09/07/2025

Dariya Hai Hamara

 
غازی عباس علمدار غازی عباس علمدار
غازی عباس علمدار غازی عباس علمدار

عباس علمدار کے دیوانوں کا نعرہ
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا
غازی کے وفاداروں نے مل کے پکارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

مشکیزہ لیے دریا پہ جاؤں گا سکینہ
ہر حال میں پانی اور میں لاؤں گا سکینہ
پھر اپنے ہی ہاتھوں سے پلاؤں گا سکینہ
باطل نے مگر کہہ کے یہی تیر سے مارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

آقاﷺ کے دلاروں کو ستانے پہ تلے ہو
حیدر کی نشانی کو مٹانے پہ تلے ہو
لالچ میں ہو دنیا کے خزانے پہ تلے ہو
تم جس پہ اکڑتے ہو وہ صدقہ ہے ہمارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

اتنا نہ تکبر کرو اے تخت نشینوں
اوقات میں اپنی رہو ورنہ اے لعینوں
اک بار میں واللہ میں کہتا ہوں کمینوں
اس جنگ کا نقشہ ہی بدل جائے گا سارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

زہرا کے دلاروں کا اگر صدقہ نہ پاتے
کس کے درِ دولت پہ یہ دامن کو بچھاتے
تکلیف جو دل میں ہے کِسے جا کے سناتے
تم سب کا مگر ہوتا ہے اس در سے گزارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

اے بغض کے مارو ، ذرا تم ہوش میں آؤ
تم ہم کو زر و مال خدارا نہ دِکھاؤ
اے ظالموں میں پوچھ رہا ہوں یہ بتاؤ
اس گلشنِ ہستی میں بھلا کیا ہے تمہارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

جس وقت علمدار نے تلوار اٹھائی
گھمسان کی کربل میں ہوئی خوب لڑائی
اور ظالم و جابر کی ہوئی سخت پٹائی
بے خوف ہر اک مردِ قلندر نے پکارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

بچپن سے علی مولا کے سائے میں رہا ہوں
اور فاطمہ زہرا کی دعاؤں سے پلا ہوں
یہ بھول کے مت سوچنا تم سب سے ڈرا ہوں
ہمت ہے تو تم سامنے آجاؤ دوبارہ
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

عباس علمدار کا جذبہ ہے یہ پیارا
جرأت ہے غضب کفر کا ایوان اجاڑا
کربل میں کئی لشکرِ ظالم کو پچھاڑا
اور قلعۂ باطل کو بھی ہے جڑ سے اکھاڑا
کہہ کر یہی اسلام کے گلشن کو سنوارا
عباس علمدار کے دیوانوں کا نعرہ

مشہود رضا سر پہ کفن باندھ کے حلیے
گستاخ کے نرغے میں شب و روز یہ کہیے
اے منکرِ اسلام ذرا دھیان سے سنیے
بے خوف علمدار کے متوالو ، کا نعرہ
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...