07/10/2025

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی
پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی

نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا
عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ جائے گی

جابروں کے دبدبے وقفِ خزاں ہو جائیں گے
پھر بھی پورے زور میں ضربِ علی رہ جائے گی

جس قدر بھی نجدیوں کی شرک سازی تیز ہو
پھر بھی سینوں میں رقم حب ولی رہ جائے گی

جس نے جان و مال وارا عظمتِ اسلام پر
اِس جہاں میں خوب اُس بندگی رہ جائے گی

جس نے روز و شب پڑھا ہے اپنے آقاﷺ پے درود
آگ سے محفوظ اس کی کوٹھری رہ جائے گی

جو نظامِ مصطفٰی کے واسطے ہیں گامزن
بعد مرنے کے بھی رخ پہ تازگی رہ جائے گی

چھوڑ کر فیشن پرستی جو چلا سنَّت کے ساتھ
روزِ محشر خلد میں اس کی گلی رہ جائے گی

زندگی میں ڈر ہے جس کو آخرت کے روز کا
رب کرے تو عاقبت اس کی بَھلی رہ جائے گی

مجھ کو آصؔف فضلِ باری ہر گھڑی درکار ہے
خاک میں أعداء کی سازش اب مِلی رہ جائے گی

 

01/10/2025

Aastan Hai Ye Kis Shahe Zishan Ka

آستاں ہے یہ کس شاہِ ذیشان کا ، مرحبا مرحبا
قلب ہیبت سے لرزاں ہے انسان کا ، مرحبا مرحبا
ہے اثر بزم پر کس کے فیضان کا ، مرحبا مرحبا
گھر بسانے مری چشمِ ویران کا ، مرحبا مرحبا
چاند نکلا حسن کے شبستان کا ، مرحبا مرحبا

سر کی زینت عمامہ ہے عرفان کا ، مرحبا مرحبا
جُبہّ تن پر محمدﷺ کے اِحسان کا ، مرحبا مرحبا
رنگ آنکھوں میں زہرا کے فیضان کا ، مرحبا مرحبا
رُوپ چہرے پہ آیاتِ قُرآن کا ، مرحبا مرحبا
سج کے بیٹھا ہے نوشاہ جیلان کا ، مرحبا مرحبا

بزمِ کون و مکاں کو سجایا گیا ، آج صلِّ علیٰ
سائباں رحمتوں کا لگایا گیا ، آج صلِّ علیٰ
انبیا اولیاء کو بُلایا گیا ، آج صلِّ علی
اِبنِ زھرا کو دُولہا بنایا گیا ، آج صلِّ علی
عُرس ہے آج محبوبِ سُبحان کا ، مرحبا مرحبا

آسماں منزلت کس کا ایوان ہے ، واہ کیا شان ہے
آج خَلقِ خُدا کس کی مہمان ہے ، واہ کیا شان ہے
لاَ تَخَف کس کا مشہور فرمان ہے ، واہ کیا شان ہے
بالیقیں وہ شہنشاہِ جیلان ہے ، واہ کیا شان ہے
حق دیا جس کو قدرت نے اعلان کا ، مرحبا مرحبا

ہر طرف آج رحمت کی برسات ہے ، واہ کیا بات ہے
آج کُھلنے پہ قُفلِ مُہمّات ہے ، واہ کیا بات ہے
چار سُوجلوہ آرائیِ ذات ہے ، واہ کیا بات ہے
کوئی بھرنے پہ کشکولِ حاجات ہے ، واہ کیا بات ہے
جاگنے کو مُقّدر ہے انسان کا ، مرحبا مرحبا

کوئی محوِ فُغاں ، کوئی خاموش ہے ، اب کسے ہوش ہے
سازِ مُطرب کی لَے نغمہ بردوش ہے ، اب کسے ہوش ہے
عقل حیرت کے پردے میں رُوپوش ہے ، اب کسے ہوش ہے
بزم کی بزم مستی در آغوش ہے ، اب کسے ہوش ہے
پی کے ساغر علی کے خُمستان کا ، مرحبا مرحبا

