18/08/2025

Unki Mehak Ne

غمگیں دل کے سارے دکھ غم مٹادیئے ہیں
چاک جگر کسی نے گویا سلا دیئے ہیں
پز مردہ من کے رستے گلشن بنا دیئے ہیں
ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلادیئے ہیں
جس راہ چل گئے ہیں کوچے بسا دیئے ہیں

مرض گناہ کیا ہے ، بیمار اسکا کتنا
کیا رنج ہے جگر کا، اسکا فگار کتنا
اپنی سکت ہی کیا ہے، اپنا شعار کتنا
اک دل ہمارا کیا ہے آزار اس کا کتنا
تم نے تو چلتے پھرتے مردے جلا دیے ہیں

تن خاکسار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو
دل بے قرار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو
غم کا شکار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو
ان کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو
جب یاد آگئے ہیں سب غم بھلا دیے ہیں

ہر گزنہ آگ سے پھر عاصی نبرد ہو گا
آزاد نار سے اب ایک ایک فرد ہو گا
امت کا کب گوارا آقا کو درد ہو گا
اللہ کیا جہنم اب بھی نہ سرد ہو گا
رورو کے مصطفیٰ نے دریا بہا دیے ہیں

افلاک مل گئے جو تارا کسی نے مانگا
اعلی دیا ہے گر جو ادنی کسی نے مانگا
ملک جہاں ملی جو ذرہ کسی نے مانگا
میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا
دریا بہادیے ہیں دربے بہا دیے ہیں

اہل سخن جبینیں کرتے ہیں جس جگہ خم
وہ ہے کرم ، رضا کے زور قلم کا اک دم
ہے داغ کا یہ کہنا، تصدیق میں مقدم
ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...