31/03/2022

اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا


اے سبز گنبد والےﷺ منظور دُعا کرنا

جب وقتِ نزع آئے دیدار عطا کرنا

اے نورِ خُدا ﷺ آکر آنکھوں میں سَما جانا
یا در پہ بُلا لینا یا خواب میں آجانا
اے پردہ نشیں دِل کے پردے میں رہا کرنا 

مَیں قبر اندھیری میں گھبراؤں گا جب تنہا
امداد میری کرنے آجانا میرے آقاﷺ
روشن میری تُربت کو لِلّٰہ ذرا کرنا

مجرم ہو جہاں بھر کا محشر میں بھرم رکھنا
رُسوائے زمانہ ہوں دامن میں چُھپا لینا
مقبول دُعا میری محبوبِ خُدا ﷺ کرنا

محبوب اِلٰہی ﷺ سا کوئی نہ حَسِیں دیکھا
یہ شان ہے اُن کی کہ سایہ بھی نہیں دیکھا
اللہ نے سائے کو چاہا نہ جُدا کرنا

چہرے سے ضیا پائی اِن چاند سِتاروں نے
اُس در سے شِفا پائی دُکھ درد کے ماروں نے
آتا ہے اُنہیں صابؔر ہر دُکھ کی دَوا کرنا

🤲🏻آمیــــــــــــن ثم آمیــــــــــن يا رب العالمـــــــــین

 

29/03/2022

Kuchh Karein Apne Yaar Ki Batein

کچھ کریں اپنے یار کی باتیں

کچھ دلِ داغدار کی باتیں

ہم تو دل اپنا دے ہی بیٹھے ہیں
اب یہ کیا اختیار کی باتیں

میں بھی گزرا ہوں دورِ الفت سے 
مت سنا مجھ کو پیار کی باتیں

اہلِ دل ہی یہاں نہیں کوئی 
کیا کریں حالِ زار کی باتیں

پی کے جامِ محبتِ جاناں
اللہ اللہ خمار کی باتیں

مر نہ جانا متاعِ دنیا پر 
سن کے تو مالدار کی باتیں

یوں نہ ہوتے تم اسیرِ ذلت 
گر سنتے ہوشیار کی باتیں

ہر گھڑی وجد میں رہے اختر
کیجے اس دیار کی باتیں

حضور تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان علیہ الرحمہ 

25/03/2022

Yad E Nabi Ka Gulshan

یادِ نبیﷺ کا گلشن مہکا مہکا لگتا ہے

محفل میں موجود ہیں آقاﷺ ایسا لگتا ہے

نامِ محمدﷺ کتنا میٹھا میٹھا لگتا ہے
پیارے نبیﷺ کا ذکر بھی ہم کو پیارا لگتا ہے

لب پر نغمے صلِ علیٰ کے ہاتھوں میں کشکول
دیکھو تو سرکار ﷺ کا منگتا کیسا لگتا ہے

آنکھوں میں مازاغ کا کجلا سرطہٰ کا تاج
کیسے کہوں رحمت والا ہم سا لگتا ہے

غوث قطب ابدال قلندر سب اُسکے محتاج
میرا داتا ہر داتا کا داتا لگتا ہے

اَوادنیٰ کی سیج سجی ہےعرش بریں پرآج
حق کا دُلارا باندھ کے سہرا دولہا لگتا ہے

آو سنائیں اپنے نبیﷺ کو اپنے من کی بات
اُنﷺ کے علاوہ کون نیازؔی اپنا لگتا ہے

 