کیا حسیں منظرِ جُود و اکرام ہے ، دعوتِ عام ہے
اہل دل کی نظر مستی آشام ہے ، دعوتِ عام ہے
حشر تک مُدّتِ گردشِ جام ہے ، دعوتِ عام ہے
دستِ جبریل مصروفِ اطعام ہے ، دعوتِ عام ہے
کھاؤ صدقہ علیؓ شاہِ مردان کا ، مرحبا مرحبا

شمعِ توحید دل میں جلا کر پیو ، دل لگا کر پیو
شاہِ بطحا کی خیرات پا کر پیو ، دل لگا کر پیو
نغمہ کاسہء وصل گا کر پیو ، دل لگا کر پیو
آنکھ مہر علی سے ملا کر پیو ، دل لگا کر پیو
خُود پلانے پہ ساقی ہے جیلان کا ، مرحبا مرحبا

ہے عجب حُسن کا بانکپن سامنے ، اک چمن سامنے
اہلِ تطہیر ہیں خیمہ زن سامنے ، پنجتن سامنے
ہے روئے حسنؓ کی پھبن سامنے ، یا حسنؓ سامنے
جلوہ فرما ہیں غوث ِ زمن سامنے ، ضوفگن سامنے
دیکھئے کیا بنے چشمِ ویران کا، مرحبا مرحبا

گُلشنِ مصطفی کی پھبن اور ہے ، یہ چمن اور ہے
شاہِ ابرار کی انجمن اور ہے ، یہ چمن اور ہے
بُوئے گُلدستہء پنجتن اور ہے ، یہ چمن اور ہے
شانِ آلِ حُسینؓ و حسنؓ اور ہے ، یہ چمن اور ہے
سرمدی رنگ ہے اِس گُلستان کا ، مرحبا مرحبا

فقر کی سلطنت طُرفہ سامان ہے ، رحمت ایوان ہے
اِس کے زیر نگیں قلبِ انسان ہے ، عجز عنوان ہے
کس کا دستِ نظر کاسہ گردان ہے ، عقل حیران ہے
اک ولی زیبِ ا ورنگ عرفان ہے ، واہ کیا شان ہے
سر جُھکے ہے یہاں میر و سُلطان کا ، مرحبا مرحبا

ہر گھڑی مہرباں ذاتِ باری رہے ، فیض جاری رہے
خاک بوسی پہ بادِ بہاری رہے ، فیض جاری رہے
عالمِ کیف میں بزم ساری رہے ، فیض جاری رہے
بیخودی تیرے مستوں پہ طاری رہے ، فیض جاری رہے
مینہ برستا رہے تیرے احسان کا ، مرحبا مرحبا

عرشِ اسرار تک جس کی پرواز ہے ، طُرفہ انداز ہے
علمِ لاہوت کا حاصل اعزاز ہے ، طُرفہ انداز ہے
زہد و تقوٰی میں یکتا و ممتاز ہے ، طُرفہ انداز ہے
آبروئے چمن قامتِ ناز ہے ، طُرفہ انداز ہے
پیرِ مہر علی قُطبِ دوران کا ، مرحبا مرحبا

گولڑے کی زمیں کتنی مسعود ہے ، خطۂ جُود ہے
پیر مہرِعلی جس میں موجود ہے ، خطۂ جُود ہے
کیا حسیں منظرِ شانِ معبود ہے ، خطۂ جُود ہے
ہر ایاز اِس کا ہمدوشِ محمود ہے ، خطۂ جود ہے
اوج پایا ہے بِرجِیس و کیوان کا ، مرحبا مرحبا

تیرے دیوانے حاضر ہیں سرکار میں ، آج دربار میں
سُر جھکائے جنابِ گُہرَ بار میں ، آج دربار میں
بن کے سائل تری بزمِ انوار میں ، آج دربار میں
یوسفِ مصرِ دل تیرے بازار میں ، آج دربار میں
جشن ہے کیا دل افروز عرفان کا ، مرحبا مرحبا

در بدر مفت کی ٹھوکریں کھائے کیوں ، ہاتھ پیھلائے کیوں
مانگنے کوئے اغیار میں جائے کیوں ، ہاتھ پیھلائے کیوں
اُسکے ناموسِ غیرت پہ حرف آئے کیوں ، ہاتھ پیھلائے کیوں
دل قناعت کی ضَو سے نہ چمکائے کیوں ، ہاتھ پیھلائے کیوں
جو نمک خوا ر ہو پیر ِ پیران کا ، مرحبا مرحبا

