26/08/2025

1500 Sala Jashn e Wiladat

پندرہ سو سالہ جشنِ ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

گھر گھر سجائیں گے، خوشیاں منائیں گے
آقا ﷺ سے پیار ہے سب کو بتائیں گے

پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں
پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

آ گئے جگ میں شاہِ مدینہ، نور بھرا ہے پیارا مہینہ
چھوڑ کے سارے کام دیوانوں ! آؤ نبی کی بزم سجائیں

آمنہ کی جان، بارھویں کا چاند نور بن کے آیا، ہر لب ہے مسکرایا

پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں
پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

سارا جہاں کہنے لگا ! مرحبا یا مصطفیٰ  سارا جہاں کہنے لگا ! مرحبا یا مصطفیٰ

آئے ہیں آقا ﷺ کلمہ پڑھانے راہِ ہدایت ہم کو دکھانے
اُنکی ولادت فضلِ خدا ہے، کیوں نہ منائیں کیوں نہ منائیں

آمنہ کی جان، بارھویں کا چاند نور بن کے آیا، ہر لب ہے مسکرایا

پندرہ سو سالہ جشنِ ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں
پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

آئے میرے مصطفیٰ ! مرحبا یا مصطفی آج ہے سب کی سدا ! مرحبا یا مصطفى
ابر کرم چھا گیا ! مرحبا یا مصطفیٰ نور والا آ گیا ! مرحبا یا مصطفیٰ

جشنِ ولادت شاہِ زمن کا عشق ہے واللہ اہلِ سنن کا
جھنڈے لگا کر گھر کو سجا کر آؤ نبی کی نعت سنائیں

آمنہ کی جان، بارھویں کا چاند نور بن کے آیا، ہر لب ہے مسکرایا

پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں
پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

میرے نبی لا جواب ہیں ! میرے نبی لا جواب ہیں

صدیوں سے جاری ہے یہ روایت جشنِ نبی ہے سُنّی ثقافت
تھام کے پرچم پیارے نبی کا اپنے مشن کو آگے بڑھائیں

آمنہ کی جان، بارھویں کا چاند نور بن کے آیا، ہر لب ہے مسکرایا

پندرہ سو سالہ جشنِ ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں
پندرہ سو سالہ جشنِ ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

سارا جہاں کہنے لگا ! مرحبا یا مصطفیٰ سارا جہاں کہنے لگا ! مرحبا یا مصطفیٰ 

اُن کی ثنا سے دل ہے منور آنکھ ہے روشن روح معطر
نعتِ نبی سے شوقِ فریدی اپنا مقدر کیوں نہ جگائیں

آمنہ کی جان، بارھویں کا چاند نور بن کے آیا، ہر لب ہے مسکرایا

پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں
پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...