30/07/2022

Aise Marde Qalander

میرا مرشد میرا آقا عمر مولا عمر مولا

میرا مرشد میرا آقا عمر مولا عمر مولا

ذوالفقارِ پیمبر ہیں حضرت عمر
ایسے مردِ قلندر ہیں حضرت عمر

ان کا قائم رہا کفر پر دبدبہ
ان کے سائے سے شیطاں بھی مانگے پناہ
بالیقیں قاطعِ شر ہیں حضرت عمر
ایسے مردِ قلندر ہیں حضرت عمر

ہے جلالِ عمر کفرو پر برق بار
ان کی ہیبت سے مرعوب ہے اہلِ نار
پاس رکھتے وہ تیور ہیں حضرت عمر
ایسے مردِ قلندر ہیں حضرت عمر

بعد میرے اگر کوئی ہوتے نبی
وہ عمر ہوتے یہ ہے حدیثِ نبی
نازِ محبوب داور ہیں حضرت عمر
ایسے مردِ قلندر ہیں حضرت عمر

وہ جو ملکِ کے عدالت کے ہیں بادشاہ
دے گا انصاف سے کانٹا دستِ جفا
ہاں عدالت کے پیکر ہیں حضرت عمر
ایسے مردِ قلندر ہیں حضرت عمر

رہتے ہیں اپنے عاشق کے دل میں عمر
اُس کی امداد کرتے ہیں ہر گام پر
قلبِ راغؔب کے اندر ہیں حضرت عمر
ایسے مردِ قلندر ہیں حضرت عمر

 

29/07/2022

Rashid Khalifa Hazrat Umar

جدا باطل کو حق سے کر دیا فاروقِ اعظم نے

اَلم اسلام کا اونچا کیا فاروقِ اعظم نے

اُنھیں کے نام کی تاثیر تھی یا خط کی ہیبت تھی
رُکے دریا کو جاری کردیا فاروقِ اعظم نے

عمر کو دیکھ کر شیطان خود رستہ بدل لیتا
وہ پایا حق سے لوگوں دبدبہ فاروقِ اعظم نے

نبیﷺ کے بعد گر کوئی نبی ہوتے عمر ہوتے
نبیﷺ سے پالیا یہ مرتبہ فاروقِ اعظم نے

جدا کیسے کرو گے حشر تک ان کو نبی سے تم
لیا پہلوئے محبوب خدا فاروقِ اعظم نے

مصفّٰی آئینۂ ہے قلب کیوں نہ ہو اجؔاگر کا
اسے بھی اپنے دامن میں لیا فاروقِ اعظم نے

 

27/07/2022

Woh Umar Hai

اسلام کی شوکت ، صدف دیں کا گہر ہے

شہکار رسالت جسے کہیۓ ، وہ عمر ہے

جس نام کے صدقے سے دُعاؤں میں اثر ہے
وہ نامِ عمر ، نامِ عمر ، نامِ عمر ہے

وہ صحنِ حرم اور وہ اِک اینٹ کا تکیہ
کیا تربیتِ سرورِؐ عالَم کا اثر ہے

کترا کے گزر جاتا ہے اُس دن سے ہر اِک غم
جس دن سے مِرے وردِ زباں ، نامِ عمر ہے

 کعبے میں نماز آج ادا ہو کے رہے گی
خطّاب کے بیٹے کی یہ آمد کا اثر ہے

عدل ایسا ، پکڑ سکتے ہیں کمزور بھی دامن
رعب ایسا کہ خود ظلم کا دل زیر و زبر ہے

"ہوتا جو نبی کوئی مرے بعد ، تو فاروق "
اس کا ہے یہ فرمان کہ جو خیر بشر ہے

قرآن کی آیات یہ دیتی ہیں گواہی
تقوی جسے کہتے ہیں ،وہ کردار عمر ہے

ہر سلسلۂ فیض میں چمکے ترے موتی
کوئی ہے مُجِدّد ، تو کوئی گنجِ شکر ہے

وہ دَور نہ پا کر بھی یہ نسبت ، کہ نصیرؔ آج
بیعت تِرے افکار کی ، بر دستِ عمر ہے

کلام الشیخ پیر نصیر الدین نصیرجیلانی رحمتہ اللہ علیہ گولڑہ

 

Gada Farooq E Azam Ka

خدا کے فَضْل سے میں ہوں گدا فاروقِ اعظم کا

خدا اُن کا محمد مصطَفٰے فاروقِ اعظم کا

کرم اللّٰه کا ہر دم نبی کی مجھ پہ رَحمت ہے
مجھے ہے دو جہاں میں آسرا فاروقِ اعظم کا