شاہِ جیلاں کی چوکھٹ سلامت رہے ، تاقیامت رہے
نقشِ پا کا چمن پُر کرامت رہے ، تا قیامت رہے
خلعتِ اِجتبا زیبِ قامت رہے ، تاقیامت رہے
سر پہ ولیوں کا تاجِ امامت رہے ، تاقیامت رہے
سلسلہ غوث ِ اعظم کے فیضان کا ،مرحبا مرحبا

وارثِ خاتَمُ المرسَلیں آپ ہیں ، بالیقیں آپ ہیں
قصرِ زہرا کا نقشِ حسیں آپ ہیں ، بالیقیں آپ ہیں
دینِ برحق کے مُحی و معیں آپ ہیں ، بالیقیں آپ ہیں
بزمِ عرفاں کے مسند نشیں آپ ہیں ، بالقیں آپ ہیں
ہر ولی طفل ہے اِس دبستان کا ، مرحبا مرحبا

مظہرِ ذاتِ ربِ قدیر آپ ہیں ، دستگیر آپ ہیں
کاروانِ کرم کے امیر آپ ہیں ، دستگیر آپ ہیں
شاہِ بغداد پیرانِ پیر آپ ہیں ، دستگیر آپ ہیں
اِس نصیرِؔ حزیں کے نصیر آپ ہیں ، دستگیر آپ ہیں
کوئی ہمسر نہیں آپ کی شان کا،مرحبا مرحبا

چراغِ گولڑہ الشیخ پیر سیدنصیر الدین نصیر شاہ رحمتہ اللہ علیہ

 

20/09/2025

Zahe Izzato Aaitlaye Muhammad

زہے عزّت و اعتلائے محمد ﷺ 
کہ ہے عرشِ حق زیر پائے محمد ﷺ

مکاں عرش اُن کا فلک فرش اُن کا
ملک خادمانِ سرائے محمد ﷺ

خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد ﷺ

عجب کیا اگر رحم فرما لے ہم پر
خدائے محمد برائے محمد ﷺ

محمد برائے جنابِ الٰہی !
جنابِ الٰہی برائے محمد ﷺ

بسی عِطر محبوبِی کبریا سے
عبائے محمد قبائے محمد ﷺ

بہم عہد باندھے ہیں وصلِ ابد کا
رضائے خدا اور رضائے محمد ﷺ

دمِ نزع جاری ہو میری زباں پر
محمدﷺ محمدﷺ خدائے محمد ﷺ

عصائے کلیم اژدھائے غضب تھا
گِروں کا سہارا عصائے محمد ﷺ

میں قربان کیا پیاری پیاری ہے نسبت
یہ آنِ خدا وہ خدائے محمد ﷺ

محمد کا دم خاص بہرِ خدا ہے
سوائے محمدﷺبرائے محمد ﷺ

خدا اُ ن کو کِس پیارے دیکھتا ہے
جو آنکھیں ہیں محوِ لقائے محمد ﷺ

جلو میں اجابت خواصِی میں رحمت
بڑھی کس تزک سے دُعائے محمّد ﷺ

اجابت نے جھک کر گلے سے لگایا
بڑھی ناز سے جب دعائے محمد ﷺ

اجابت کا سہرا عنایت کا جوڑا
دلہن بن کے نِکلی دُعائے محمّد ﷺ

رضا پل سے اب وجد کرتے گریے
کہ ہے رَبِّ سَلِّم صدائےمُحَمَّد ﷺ

 