23/03/2022

تیرے صدقے میں آقا ﷺ


حسبی ربی جل اللہ مافی قلبی غیر اللہﷻ

نور محمد صلی اللہ لا الٰہ الا اللہﷻ

تیرے صدقے میں آقاﷺ سارے جہاں کو دین ملا

بے دینوں نے کلمہ پڑھا لا الٰہ الا اللہﷻ


سمت نبیﷺ بوجہل گیا آقاﷺ سے اس نے یہ کہا

گر ہو نبی تو بتلاؤ ذرا میری مٹھی میں ہے کیا

آقا ﷺ کا فرمان ہوا اور فضلِ رحمان ہوا

مٹھی سے پتھر بولا لا الٰہ الا اللہﷻ


وہ جو بلال حبشی ہے سرور دیں کا پیارا ہے

دنیا کے ہر عاشق کی آنکھوں کا وہ تارا ہے

ظلم ھوئے کتنے اس پر سینے پر رکھا پتھر

لب پر پھر بھی جاری تھا لا الٰہ الا اللہﷻ


اپنی بہن سے بولے عمر یہ تو بتا کیا کرتی تھی

میرے آنے سے پہلے کیا چپکے چپکے پڑھتی تھی

بہن نے جب قرآن پڑھا سن کے کلام پاک خدا

دل یہ عمر کا بول اٹھا لا الٰہ الا اللہﷻ


دنیا کے انسان سبھی شرک و بدعت کرتے تھے

رب کے تھے بندے پھر بھی بت کی عبادت کرتے تھے

بت خانے یوں تھرائے میرے نبی ﷺ جب آئے

کہنے لگی مخلوق خدا لا الٰہ الا اللہﷻ


گلشن کلمہ پڑتی ہے چڑیا کلمہ پڑھتی ہے

دُنیا کی مخلوق سبھی ذکر خدا کا کرتی ہے

کہتے سبھی ہے جن و بشر کہتا شجر ہے کہتا ہجر

کہتا ہے پتہ پتہ لا الہٰ الا اللهﷻ


میرے نبیﷺ کے غلاموں کا رتبہ بڑا ہے شان بڑی

چاہے غوثِ اعظم ہو یا ہو داتا ہجویری

یاد نہیں تمہیں وہ منظر جب خواجہ نے خود چل کر

نوِّے لاکھ کو پڑھوایا لا الٰہ الا اللہﷻ
 

22/03/2022

Namaz E Ishq

 

نمازِ عشق تلواروں کے سائے میں ادا کرنا مسلمانوں کا شیوہ ہے محمد ﷺ سے وفا کرنا  ہمیں ایمان کا مطلب بس اتنا ہی سمجھ آیا رسولِ پاک ﷺ کی عظمت پہ تن من فدا کرنا  جسے کٹنا نہیں آتا ہے ناموسِ رسالتﷺ پر بدن پر بوجھ ہے وہ سر اٹھا کر بوجھ کیا کرنا  ہمارے دین کا پہلا سبق عشقِ رسالت ﷺ ہے مقامِ مصطفیٰ ﷺ سے ہے جہاں کو آشنا کرنا

نماز عشق تلواروں کے سائے میں ادا کرنا

 مسلمانوں کا شیوہ ہے محمد ﷺ سے وفا کرنا


ہمیں ایمان کا مطلب بس اتنا ہی سمجھ آیا

رسولِ پاک ﷺ کی عظمت پہ تن من فدا کرنا


جسے کٹنا نہیں آتا ہے ناموسِ رسالتﷺ پر

بدن پر بوجھ ہے وہ سر اٹھا کر بوجھ کیا کرنا


ہمارے دین کا پہلا سبق عشقِ رسالت ﷺ ہے

مقامِ مصطفیٰ ﷺ سے ہے جہاں کو آشنا کرنا

19/03/2022

مولا تو بخش دے

 بے حد ذلیل و خوار ہوں مولا تو بخش دے

توبہ میری توبہ میری توبہ تو بخش دے

میں آج بے قرار ہوں مولا تو بخش دے
عصیاں کے زیر بار مولا تو بخش دے
مغموم دل فگار ہوں مولا تو بخش دے
شرمندہ کردگار ہوں مولا تو بخش دے
میں زار نزار ہوں مولا تو بخش دے

میں نے بھلا دیا مجھے مرنا ہے ایک دن
مر کر اندھیری قبر میں جانا ہے ایک دن
اعمال کا حساب بھی دینا ہے ایک دن
ہاں پل صراط سے بھی گزرنا ہے ایک دن
مجرم ہوں نابکار ہوں مولا تو بخش دے

