03/07/2025

Aaya Na Hoga is Tarah

آیا نہ ہوگا اس طرح حسن و شباب ریت پر
گلشنِ فاطمہ کے تھے سارے گلاب ریت پر

جانِ بتول کے سوا کوئی نہیں کھلا سکا
قطرہٗ آب کے بغیر اتنے گلاب ریت پر 

جتنے سوال عشق نے آلِ رسول سے کیے
اک سے بڑھ کے اک دیا، سب نے جواب ریت پر

ترسے حسین آب کو، میں جو کہوں تو بے ادب
لمسِ لبِ حُسین کو ترسا ہے آب ریت پر

لذّتِ سوزش ِ بلال، شوقِ شہادتِ حُسین 
جس نے لیا یونہی لیا اپنا خطاب ریت پر

عشق میں کیا بچایئے، عشق میں کیا لُٹایئے
آلِ نبی نے لکھ دیا سارا نصاب ریت پر

آل نبی کا کام تھا آل نبی ہی کر گئے
کوئی نہ لکھ سکا ادیبؔ، ایسی کتاب ریت پر

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...