01/09/2025

Chand Taare Hi kia dekhte rh Gaye

چاند تارے ہی کیا دیکھتے رہ گئے
اُن کو ارض و سماء دیکھتے رہ گئے

ہم درِ مصطفیٰﷺ دیکھتے رہ گئے
نور ہی نور تھا دیکھتے رہ گئے

پڑھ کے رُوح الامیں سُورتِ والضُّحٰی
صورتِ مصطفٰیٰﷺ دیکھتے رہ گئے

جب سواری چلی جبرئیلِ امیں
صورتِ نقشِ پا دیکھتے رہ گئے

اہلِ دانش محمدﷺ پہ تھے حیرتی
رُوۓ قرآن نُما دیکھتے رہ گئے

وہ گئے عرش پر اور روح الامیں
سدرۃ المنتہٰی دیکھتے رہ گئے

نیک و بد پہ ہوا اُن کا یکساں کرم
لوگ اچھا بُرا دیکھتے رہ گئے

وہ امامت کی شب وہ صفِ انبیا
مقتدی مقتدا دیکھتے رہ گئے

کیا خبر کِس کو کب جامِ کوثر ملا
ہم تو اُن کی ادا دیکھتے رہ گئے

ہم گنہگار تھے مغفرت ہو گئی
شانِ ربُّ الْعُلیٰ دیکھتے رہ گئے

ہوکے گُم اے نصیر اُنکے جلوؤں میں ہم
خود نِگر پارسا دیکھتے رہ گئے

میں نصیؔر  آج لایا وہ نعتِ نبیﷺ
نعت گو منہ میرا دیکھتے رہ گئے

https://khushbueraza.blogspot.com/


 

29/08/2025

Aankhon ka Tara Naam e Muhammad

آنکھوں کا تارا نامِ محمد ﷺ
دل کا اجالا نامِ محمد ﷺ

اللہ اکبر رب العلی نے
ہر شے پہ لکھا نامِ محمد ﷺ

ہیں یوں تو کثرت سے نام لیکن
سب سے ہے پیارا نامِ محمد ﷺ

دولت جو چاہو دونوں جہاں کی
کرلو وظیفہ نامِ محمد ﷺ

شیدا نہ کیوں ہوں اُس پر مسلماں
رب کو ہے پیارا نامِ محمد ﷺ

اللہ والا دم میں بنا دے
اللہ والا نامِ محمد ﷺ

صَلِّ علیٰ کا سہرہ سِجا کر
دولھا بنا یا نامِ محمد ﷺ

نوح و خلیل و موسیٰ و عیسیٰ
سب کا ہے آقا نامِ محمد ﷺ

سارے چمن میں لاکھوں گلوں میں
گل ہے ہزارا نام محمد ﷺ

پائیں مرادیں دونوں جہاں میں
جس نے پکارا نامِ محمد ﷺ

مومن کو کیوں ہو خطرہ کہیں پر
دل پر ہے کندہ نامِ محمد ﷺ

رکھو لحد میں جس دم عزیزو
مجھ کو سنانا نامِ محمد ﷺ

پڑھتی درودیں دوڑیں گی حوریں
لاشہ جو لےگا نامِ محمد ﷺ

روز قیامت میزان و پل پر
دے گا سہارا نامِ محمد ﷺ

پوچھے گا مولیٰ لایا ہے کیا کیا
میں یہ کہوں گا نامِ محمد ﷺ

غم کی گھٹائیں چھائی ہیں سر پر
کردے اشارہ نامِ محمد ﷺ

رنج و الم میں ہیں نام لیوا
کردے اشارہ نامِ محمد ﷺ

بیڑا تباہی میں آگیا ہے
دے دے سہارا نامِ محمد ﷺ

زخمی جگرپر مجروح دل پر
مرہم لگا جا نامِ محمد ﷺ

دل میں عداوت خر کی بھر ی ہے
نجدی نہ لے گا نامِ محمد ﷺ

اپنے رضا کے قربان جاؤں
جس نے سکھایا نامِ محمد ﷺ

آنکھوں میں آکر دل میں سما کر
رنگت رچا جا نامِ محمد ﷺ

اپنے جمؔیلِ رضوی کے دل میں
آجا سما جا نامِ محمد ﷺ

 