کچھ رکھ سکا لحاظ بھی نہ ممنوعات کا
کیا کیا نہ ارتکاب کیا منکرات کا
حاصل نہ ہو سکا مجھے عرفان ذات کا
افسوس میں غلام رہا خواہشات کا
نادان ہوں گنوار ہو مولا تو بخش دے

اس درجہ بڑھ گئی میرے دل کی یہ مردگی
میں لا سکا نہ اپنے عمل میں بھی عمدگی
اور کر سکا نہ کچھ بھی ادا حق بندگی
برباد کر گیا ہوں خدا اپنی زندگی
ظاہر میں دین دار ہوں مولا تو بخش دے

کوئی نہ دیکھ لے یہی دھڑکا مجھے لگا
تو دیکھتا رہا مجھے احساس نہ رہا
میں بد لحاظ عفو پہ بھولا رہا سدا
بے شرم بن گیا مجھے آئی نہ کچھ حیا
میں وہ سیاہ کار ہوں مولا تو بخش دے

اقرار ہے مجھے مرے مولا میں ہوں لعین
مایوس پر نہیں تیری رحمت سے اے رحیم
خالی نہ بھیج درسے تیرے اے میرے کریم
میرے گناہ بھی بخش تیری شان ہے عظیم
میں بھی امیدوار ہوں مولا تو بخش دے

کرتوت دیکھتا ہوں تو اٹھتا ہے دل میں ہول
رحمت پکارتی ہے کہ مصحف ذرا تو کھول
لا تقنطو بھی تجھ کو ملے گا خدا کا قول
سارے گناہ دھلیں گے بس ایک بار عبؔید بول
یا رب میں شرمسار ہوں مولا تو بخش دے

17/03/2022

میرے مولا کرم ہو کرم

میرے مولا کرم ہو کرم میرے مولا کرم ہو کرم

تُجھ سے فریاد کرتے ہیں ہم میرے مولا کرم ہو کرم

بے کسوں کو سہارا ملے ڈوبتوں کو کنارا ملے
سر سے طوفان پل میں ٹلے جو تیرا اِک اشارہ ملے
تو جو کر دے مہربانیاں دور ہو جائے ہر اِیک غم
میرے مولا کرم ہو کرم میرے مولا کرم ہو کرم

یہ زمیں اور یہ آسماں تیرے قبضے میں دونوں جہاں
سب پہ تو ہی تو ہے مہرباں ہم تیرے در سے جائیں کہاں
تو ہی سنتا ہے سب کی صدا تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم
میرے مولا کرم ہو کرم میرے مولا کرم ہو کرم

بھول بیٹھے ہیں تیرا کہا تونے قرآن میں جو لکھا
آج ہیں در بدر اس طرح کوئی بکھرے لڑی جس طرح
ایک کر ہم کو بہرِ شہا ہم نے خود پہ کیے ہیں ستم
 میرے مولا کرم ہو کرم میرے مولا کرم ہو کرم

ہم کہ رنجور و بے حال ہیں بے کس و خستہ احوال ہیں
اپنے دامن میں آنسوں ہیں بس پاک کردے ہمارے نَفَس
ذکر تیرا جہاں بھی کریں ایک پل میں ہو یہ آنکھیں نم
میرے مولا کرم ہو کرم میرے مولا کرم ہو کرم
 

16/03/2022

Furkate taiba

 

