19/03/2022

مولا تو بخش دے

 بے حد ذلیل و خوار ہوں مولا تو بخش دے

توبہ میری توبہ میری توبہ تو بخش دے

میں آج بے قرار ہوں مولا تو بخش دے
عصیاں کے زیر بار مولا تو بخش دے
مغموم دل فگار ہوں مولا تو بخش دے
شرمندہ کردگار ہوں مولا تو بخش دے
میں زار نزار ہوں مولا تو بخش دے

میں نے بھلا دیا مجھے مرنا ہے ایک دن
مر کر اندھیری قبر میں جانا ہے ایک دن
اعمال کا حساب بھی دینا ہے ایک دن
ہاں پل صراط سے بھی گزرنا ہے ایک دن
مجرم ہوں نابکار ہوں مولا تو بخش دے

کچھ رکھ سکا لحاظ بھی نہ ممنوعات کا
کیا کیا نہ ارتکاب کیا منکرات کا
حاصل نہ ہو سکا مجھے عرفان ذات کا
افسوس میں غلام رہا خواہشات کا
نادان ہوں گنوار ہو مولا تو بخش دے

اس درجہ بڑھ گئی میرے دل کی یہ مردگی
میں لا سکا نہ اپنے عمل میں بھی عمدگی
اور کر سکا نہ کچھ بھی ادا حق بندگی
برباد کر گیا ہوں خدا اپنی زندگی
ظاہر میں دین دار ہوں مولا تو بخش دے

کوئی نہ دیکھ لے یہی دھڑکا مجھے لگا
تو دیکھتا رہا مجھے احساس نہ رہا
میں بد لحاظ عفو پہ بھولا رہا سدا
بے شرم بن گیا مجھے آئی نہ کچھ حیا
میں وہ سیاہ کار ہوں مولا تو بخش دے

اقرار ہے مجھے مرے مولا میں ہوں لعین
مایوس پر نہیں تیری رحمت سے اے رحیم
خالی نہ بھیج درسے تیرے اے میرے کریم
میرے گناہ بھی بخش تیری شان ہے عظیم
میں بھی امیدوار ہوں مولا تو بخش دے

کرتوت دیکھتا ہوں تو اٹھتا ہے دل میں ہول
رحمت پکارتی ہے کہ مصحف ذرا تو کھول
لا تقنطو بھی تجھ کو ملے گا خدا کا قول
سارے گناہ دھلیں گے بس ایک بار عبؔید بول
یا رب میں شرمسار ہوں مولا تو بخش دے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...