26/08/2025

1500 Jashn e Wiladat

جانِ جناں و رونقِ گلزار آگئے
آج آمنہ کے گھر شہِ اَبرار آگئے

ظاہر ہوا وہ جلوۂ صورت جناب کا
قدسی بھی لینے صدقۂ رخسار آگئے

اَرض و َسماں زَمان و مکاں یک زباں ہے آج
خلّاقِ کائنات کے شہکار آگئے

مہرِ سَماں ستارے قمر اور کہکشاں
خیرات لینے نور سے انوار آگئے

یہ رسمِ عاشقی ہے اَدا اِس کو کیجئے
دِیدہ و دل بچھایئے دِلدار آگئے

میلاد کی سہانی گھڑی آگئی چلو
نعرے لگاو جھوم کے سرکار آگئے

دامن پسارو مانگ لو جو مانگنا ہے آج
اللہ کے خزانوں کے مختار آگئے

بَرسے گی آج بارشِ اَنوار اے عبیدؔ
لو کھول کے وہ گیسوئے خمدار آگئے

الحاج محمد اویس رضا قادری

https://khushbueraza.blogspot.com/

 

1500 Sala Jashn e Wiladat

پندرہ سو سالہ جشنِ ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

گھر گھر سجائیں گے، خوشیاں منائیں گے
آقا ﷺ سے پیار ہے سب کو بتائیں گے

پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں
پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

آ گئے جگ میں شاہِ مدینہ، نور بھرا ہے پیارا مہینہ
چھوڑ کے سارے کام دیوانوں ! آؤ نبی کی بزم سجائیں

آمنہ کی جان، بارھویں کا چاند نور بن کے آیا، ہر لب ہے مسکرایا

پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں
پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

سارا جہاں کہنے لگا ! مرحبا یا مصطفیٰ  سارا جہاں کہنے لگا ! مرحبا یا مصطفیٰ

آئے ہیں آقا ﷺ کلمہ پڑھانے راہِ ہدایت ہم کو دکھانے
اُنکی ولادت فضلِ خدا ہے، کیوں نہ منائیں کیوں نہ منائیں

آمنہ کی جان، بارھویں کا چاند نور بن کے آیا، ہر لب ہے مسکرایا

پندرہ سو سالہ جشنِ ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں
پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

آئے میرے مصطفیٰ ! مرحبا یا مصطفی آج ہے سب کی سدا ! مرحبا یا مصطفى
ابر کرم چھا گیا ! مرحبا یا مصطفیٰ نور والا آ گیا ! مرحبا یا مصطفیٰ

جشنِ ولادت شاہِ زمن کا عشق ہے واللہ اہلِ سنن کا
جھنڈے لگا کر گھر کو سجا کر آؤ نبی کی نعت سنائیں

آمنہ کی جان، بارھویں کا چاند نور بن کے آیا، ہر لب ہے مسکرایا

پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں
پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

میرے نبی لا جواب ہیں ! میرے نبی لا جواب ہیں

صدیوں سے جاری ہے یہ روایت جشنِ نبی ہے سُنّی ثقافت
تھام کے پرچم پیارے نبی کا اپنے مشن کو آگے بڑھائیں

آمنہ کی جان، بارھویں کا چاند نور بن کے آیا، ہر لب ہے مسکرایا

پندرہ سو سالہ جشنِ ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں
پندرہ سو سالہ جشنِ ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

سارا جہاں کہنے لگا ! مرحبا یا مصطفیٰ سارا جہاں کہنے لگا ! مرحبا یا مصطفیٰ 

اُن کی ثنا سے دل ہے منور آنکھ ہے روشن روح معطر
نعتِ نبی سے شوقِ فریدی اپنا مقدر کیوں نہ جگائیں

آمنہ کی جان، بارھویں کا چاند نور بن کے آیا، ہر لب ہے مسکرایا

پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں
پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

 

18/08/2025

Unki Mehak Ne

غمگیں دل کے سارے دکھ غم مٹادیئے ہیں
چاک جگر کسی نے گویا سلا دیئے ہیں
پز مردہ من کے رستے گلشن بنا دیئے ہیں
ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلادیئے ہیں
جس راہ چل گئے ہیں کوچے بسا دیئے ہیں

مرض گناہ کیا ہے ، بیمار اسکا کتنا
کیا رنج ہے جگر کا، اسکا فگار کتنا
اپنی سکت ہی کیا ہے، اپنا شعار کتنا
اک دل ہمارا کیا ہے آزار اس کا کتنا
تم نے تو چلتے پھرتے مردے جلا دیے ہیں