فرقت طیبہ کی وحشت دل سے جائے خیر سے

میں مدینے کو چلوں وہ دن پھر آئے خیر سے

دل میں حسرت کوئی باقی رہ نہ جائے خیر سے
راہِ طیبہ میں مجھے یوں موت آئے خیر سے

میرے دن پھر جائیں یا رب شب وہ آئے خیر سے
دل میں جب ماہِ مدینہ گھر بنائے خیر سے

رات میری دن بنے ان کی لقائے خیر سے
قبر میں جب ان کی طلعت جگمگائے خیر سے

ہیں غنی کے در پہ ہم بستر جمائے خیر سے
خیر کے طالب کہاں جائیں گے جائے خیر سے

وہ خرام ناز فرمائیں جو پائے خیر سے
کیا بیاں ہو زندگی وہ دل جو پائے خیر سے

مر کے بھی دل سے نہ جائے الفت باغِ نبی
خلد میں بھی باغِ جاناں یاد آئے خیر سے

رنج و غم ہوں بے نشاں آئے بہارِ بے خزاں
دل میں میرے باغِ جاناں کی ہوائے خیر سے

اس طرف بھی دو قدم جلوے خرام ناز کے
رہگذر میں ہم بھی ہیں آنکھیں بچھائے خیر سے

انتظار ان سے کہے ہے بزبان چشم نم
کب مدینہ میں چلوں کب تو بلائے خیر سے

شام تنہائی بنے رشک ہزاراں انجمن
یادِ جاناں دل میں یوں دھومیں مچائے خیر سے

فرقت طیبہ کے ہاتھوں جیتے جی مردہ ہوئے
موت یا رب ہم کو طیبہ میں جلائے خیر سے

ہو مجھے سیر گلستان مدینہ یوں نصیب
میں بہاروں میں چلوں خود کو گمائے خیر سے

زندہ باد اے آرزوئے باغ طیبہ زندہ باد
تیرے دم سے ہیں زمانے کے ستائے خیر سے

نجدیوں کی چیرہ دستی یا الہٰی تا بکے
یہ بلائے نجدیہ طیبہ سے جائے خیر سے

جھانک لو آنکھوں میں ان کی حسرتِ طیبہ لئے
زائر طیبہ ضیائے طیبہ لائے خیر سے

گوش بر آواز ہوں قدسی بھی اس کے گیت پر
باغِ طیبہ میں جب اخترؔ گنگنائے خیر سے

14/03/2022

Naam E Muhammad

 نامِ محمد ﷺ لیا کرو دل کو روشن کیا کرو

لے کر جام محبت کا ان کے کرم سے پیا کرو

مالک اور ملائک اور سارے پڑھیں درود نبی پر
رب کو اگر خوش کرنا چاہو سنو توجہ دے کر
کام یہ تم بھی کیا کرو نام محمد ﷺ لیا کرو

سورۂ نور تلاوت کر کے شمع نور جلاؤ
ان کے نور کا تذکرہ کرکے دنیا کو چمکاؤ
تاریکی میں جیا کرو نام محمد ﷺ لیا کرو

دستِ کرم سے اسمِ محمد ﷺ نقش کرو تم دل پر
ہر لمحہ ہاتھوں میں اپنے سوزن عشق کی لے کر
چاک گریباں سیا کرو نام محمد ﷺ لیا کرو

ہر آفت ٹل جائے گی سر سے دور بلائیں ہوگی
دنیا میں جتنی ہیں جفائیں سب ہی وفائیں ہونگی
ان کی دہائی دیا کرو نام محمد ﷺ لیا کر

نعت نبیﷺ کی نور دلوں کا اور چہروں کا غازہ
پڑھ پڑھ نعتیں ریاضؔ نبیﷺ کی دل رکھ اپنا تازہ
یوں دنیا میں جیا کرو نام محمد ﷺ لیا کرو

13/03/2022

Peshe haq muzda shafaat

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے ​

آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے​

دل نکل جانے کی جا ہے آہ کن آنکھوں سے وہ ​
ہم سے پیاسوں کے لئے دریا بہاتے جائیں گے​

کشتگانِ گرمیِ محشر کو وہ جانِ مسیح​
آج دامن کی ہوا دے کر جِلاتے جائیں گے​

ہاں چلو حسرت زدوں سنتے ہیں وہ دن آج ہے
تھی خبر جس کی کہ وہ جلوہ دکھاتے جائیں گے​

کچھ خبر بھی ہے فقیرو آج وہ دن ہے کہ وہ ​
نعمتِ خلد اپنے صدقے میں لٹاتے جائیں گے​

خاک افتادو بس اُن کے آنے ہی کی دیر ہے​
خود وہ گر کر سجدہ میں تم کو اٹھاتے جائیں گے​

