22/04/2025

Kyon Chand mein khoye ho

کیوں چاند میں کھوئے ہو اُلجھے ہو ستاروں میں
آقا ﷺ کو میرے ڈھونڈو قرآن کے پاروں میں

جبرئیل امیں بولے سدرہ کے مکیں بولے
 تجھ سا نہ کوئی دیکھا لاکھوں میں ہزاروں میں

اےکاش کبوتر ہی ہم بن کے رہے ہوتے
اس گنبدِ خضریٰ کے پُرنور میناروں میں

ان کے ہی پسینے کی خوشبو ہے بہاروں میں
ان کی ہی تجلی ہے ان چاند ستاروں میں

سرکارِ دو عالمﷺ کی الفت میں جو مرتے ہیں
اللہ کے وہ بندے زندہ ہیں مزاروں میں

رضواں تیری جنت کو فرصت جو ملے دیکھوں
کھوئی ہے ابھی نظریں طیبہ کے نظاروں میں

ہم تجھ کو بتائیں گے جنت کسے کہتے ہیں
آ بیٹھ کبھی نجدی ہم درد کناروں میں

اللہ نے امت کی بخشش کا کیا وعدہ
محبوب کو جب دیکھا روتے ہوئے غاروں میں 

طیبہ کے فقیروں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے
تاریخ بتاتی ہے یہ راؔز اشاروں میں

شاعر: راز الہ آبادی

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...