تن خاکسار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو
دل بے قرار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو
غم کا شکار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو
ان کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو
جب یاد آگئے ہیں سب غم بھلا دیے ہیں

ہر گزنہ آگ سے پھر عاصی نبرد ہو گا
آزاد نار سے اب ایک ایک فرد ہو گا
امت کا کب گوارا آقا کو درد ہو گا
اللہ کیا جہنم اب بھی نہ سرد ہو گا
رورو کے مصطفیٰ نے دریا بہا دیے ہیں

افلاک مل گئے جو تارا کسی نے مانگا
اعلی دیا ہے گر جو ادنی کسی نے مانگا
ملک جہاں ملی جو ذرہ کسی نے مانگا
میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا
دریا بہادیے ہیں دربے بہا دیے ہیں

اہل سخن جبینیں کرتے ہیں جس جگہ خم
وہ ہے کرم ، رضا کے زور قلم کا اک دم
ہے داغ کا یہ کہنا، تصدیق میں مقدم
ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں

 

31/07/2025

Shukriya Ahmed Raza

آپ سے سیکھا ہے ہم نے اے رضا عشقِ نبی
آپ نے ہم کو بنایا عاشقِ مولیٰ علی
آپ کا احسان یہ کیسے بھلایا جائے گا
تیرا ہی چرچہ رہے گا اے بریلی کے رضا

آپ اہل شر کی خاطر حیدری شمشیر ہیں
حضرت مولیٰ عمر کے قہر کی تصویر ہیں
ذکر ہو گا جب اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارْ کا
تیرا ہی چرچہ رہے گا اے بریلی کے رضا

سنیوں کو آپ نے بخشا فتاویٰ رضویہ
کنزالایماں دے کے ایمان اور پختہ کر دیا
جب بھی ایمان و عقیدے پر چھڑے گا تبصرہ
تیرا ہی چرچہ رہے گا اے بریلی کے رضا

نعت پڑھنا نعت لکھنا نعت سننا کام تھا
آپ کا خامه فقط خیر الوریٰ کے نام تھا
جب تلک جاری سفر ہے مدحت سرکار کا
تیرا ہی چرچہ رہے گا اے بریلی کے رضا

آپ سے سیکھا ادب سرکار کے اصحاب کا
سیدہ کا اور اُن کی آل کا احباب کا
جب تلک قائم رہے گا سیدوں کا سلسلہ
تیرا ہی چرچہ رہے گا اے بریلی کے رضا

لاکھ ہو جائے مخالف کل جہاں کچھ غم نہیں
مجھ کو ان سے عشق ہے جو ہو گا ہر گز کم نہیں
عمر بھر شوقِؔ فریدی میں کہوں گا برملا
تیرا ہی چرچہ رہے گا اے بریلی کے رضا

 

15/07/2025

Ulfat Rasool ki

کیوں کر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
جنت میں لے کے جائے گی چاہت رسول کی

چلتا ہوں میں بھی قافلے والو ! رکو ذرا
ملنے دو بس مجھے بھی اجازت رسول کی

پوچھیں جو دین و ایماں نکیرین قبر میں
اس وقت میرے لب پہ ہو مدحت رسول کی

تڑپا کے ان کے قدموں میں مجھ کو گرادے شوق
جس وقت ہو لحد میں زیارت رسول کی

سرکار ﷺ نے بلا کے مدینہ دکھا دیا
ہو گی مجھے نصیب شفاعت رسول کی

یا رب دکھا دے آج کی شب جلوۂ حبيب
اک بار تو عطا ہو زیارت رسول کی

جنت تو ان کے صدقے میں مل جائے گی مگر
اے کاش ہو نصیب رفاقت رسول کی

دامن میں ان کے ! لے لو پناہ آج منکرو
مہنگی پڑے گی ورنہ عداوت رسول کی

تو ہے علام ان کا عبید رضا تیرے
محشر میں ہوگی ساتھ حمایت رسول کی

 

09/07/2025

Dariya Hai Hamara

 
غازی عباس علمدار غازی عباس علمدار
غازی عباس علمدار غازی عباس علمدار

عباس علمدار کے دیوانوں کا نعرہ
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا
غازی کے وفاداروں نے مل کے پکارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