پسِ صدّیقِ اکبر مصطَفٰے کے سب صحابہ میں
ہے بے شک سب سے اونچا مرتبہ فاروقِ اعظم کا

گلی سے ان کی شیطاں دُم دبا کر بھاگ جاتا ہے
ہے ایسا رُعْب ایسا دبدبہ فاروقِ اعظم کا

صحابہ اور اہلبیت کی دل میں محبت ہے
بَفیضانِ رضا میں ہوں گدا فاروقِ اعظم کا

رہے تیری عطا سے یاخدا! تیری عنایت سے
ہمارے ہاتھ میں دامن سدا فاروقِ اعظم کا

بھٹک سکتا نہیں ہرگز کبھی وہ سیدھے رستے سے
کرم جس بَخْت وَر پر ہو گیا فاروقِ اعظم کا

خدا کی خاص رحمت سے محمد کی عنایت سے
جہنم میں نہ جائے گا گدا فاروقِ اعظم کا

سدا آنسو بہائے جو غَمِ عشقِ محمد میں
دے ایسی آنکھ یارب! واسِطہ فاروقِ اعظم کا

مجھے حجّ وزیارت کی سعادت اب عنایت ہو
وسیلہ پیش کرتا ہوں خدا فاروقِ اعظم کا

الٰہی! ایک مدّت سے مِری آنکھیں 
دکھا دے سبز گنبد واسِطہ فاروقِ اعظم کا

شہادت اے خدا عطّارؔ کو دیدے مدینے میں
کرم فرما الٰہی! واسِطہ فاروقِ اعظم کا

@NaatLyricsTKR

 

26/07/2022

Hargiz Mere Rasool khuda se juda nahi

ہر گز میرے رسول خدا سے جدا نہیں

ان کی رضا بغیر خدا کی رضا نہیں

اللہ کے رسول کی الفت ہے لازمی
اس کے بغیر زہد و وراء کام کا نہیں

جود و کرم فیض و سخا کی ہو کیا بساط
سائل نے نا کبھی تیرے پر سنا نہیں

یوں تو رسول اور نبی بھی بہت ہوئے
تیرے علاوہ کوئی مگر مصطفٰی نہیں

میری طرف نگاہِ کرم کیجیئے حضور
میرا جہاں میں اب کوئی بھی اسراء نہیں

مجھ کو بس اے رسول مدینے بلائیے
کوئی بھی آرزو میری اِس کے سوا نہیں

مرشد فقیہ اعظمِ ہندوستاں میرے
مجھ کو شمیم خوفِ جزا و سزا نہیں

 

24/07/2022

Sultan E Karbala Ko

سلطان کربلا کو ہمارا سلام ہو

جانانِ مصطفٰی ﷺ کو ہمارا سلام ہو

عباسِ نامدار ہیں زخموں سے چور چور
اس پیکر رضا کو ہمارا سلام ہو

اکبر سے نوجوان بھی رن میں ہوئے شہید
ہم شکلِ مصطفٰیﷺ کو ہمارا سلام ہو

اصغر کی ننھی جان پہ لاکھوں درود ہوں
مظلوم و بے خطا کو ہمارا سلام ہو

بھائی بھتیجے بھانجے سب ہوگئے نثار
ہر لعل بے بہا کو ہمارا سلام ہو

ہو کر شہید قوم کی کشتی ترا گئے
امت کے ناخدا کو ہمارا سلام ہو

ناصؔر ولائے شاہ میں کہتے ہیں بار بار
سلطان کربل ا کو ہمارا سلام ہو

صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم

 

23/07/2022

Mere Husain Tujhe Salam

میرے حسین تجھے سلام

میرے حسین تجھے سلام
السلام یا حسین السلام یا حسین
السلام یا حسین السلام یا حسین 

جن کا جھولا فرشتے جھلاتے رہے
لوریاں دے کے نوری سلاتے رہے
جن پہ سفّاک خنجر چلاتے رہے
جن کو کاندھوں پہ آقابٹھاتے رہے

اس حسین ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام
میرے حسین تجھے سلام میرے حسین تجھے سلام

جس کا نانا دو عالم کا مختار ہے
جو جوانانِ جنّت کے سردار ہے
جس کا سر دشت میں زیرِ تلوار ہے
جو سراپائے محبوبِ غفّار ہے

اس حسین ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام
میرے حسین تجھے سلام میرے حسین تجھے سلام

جن کو دھوکے سے کوفے بلایا گیا
جن کو بیٹھے بٹھائے ستایا گیا
جن کے بچوں کو پیاسے رولایا گیا
جن کے گردن پہ خنجر چلایا گیا

