17/03/2022

میرے مولا کرم ہو کرم

میرے مولا کرم ہو کرم میرے مولا کرم ہو کرم

تُجھ سے فریاد کرتے ہیں ہم میرے مولا کرم ہو کرم

بے کسوں کو سہارا ملے ڈوبتوں کو کنارا ملے
سر سے طوفان پل میں ٹلے جو تیرا اِک اشارہ ملے
تو جو کر دے مہربانیاں دور ہو جائے ہر اِیک غم
میرے مولا کرم ہو کرم میرے مولا کرم ہو کرم

یہ زمیں اور یہ آسماں تیرے قبضے میں دونوں جہاں
سب پہ تو ہی تو ہے مہرباں ہم تیرے در سے جائیں کہاں
تو ہی سنتا ہے سب کی صدا تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم
میرے مولا کرم ہو کرم میرے مولا کرم ہو کرم

بھول بیٹھے ہیں تیرا کہا تونے قرآن میں جو لکھا
آج ہیں در بدر اس طرح کوئی بکھرے لڑی جس طرح
ایک کر ہم کو بہرِ شہا ہم نے خود پہ کیے ہیں ستم
 میرے مولا کرم ہو کرم میرے مولا کرم ہو کرم

ہم کہ رنجور و بے حال ہیں بے کس و خستہ احوال ہیں
اپنے دامن میں آنسوں ہیں بس پاک کردے ہمارے نَفَس
ذکر تیرا جہاں بھی کریں ایک پل میں ہو یہ آنکھیں نم
میرے مولا کرم ہو کرم میرے مولا کرم ہو کرم
 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...