13/03/2022

Peshe haq muzda shafaat

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے ​

آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے​

دل نکل جانے کی جا ہے آہ کن آنکھوں سے وہ ​
ہم سے پیاسوں کے لئے دریا بہاتے جائیں گے​

کشتگانِ گرمیِ محشر کو وہ جانِ مسیح​
آج دامن کی ہوا دے کر جِلاتے جائیں گے​

ہاں چلو حسرت زدوں سنتے ہیں وہ دن آج ہے
تھی خبر جس کی کہ وہ جلوہ دکھاتے جائیں گے​

کچھ خبر بھی ہے فقیرو آج وہ دن ہے کہ وہ ​
نعمتِ خلد اپنے صدقے میں لٹاتے جائیں گے​

خاک افتادو بس اُن کے آنے ہی کی دیر ہے​
خود وہ گر کر سجدہ میں تم کو اٹھاتے جائیں گے​

وسعتیں دی ہیں خدا نے دامنِ محبوب کو ​
جرم کھلتے جائیں گے اور وہ چھپاتے جائیں گے​

لو وہ آئے مسکراتے ہم اسیروں کی طرف​
خرمنِ عصیاں پہ اب بجلی گراتے جائیں گے​

آنکھ کھولو غمزدو دیکھو وہ گریاں آئے ہیں ​
لوحِ دل سے نقشِ غم کو اب مٹاتے جائیں گے​

سوختہ جانوں پہ وہ پُر جوشِ رحمت آئے ہیں ​
آبِ کوثر سے لگی دل کی بجھاتے جائیں گے​

پائے کوباں پل سے گزریں گے تری آواز پر
رَبِّ سَلِّم کی صدا پر وجد لاتے جائیں گے​

سرورِ دیں لیجئے اپنے ناتوانوں کی خبر​
نفس و شیطاں سیّدا کب تک دباتے جائیں گے​

حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائشِ مولیٰ کی دھوم​
مثلِ فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے​

خاک ہو جائیں عدو جل کر مگر ہم تو رضا
دَم میں جب تک دَم ہے ذکر اُن کا سناتے جائیں گے​


اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃاللہ علیہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...