03/07/2022

Main Hazir Hun

اے ربِ ملائک و جن و بشر، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں
خدمت میں تری شرمندہ نظر، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں

جو تیری ثنا کے لائق ہو، اک حرف بھی ایسا پاس نہیں
کیا تابِ سخن، کیا عرضِ ہنر، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں

قطرے کی نگاہِ حیراں پر دریا کی حقیقت کیسے کھلے
میں جانتا ہوں یہ بات مگر، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں

میرے چاروں طرف ہیں دروازے، میرا سرمایہ کچھ اندازے
مجھ بے خبرے کو بخش خبر، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں

یہ ارض وسما کی پہنائی،یہ میری ادھوری بینائی
ہے شوقِ سفر ہی زادِ سفر، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں

مرے کان تری آہٹ سے سجیں ، مرے سانس تری خوشبو میں پلیں
مری آنکھیں اپنے خواب سے بھر ، میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں

اے نورِ ازل ، اے حسنِ ابد، سبحان اللہ سبحان اللہ
رہیں روشن تیرے شمس و قمر، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...