میں حیات اپنی
مقدس دین کے تھے رہنما حضرت تراب الحق

رہے پُر جوش داعی مسلکِ احمد رضا کے وہ
تھے حق گو حق نگر حق آشنا حضرت تراب الحق

خطابت ہوکے وہ تحریر یا تدریس کا میداں
رہے ہر گامزاں ذیشاں مقتدی حضرت تراب الحق

دعائے مفتی اعظم کی کچھ ایسی ہوئی تاثیر
بنے ہر دل عزیز اور با صفا حضرت تراب الحق

کبھی یہ اہلسنت بھول پائیں غیر ممکن ہے
تھے ایسے حامل خلق و وفا حضرت تراب الحق

@NaatLyricsTKR

 

02/08/2022

Karbala Hai

ہر لب پہ ہر زباں پر تقریر کربلا ہے

دنیا میں جا بجا بس تشہیر کربلا ہے

مومن کا بچہ بچہ تسخیر کربلا ہے
سینے میں اس کے ہردم توقیر کربلا ہے

اس کی یزیدیوں ! کو بو بھی نہیں میسر
باغ جناں جو ہے وہ جاگیر کربلا ہے

جلوہ فگن ہیں میرے دل میں حسین اعظم
"آنکھوں کی پتلیوں میں تصویر کربلا ہے"

جانباز دین حق کے اس میں لہو بہیں ہیں
اللہ کتنی اعلی تقدیر کربلا

کوئی پتہ نہیں ہے شمر لعیں کا لیکن
پر اب بھی ہر سو ذکر شبیر کربلا ہے

کیسےنہ رعشہ طاری قلب و جگر میں ہوجب
آنکھیں جو پڑھ رہی ہیں تحریر کربلا ہے

اس کی زباں سے صادر حقانیت ہی ہوگی
جس کی زباں میں نازاؔں تاثیر کربلا ہے

معصوم ننھے اصغر کو راہ حق پہ نازاؔں
قرباں کیا ہے جس نے وہ میر کربلا ہے

نتیجۂ فکر: صدام حسین نازاؔں ، پورنوی

 

01/08/2022

Maula Umar

فلک جس کا پڑھے خطبہ وہی فاروقِ اعظم ہیں
زمیں پر جس کا ہے شہرا وہی فاروقِ اعظم ہیں

وہ جس نے خشک دریا پر حکومت کرکے بتلایا
بہایا نیل کا دھارا وہی فاروقِ اعظم ہیں

رسولِ پاک نے اپنی خلافت اور اجازت سے
جسے ہے خوب چمکایا وہی فاروقِ اعظم ہیں

میرے صدیقِ اکبر کی نیابت جانشینی کا
بندھا ہے جس کے سر سہرا وہی فاروقِ اعظم ہیں

جسے بس دیکھ کر شیطان رستہ ناپ لیتا تھا
ہے جس سے کفر تھرّایا وہی فاروقِ اعظم ہیں

حکومت جس کی چلتی تھی ہواؤں اور پانی پر
ہے کہتی مسجدِ اقصیٰ وہی فاروقِ اعظم ہیں

فلک دن رات جھک جھک کر سلامی پیش کرتا ہے
ہے جس کا ہر طرف نعرہ وہی فاروقِ اعظم ہیں

قؔیامِ قادری صبح و مسا دربار پر جن کے
فرشتے دیتے ہیں پہرا وہی فاروقِ اعظم ہیں

 

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...