اس حسین ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام
میرے حسین تجھے سلام میرے حسین تجھے سلام

جس کو دوشِ نبی پر بیٹھایا گیا
جس کا جنت سے جوڑا منگایا گیا
جس کے بیٹے کو قیدی بنایا گیا
جس کو تیروں سے چھلنی کرایا گیا

اس حسین ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام
میرے حسین تجھے سلام میرے حسین تجھے سلام

جس نے حق کربلا میں ادا کردیا
اپنے نانا کا وعدہ وفا کر دیا
گھر کا گھر سپرد خدا کر دیا
جس نے امّت کی خاطر فدا کردیا

اس حسین ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام
میرے حسین تجھے سلام میرے حسین تجھے سلام

کر چکا وہ ادیب اپنے حجت تمام
لے کے ﷲ اور اپنے نانا کا نام
کوفیوں کو سنایا خدا کا کلام
اور فدا ہو گیا جانِ خیرالانام

اس حسین ابن حیدر پہ لاکھوں سلام
میرے حسین تجھے سلام میرے حسین تجھے سلام

 

22/07/2022

Main lab kusha nahi hoon

میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں

میں محفلِ حرم کے آداب جانتا ہوں

کوئی تو آنکھ والا گزرے گا اس طرف سے
طیبہ کے راستے میں ، میں منتظر کھڑا ہوں

ایسا کوئی مسافر شاید کہیں نہ ہوگا
دیکھے بغیر اپنی منزل سے آشنا ہوں

یہ روشنی سی کیا ہے خوشبو کہاں سے آئی
شاید میں چلتے چلتے روضے تک آگیا ہوں

دوری و حاضری میں اک بات مشترک ہے
کچھ خواب دیکھتا تھا کچھ خواب دیکھتا ہوں

طیبہ کے سب بھکاری پہچانتے ہیں مجھ کو
مجھ کو خبر نہیں تھی میں اس قدر بڑا ہوں

اقباؔل مجھ کو اب بھی محسوس ہو رہا ہے
روضے کے سامنے ہوں اور نعت پڑھ رہا ہوں

@NaatLyricsTKR

 

20/07/2022

Wah Mere Usman E Ghani

دامادِ نبی ہے یارِ نبی واہ میرے عثمانِ غنی

صدیق و عمر ہیں یارِ علی واہ میرے عثمانِ غنی

حیا کرتا خدا ان سے حیا کرتے ملائک بھی
حیا کرتے تھے ان سے نبی واہ میرے عثمانِ غنی

خریدا بحرِ رومہ کو نبیﷺ کو پیش کر ڈالا
ہے رب نے یہ سعادت دی وہ میرے عثمانِ غنی

وہ اونٹوں کی قطاروں کو خدا کی راہ میں دینا
نہیں ملتی مثال ایسی واہ میرے عثمانِ غنی

ہے ذوالنورین کے رتبے سے آقا نے نواز ہے
نبی نے بیٹیاں د²و دی واہ میرے عثمانِ غنی

ہے بند کمرے میں چالیس دن پیاسا آپ کو رکھا
حسین و حسن کے جانی واہ میرے عثمانِ غنی

قرآں پڑھتے شہادت کی سعادت آپ نے پائی
پھر سب نے کہہ دیا ہے یہی واہ میرے عثمانِ غنی

نبی کو پیار کتنا آپ سے دیکھو ذرا عاؔطف
نبی نے بیعتِ رضواں لی واہ میرے عثمانِ غنی

 

19/07/2022

Allah se kya pyar hai Usman Ghani i ka

اللہ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا

محبوبِ خدا یار ہے عثمانِ غنی کا

رنگین وہ رُخسار ہے عثمان غنی کا
بلبل گل گلزار ہے عثمان غنی کا

گرمی پہ یہ بازار ہے عثمانِ غنی کا
اﷲ خریدار ہے عثمانِ غنی کا

کیا لعل شکر بار ہے عثمانِ غنی کا
قند ایک نمک خوار ہے عثمانِ غنی کا

سرکار عطا پاش ہے عثمانِ غنی کا
دربار دُرر بار ہے عثمانِ غنی کا

دل سوختو ہمت جگر اب ہوتے ہیں ٹھنڈے
وہ سایۂ دیوار ہے عثمانِ غنی کا

جو دل کو ضیا دے جو مقدر کو جلا دے
وہ جلوۂ دیدار ہے عثمانِ غنی کا

جس آئینہ میں نورِ الٰہی نظر آئے
وہ آئینہ رُخسار ہے عثمانِ غنی کا

سرکار سے پائیں گے مرادوں پہ مرادیں
دربار یہ دُر بار ہے عثمانِ غنی کا

آزاد، گرفتارِ بلاے دو جہاں ہے
آزاد، گرفتار ہے عثمانِ غنی کا

بیمار ہے جس کو نہیں آزارِ محبت
اچھا ہے جو بیمار ہے عثمانِ غنی کا

اﷲ غنی حد نہیں اِنعام و عطا کی
وہ فیض پہ دربار ہے عثمانِ غنی کا

رُک جائیں مرے کام حسنؔ ہو نہیں سکتا
فیضان مددگار ہے عثمانِ غنی کا

مولانا حسن رضا بریلوی علیہ الرحمہ

 