وسعتیں دی ہیں خدا نے دامنِ محبوب کو ​
جرم کھلتے جائیں گے اور وہ چھپاتے جائیں گے​

لو وہ آئے مسکراتے ہم اسیروں کی طرف​
خرمنِ عصیاں پہ اب بجلی گراتے جائیں گے​

آنکھ کھولو غمزدو دیکھو وہ گریاں آئے ہیں ​
لوحِ دل سے نقشِ غم کو اب مٹاتے جائیں گے​

سوختہ جانوں پہ وہ پُر جوشِ رحمت آئے ہیں ​
آبِ کوثر سے لگی دل کی بجھاتے جائیں گے​

پائے کوباں پل سے گزریں گے تری آواز پر
رَبِّ سَلِّم کی صدا پر وجد لاتے جائیں گے​

سرورِ دیں لیجئے اپنے ناتوانوں کی خبر​
نفس و شیطاں سیّدا کب تک دباتے جائیں گے​

حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائشِ مولیٰ کی دھوم​
مثلِ فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے​

خاک ہو جائیں عدو جل کر مگر ہم تو رضا
دَم میں جب تک دَم ہے ذکر اُن کا سناتے جائیں گے​


اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃاللہ علیہ

11/03/2022

Basti Woh Bataon Kaisi Hai



بستی وہ بتاؤں کیسی ہے جیسے لوگ مدینہ کہتے ہیں

اک رحمت و نور کی دھرتی ہے جسے لوگ مدینہ کہتے ہیں


جاتے ہیں سوالی کی صورت آتے ہیں غزالی کی صورت

خیرات وہاں پہ بٹتی ہے جسے لوگ مدینہ کہتے ہیں


دنیا و دیں کا بھلا مانگو یا اس سے بھی بڑھ کے دعا مانگو

مقبول وہاں ہر عرضی ہے جسے لوگ مدینہ کہتے ہیں


اپنے تو ہیں اپنے غیروں کو اور دنیا بھر کے مریضوں کو

اکسیر وہاں کی مٹی ہے جسے لوگ مدینہ کہتے ہیں


کیونکر نہ معطر ہو آخر اے بادِ صبا تیرا دامن

بو تو بھی وہیں سے لاتی ہے جسے لوگ مدینہ کہتے ہیں


آنکھوں میں چمک آجاتی ہے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے

کیا مرکز کیف و مستی ہے جسے لوگ مدینہ کہتے ہیں


پوچھا جو گیا مجبوروں کی دل جوئی کا مرکز بھی ہے کوئی

ارفؔق نے پکارا ہاں جی ہے جسے لوگ مدینہ کہتے ہیں

10/03/2022

Meri ulfat madine se Yun hi nahin

 میری الفت مدینے سے یوں ہی نہیں میرے آقا کا روضہ مدینے میں ہے

میں مدینے کی جانب نہ کیسے کھینچوں میرا دین اور دنیا مدینے میں ہے


