05/04/2025

Jaan hazir Hai Mustafa ke liye

میرے مالک تیری رضا کے لیے

جان حاضر ہے مصطفیٰ کے لیے

نام سن کے جھکالو سر اپنے
سیدہ زہرا کی حیا کے لیے

کھڑے اقصیٰ میں انبیا تھے سبھی
دیدِ سردار انبیاء ﷺ کے لیے

اُن کا دیدار ہی میں مانگتا ہوں
ہاتھ اٹھتے ہیں جب دعا کے لیے

خاکِ طیبہ طبیبوں کافی ہے
مجھ سے بیمار کی شفا کے لیے

عاشقانِ نبی ﷺ دعا مانگے
شہرِ طیبہ میں بس قضا کے لیے

یاروں غاروں میں روئے ہیں آقا
صرف اپنے ہر اک گدا کے لیے

ابوبکر و عمر ہیں پہلو میں
رب نے جن کو چنا وفا کے لیے

بغضِ پنجتن میں ضائع مت کرنا
نیکیاں اپنی سب خدا کے لیے

کیا یہ کم ہے شہاؔب آقا نے
چن لیا ہے مجھے ثنا کے لیے

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...