10/03/2022

Meri ulfat madine se Yun hi nahin

 میری الفت مدینے سے یوں ہی نہیں میرے آقا کا روضہ مدینے میں ہے

میں مدینے کی جانب نہ کیسے کھینچوں میرا دین اور دنیا مدینے میں ہے


پھول کھلتے ہیں پڑھ پڑھ کے صلی علیٰ جھوم کر کہہ رہی ہے یہ باد صبا 

ایسی خوشبو چمن کے گلوں میں کہاں جیسی خوشبو نبی کے پسینے میں ہے


اک ہے جنت تیری اک ہے حجرہ تیرا میرے مولا بتا اب میں جاؤں کہاں

بھیج دی رب نے جنت اسی حجرے میں امّی عائشہ کا حجرہ مدینے میں ہے


اپنے روضے میں زندہ ہے میرا نبی روضہ جنت ہے شک تو نہ کرنا کبھی

مردے جنت میں ہوتے نہیں دوستو اور وہ جنت کا ٹکڑا مدینے میں ہے


عرشِ اعظم سے جس کی بڑی شان ہے روضہ مصطفٰی جس کی پہچان ہے

جس کا ہم پلا کوئی محلہ نہیں ایک ایسا محلہ مدینے میں ہے


پھر مجھے موت کا کوئی خطرہ نہ ہو موت کیا زندگی کی بھی پروا نہ ہو

کاش سرکار اک بار مجھ سے کہیں اب تیرا مرنا جینا مدینے میں ہے


سرور ِ دو جہاں سے دعا ہے مری، ہاں بد چشم تر التجا ہے مری

ان کی فہرست مین میرا بھی نام ہو ، جن کا روز آنا جانا مدینے میں ہے


جب نظر سوئے طیبہ روانہ ہوئی ساتھ دل بھی گیا ساتھ جاں بھی گئی

میں منیر اب رہوں گا یہاں کس لئے میرا سارا اثاثہ مدینے میں ہے 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...