پھول کھلتے ہیں پڑھ پڑھ کے صلی علیٰ جھوم کر کہہ رہی ہے یہ باد صبا 

ایسی خوشبو چمن کے گلوں میں کہاں جیسی خوشبو نبی کے پسینے میں ہے


اک ہے جنت تیری اک ہے حجرہ تیرا میرے مولا بتا اب میں جاؤں کہاں

بھیج دی رب نے جنت اسی حجرے میں امّی عائشہ کا حجرہ مدینے میں ہے


اپنے روضے میں زندہ ہے میرا نبی روضہ جنت ہے شک تو نہ کرنا کبھی

مردے جنت میں ہوتے نہیں دوستو اور وہ جنت کا ٹکڑا مدینے میں ہے


عرشِ اعظم سے جس کی بڑی شان ہے روضہ مصطفٰی جس کی پہچان ہے

جس کا ہم پلا کوئی محلہ نہیں ایک ایسا محلہ مدینے میں ہے


پھر مجھے موت کا کوئی خطرہ نہ ہو موت کیا زندگی کی بھی پروا نہ ہو

کاش سرکار اک بار مجھ سے کہیں اب تیرا مرنا جینا مدینے میں ہے


سرور ِ دو جہاں سے دعا ہے مری، ہاں بد چشم تر التجا ہے مری

ان کی فہرست مین میرا بھی نام ہو ، جن کا روز آنا جانا مدینے میں ہے


جب نظر سوئے طیبہ روانہ ہوئی ساتھ دل بھی گیا ساتھ جاں بھی گئی

میں منیر اب رہوں گا یہاں کس لئے میرا سارا اثاثہ مدینے میں ہے 


08/03/2022

امام اعظم ابو حنیفہ

 

نویدِ ذیشانِ شاہِ طیبہ امام اعظم ابوحنیفہ

قلوبِ ملت کے ہیں مسیحا امام اعظم ابو حنیفہ

عطائے خیرالواریٰ بھی ہیں یہ دعائے شیرِ خدا بھی ہیں یہ
امام جعفر کے نور دیدہ امام اعظم ابو حنیفہ

سبھی پہ واجب سپاس ان کا قرینِ قرآں قیاس کا
مسلمہ جن کا ہے طریقہ امام اعظم ابوحنیفہ

وہ حنبلی ہوں یا شافعی ہوں یا مالکی ہوں یا مقتدی ہوں
بنے ہیں سب کے لئے وسیلہ امام اعظم ابو حنیفہ

یہ غوث ابدال اور قلندر، ہیں حنیفہ دائرے کے اندر
یہ سب کے ہیں نازش شریعہ امام اعظم ابو حنیفہ

مفسروں کیلیے راہبر ہیں اور محدثوں کے بھی یہ قمر ہیں
کہ جن کے اوصاف ہیں جمیلہ امام اعظم ابو حنیفہ

یہ جاننا ہو گا سب کو ہر دم ہمارا ہر پیشوا ہے اعظم
تبھی تو نعرہ ہے یہ شنیدہ امام اعظم ابو حنیفہ

مچل رہے ہیں غلام سارے لگا رہے ہیں یہ ان کے نعرے
پڑھا ہے مظؔہر نے جب قصیدہ امام اعظم ابو حنیفہ

