بستی وہ بتاؤں کیسی ہے جیسے لوگ مدینہ کہتے ہیں
اک رحمت و نور کی دھرتی ہے جسے لوگ مدینہ کہتے ہیں
جاتے ہیں سوالی کی صورت آتے ہیں غزالی کی صورت
خیرات وہاں پہ بٹتی ہے جسے لوگ مدینہ کہتے ہیں
دنیا و دیں کا بھلا مانگو یا اس سے بھی بڑھ کے دعا مانگو
مقبول وہاں ہر عرضی ہے جسے لوگ مدینہ کہتے ہیں
اپنے تو ہیں اپنے غیروں کو اور دنیا بھر کے مریضوں کو
اکسیر وہاں کی مٹی ہے جسے لوگ مدینہ کہتے ہیں
کیونکر نہ معطر ہو آخر اے بادِ صبا تیرا دامن
بو تو بھی وہیں سے لاتی ہے جسے لوگ مدینہ کہتے ہیں
آنکھوں میں چمک آجاتی ہے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے
کیا مرکز کیف و مستی ہے جسے لوگ مدینہ کہتے ہیں
پوچھا جو گیا مجبوروں کی دل جوئی کا مرکز بھی ہے کوئی
ارفؔق نے پکارا ہاں جی ہے جسے لوگ مدینہ کہتے ہیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Thanks for you