مشکیزہ لیے دریا پہ جاؤں گا سکینہ
ہر حال میں پانی اور میں لاؤں گا سکینہ
پھر اپنے ہی ہاتھوں سے پلاؤں گا سکینہ
باطل نے مگر کہہ کے یہی تیر سے مارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

آقاﷺ کے دلاروں کو ستانے پہ تلے ہو
حیدر کی نشانی کو مٹانے پہ تلے ہو
لالچ میں ہو دنیا کے خزانے پہ تلے ہو
تم جس پہ اکڑتے ہو وہ صدقہ ہے ہمارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

اتنا نہ تکبر کرو اے تخت نشینوں
اوقات میں اپنی رہو ورنہ اے لعینوں
اک بار میں واللہ میں کہتا ہوں کمینوں
اس جنگ کا نقشہ ہی بدل جائے گا سارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

زہرا کے دلاروں کا اگر صدقہ نہ پاتے
کس کے درِ دولت پہ یہ دامن کو بچھاتے
تکلیف جو دل میں ہے کِسے جا کے سناتے
تم سب کا مگر ہوتا ہے اس در سے گزارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

اے بغض کے مارو ، ذرا تم ہوش میں آؤ
تم ہم کو زر و مال خدارا نہ دِکھاؤ
اے ظالموں میں پوچھ رہا ہوں یہ بتاؤ
اس گلشنِ ہستی میں بھلا کیا ہے تمہارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

جس وقت علمدار نے تلوار اٹھائی
گھمسان کی کربل میں ہوئی خوب لڑائی
اور ظالم و جابر کی ہوئی سخت پٹائی
بے خوف ہر اک مردِ قلندر نے پکارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

بچپن سے علی مولا کے سائے میں رہا ہوں
اور فاطمہ زہرا کی دعاؤں سے پلا ہوں
یہ بھول کے مت سوچنا تم سب سے ڈرا ہوں
ہمت ہے تو تم سامنے آجاؤ دوبارہ
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

عباس علمدار کا جذبہ ہے یہ پیارا
جرأت ہے غضب کفر کا ایوان اجاڑا
کربل میں کئی لشکرِ ظالم کو پچھاڑا
اور قلعۂ باطل کو بھی ہے جڑ سے اکھاڑا
کہہ کر یہی اسلام کے گلشن کو سنوارا
عباس علمدار کے دیوانوں کا نعرہ

مشہود رضا سر پہ کفن باندھ کے حلیے
گستاخ کے نرغے میں شب و روز یہ کہیے
اے منکرِ اسلام ذرا دھیان سے سنیے
بے خوف علمدار کے متوالو ، کا نعرہ
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

04/07/2025

Mera Hussain baghe nabuwat ka phool Hai

میرا حسین باغِ نبوت کا پھول ہے
حیدر کی اس میں جان ہے خونِ بتول ہے

ایسی عظیم ذات ہے مولا حسین کی
جس کیلئے رسول کے سجدوں میں طول ہے

دنیا میں اور کون ہے شبیر کے سوا
ایسا سوار جس کی سواری رسولﷺ ہے

گزرا جہاں جہاں سے نواسہ رسولﷺ کا
اب تک وہاں خدا کے کرم کا نزول ہے

جس کے لیے یزید نے اتنے ستم کیے
وہ تاج تو حسین کے قدموں کی دھول ہے

آل نبیﷺ کا پیار ہے ایماں کی زندگی
ان سے نہیں ہے پیار تو سب کچھ فضول ہے

تو ان کے در سے مانگ لے جو کچھ بھی جی کرے
مالک سبھی جہان کی آلﷺ رسول ہے

محشر میں میں کہوں میں غلامِ حسین ہوں
سن کر کہے حسین ہم کو قبول ہے

جھکنا اے راؔز فاسق و فاجر کے سامنے
توہینِ بندگی ہے شکست اصول ہے

 