07/03/2022

ہمارے آقا ہمارے مولیٰ امام اعظم ابو حنیفہ


 ہمارے آقا ہمارے مولیٰ امام اعظم ابو حنیفہ

ہمارے ملجاء ہمارے ماویٰ امام اعظم ابو حنیفہ


تمہی کو مانا تمہی کو جانا تمہی تو سب کے امام ٹھہرے

ملا نہ کوئی امام تم سا امام اعظم ابو حنیفہ


زمانہ بھر نے زمانہ بھر میں بہت تجسس کیا ولیکن

ملا نہ کوئی امام تم سا امام اعظم ابو حنیفہ


سپہر علم و عمل کے سورج تمہی ہو سب ہیں تمہارے تارے

تمہی سے چمکا ہے جو بھی چمکا امام اعظم ابو حنیفہ


تمہارے آگے تمام عالم نہ کیوں کرے زانوئے ادب خم

کہ پیشوایانِ دیں نے مانا امام اعظم ابو حنیفہ


نہ کیوں کریں ناز اہل سنت کہ تم سے چمکا نصیبِ امت

سراجِ امت ملا ہو تم سا امام اعظم ابو حنیفہ


خدا نے تجھ کو وہ دی ہے رفعت کہ تیرا منسوب بھی ہے مرفوع

تیری اضافت میں رفع پایا امام اعظم ابو حنیفہ


ہوا اُولی الْاَمر سے یہ ثابت کہ تیری طاعت ضروری واجب

خدا نے تم کو کیا ہمارا امام اعظم ابو حنیفہ


کسی کی آنکھوں کا تو ہے تارا کسی کے دل کا بنا سہارا

مگر کسی کے جگر میں آرا امام اعظم ابو حنیفہ


جو تیری تقلید شرک ہوتی محدثین سارے ہوتے مشرک

بخاری و مسلم ابن ماجہ امام اعظم ابو حنیفہ


یہ جتنے فقہاء محدثیں ہیں تمہارے خرمن سے خوشہ چیں ہیں

ہوں واسطے سے کہ بے وسیلہ امام اعظم ابو حنیفہ


سراج تو ہے بغیر تیرے جو کوئی سمجھے حدیث و قرآں

پھرے بھٹکتا نہ پائے رستہ امام اعظم ابو حنیفہ


خبر لے اے دستگیر امت ہے سالکؔ بے خبر پہ شدّت

وہ تیرا ہو کر پھرے بھٹکتا امام اعظم ابو حنیفہ


کلام : حکیم الامت مفتی احمد یار خان سالک نعیمی نور اللہ مرقدہٗ 

04/03/2022

اللہ ہی اللہ کیا کرو

 اللہ ہی اللہ کیا کرو دکھ نہ کسی کو دیا کرو

جو دنیا کا مالک ہے نام اسی کا لیا کرو


خلقِ خدا کو خوش کرنا ہے اللہ کو خوش کرنا

اور یہ بھی توفیق خدا ہے اللہ ہی اللہ کرنا

رب کو راضی کیا کرو دکھ نہ کسی کو دیا کرو


جو بھی معافی دل سے مانگے معاف کرو تم اسکو

جیسے تم اللہ سے معافی اپنے لئے چاہتے ہو

ویسے تم بھی کیا کرو دکھ نہ کسی کو دیا کرو


ماں کی ناراضی سے اپنی جنت کو برباد نہ کر

باپ کی نا فرمانی سے مولا کو تو ناراض نہ کر

اُف نہ کہو انکی خدمت میں سدا لبوں کو سیا کرو


مومن کو ایذا پہنچانا کیسا گناہ اعظم ہے

گالی دینے غیبت کرنے کا انجام جہنم ہے

کلمہ پڑھتے دم آخر ہو حق حق کہتے جیا کرو


گداگروں بھوک و پیاسوں کی ہر دم تم امداد کرو

بیوہ یتیم و غم کے ماروں کو ہر پل تم شاد کرو

بچو آہ سے مظلوموں کی کمزوروں پر دیا کرو


تمہیں خدا نے دین دیا قرآن دیا ایمان دیا

روزہ نماز اور حج و زکوٰۃ سے تم پر ہے احسان کیا

دین پہ جب جب آفت آئے جامِ شہادت پیا کرو

01/03/2022

Sarkar ki Batein


 آؤ کہ کریں! ان لب و رخسار کی باتیں سرکارﷺ کی باتیں

محبوبِ خدا پیکر و انوار کی باتیں سرکار ﷺ کی باتیں


جب کوئی نہیں کوئی نہیں کوئی سہارا غم خوار ہمارا
ہم کیوں نہ کریں اپنے خریدار کی باتیں سرکارﷺ کی باتیں


حسنین کی ہوں اکبر و اصغر کی ہوں باتیں زہرا و علی کی
ہر رنگ میں ہیں سیرت و کردار کی باتیں سرکارﷺ کی باتیں


اے کاش کہ محفل ہو ابو بکر و عمر کی عثمان و علی کی
یاروں سے سنیں ہم بھی کبھی یار کی باتیں سرکارﷺ کی باتیں


سورج کرے شبنم سے کہ جگنو سے ستارہ یا پھول سے تتلی
اس زلفِ معمبر کے ہیں اسرار کی باتیں سرکارﷺ کی باتیں


  دیتا تھا ابو جہل بھی بڑھ چڑھ کے گواہی اخلاصِ نبیﷺ کی
ہوتی تھی اگر لہجہ و گفتار کی باتیں سرکارﷺ کی باتیں

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...