22/07/2022

Main lab kusha nahi hoon

میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں

میں محفلِ حرم کے آداب جانتا ہوں

کوئی تو آنکھ والا گزرے گا اس طرف سے
طیبہ کے راستے میں ، میں منتظر کھڑا ہوں

ایسا کوئی مسافر شاید کہیں نہ ہوگا
دیکھے بغیر اپنی منزل سے آشنا ہوں

یہ روشنی سی کیا ہے خوشبو کہاں سے آئی
شاید میں چلتے چلتے روضے تک آگیا ہوں

دوری و حاضری میں اک بات مشترک ہے
کچھ خواب دیکھتا تھا کچھ خواب دیکھتا ہوں

طیبہ کے سب بھکاری پہچانتے ہیں مجھ کو
مجھ کو خبر نہیں تھی میں اس قدر بڑا ہوں

اقباؔل مجھ کو اب بھی محسوس ہو رہا ہے
روضے کے سامنے ہوں اور نعت پڑھ رہا ہوں

@NaatLyricsTKR

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...