03/07/2025

Aaya Na Hoga is Tarah

آیا نہ ہوگا اس طرح حسن و شباب ریت پر
گلشنِ فاطمہ کے تھے سارے گلاب ریت پر

جانِ بتول کے سوا کوئی نہیں کھلا سکا
قطرہٗ آب کے بغیر اتنے گلاب ریت پر 

جتنے سوال عشق نے آلِ رسول سے کیے
اک سے بڑھ کے اک دیا، سب نے جواب ریت پر

ترسے حسین آب کو، میں جو کہوں تو بے ادب
لمسِ لبِ حُسین کو ترسا ہے آب ریت پر

لذّتِ سوزش ِ بلال، شوقِ شہادتِ حُسین 
جس نے لیا یونہی لیا اپنا خطاب ریت پر

عشق میں کیا بچایئے، عشق میں کیا لُٹایئے
آلِ نبی نے لکھ دیا سارا نصاب ریت پر

آل نبی کا کام تھا آل نبی ہی کر گئے
کوئی نہ لکھ سکا ادیبؔ، ایسی کتاب ریت پر

 

22/04/2025

Kyon Chand mein khoye ho

کیوں چاند میں کھوئے ہو اُلجھے ہو ستاروں میں
آقا ﷺ کو میرے ڈھونڈو قرآن کے پاروں میں

جبرئیل امیں بولے سدرہ کے مکیں بولے
 تجھ سا نہ کوئی دیکھا لاکھوں میں ہزاروں میں

اےکاش کبوتر ہی ہم بن کے رہے ہوتے
اس گنبدِ خضریٰ کے پُرنور میناروں میں

ان کے ہی پسینے کی خوشبو ہے بہاروں میں
ان کی ہی تجلی ہے ان چاند ستاروں میں

سرکارِ دو عالمﷺ کی الفت میں جو مرتے ہیں
اللہ کے وہ بندے زندہ ہیں مزاروں میں

رضواں تیری جنت کو فرصت جو ملے دیکھوں
کھوئی ہے ابھی نظریں طیبہ کے نظاروں میں

ہم تجھ کو بتائیں گے جنت کسے کہتے ہیں
آ بیٹھ کبھی نجدی ہم درد کناروں میں

اللہ نے امت کی بخشش کا کیا وعدہ
محبوب کو جب دیکھا روتے ہوئے غاروں میں 

طیبہ کے فقیروں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے
تاریخ بتاتی ہے یہ راؔز اشاروں میں

شاعر: راز الہ آبادی

 

05/04/2025

Jaan hazir Hai Mustafa ke liye

میرے مالک تیری رضا کے لیے

جان حاضر ہے مصطفیٰ کے لیے

نام سن کے جھکالو سر اپنے
سیدہ زہرا کی حیا کے لیے

کھڑے اقصیٰ میں انبیا تھے سبھی
دیدِ سردار انبیاء ﷺ کے لیے

اُن کا دیدار ہی میں مانگتا ہوں
ہاتھ اٹھتے ہیں جب دعا کے لیے

خاکِ طیبہ طبیبوں کافی ہے
مجھ سے بیمار کی شفا کے لیے

عاشقانِ نبی ﷺ دعا مانگے
شہرِ طیبہ میں بس قضا کے لیے

یاروں غاروں میں روئے ہیں آقا
صرف اپنے ہر اک گدا کے لیے

ابوبکر و عمر ہیں پہلو میں
رب نے جن کو چنا وفا کے لیے

بغضِ پنجتن میں ضائع مت کرنا
نیکیاں اپنی سب خدا کے لیے

کیا یہ کم ہے شہاؔب آقا نے
چن لیا ہے مجھے ثنا کے لیے

 

20/01/2025

Kafi Hai Mujhe Bas

کافی ہے مجھے بس وہ کمائی تیرے در کی
جو دھول ملے کرکے صفائی تیرے در کی

دھو دھو کے پلاؤں گا پیو آبِ شفا ہے
ہر روز کروں آکے دھلائی تیرے در کی

زم زم میں ملا کر میں اسی آبِ شفا کو
ہر مرض میں دوں گا یہ دوائی تیرے در کی

سلطانوں کا سلطاں ہو یا سلطانِ زمانہ
مفلس ہے اگر بھیک نہ پائی تیرے در کی

دل نے کہا سینے سے لگا لے اسے بڑھ کر
جس نے بھی کوئی بات سنائی تیرے در کی

دنیا میں حسؔن اور کئی عز و شرف تھے
ماتھے پہ غلامی ہے سجائی تیرے در کی

 

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...