12/07/2022

Hajio Aao

حاجیو! آؤ شہنشاہ کا رَوضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبَہ کا کعبَہ دیکھو

رُکنِ شامی سے مِٹی وحشت شامِ غربت
اب مَدینہ کو چلو صبحِ دِل آرا دیکھو

آبِ زمزم تو پِیا خُوب بجھائیں پیاسیں 
آؤ جُودِ شہِ کوثر کا بھی دریا دیکھو

زیرِ میزاب مِلے خوب کرم کے چھینٹے
ابرِ رحمت کا یہاں زورِ برسنا دیکھو

دُھوم دیکھی ہے درِ کعبہ پہ بیتابوں کی
اُن کے مشتاقوں میں حسرت کا تڑپنا دیکھو

مِثلِ پروانہ پِھرا کرتے تھے جس شمع کے گِرد
اپنی اُس شمع کو پَروانہ یہاں کا دیکھو

خُوب آنکھوں سے لگایا ہے غلافِ کعبہ
قصرِ محبوب کے پردے کا بھی جلوہ دیکھو

واں مطیعوں کا جگر خوف سے پانی پایا
یاں سِیہ کاروں کا دامن پہ مچلنا دیکھو

اوّلیں خانۂ حق کی تو ضِیائیں دیکھیں 
آخریں بَیتِ نبی کا بھی تجلّا دیکھو

زِینتِ کعبہ میں تھا لاکھ عَروسوں کا بناؤ
جلوہ فرما یہاں کونین کا دُولہا دیکھو

ایمنِ طُور کا تھا رُکنِ یمانی میں فروغ
شعلۂ طُور یہاں انجمن آرا دیکھو

مہرِ مادر کا مزہ دیتی ہے آغوشِ حطیم
جن پہ ماں باپ فدا یاں کرم ان کا دیکھو

عرضِ حاجت میں رہا کعبہ کفیل اَنجاح
آؤ اب داد رسیِّ شہِ طیبہ دیکھو

دھو چکا ظلمتِ دل بوسۂ سنگِ اَسْوَد
خاک بوسیِ مدینہ کا بھی رُتبہ دیکھو

کر چکی رفعتِ کعبَہ پہ نظر پَروازیں 
ٹوپی اب تھام کے خاکِ درِ والا دیکھو

بے نیازی سے وہاں کانپتی پائی طاعت
جوشِ رحمت پہ یہاں نازْ گنہ کا دیکھو

جمعۂ مکہ تھا عید اہلِ عبادت کے لئے
مجرمو! آؤ یہاں عید دوشنبہ دیکھو

ملتزِم سے تو گلے لگ کے نکالے ارماں 
ادب و شوق کا یاں باہم اُلجھنا دیکھو

خوب مسعٰے میں بامید صفا دوڑ لیے 
رہِ جاناں کی صفا کا بھی تماشا دیکھو

رقصِ بِسمل کی بہاریں تو مِنٰی میں دیکھیں 
دلِ خوں نابہ فشاں کا بھی تڑپنا دیکھو

غور سے سُن تو رضاؔ کعبہ سے آتی ہے صَدا
میری آنکھوں سے مِرے پیارے کا روضہ دیکھو

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ

 

06/07/2022

Kabe Ki Raonq

کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبر

دیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر، اللہ اکبر اللہ اکبر

حیرت سے خود کو کبھی دیکھتا ہوں اور دیکھتا ہوں کبھی میں حرم کو
کہ لایا کہاں مجھ کو میرا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر

تیرے حرم کی کیا بات مولٰی ، تیرے کرم کی کیا بات مولٰی
تا عمر لکھ دے آنا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر

حمد خدا سے تر ہیں زبانیں، کانوں میں رس گھولتی ہیں اذانیں
بس اک صدا آ رہی ہے برابر، اللہ اکبر اللہ اکبر

مانگی ہیں میں نے جتنی دعائیں، منظور ہوں گی، مقبول ہوں گی
میزابِ رحمت ہے میرے سر پر، اللہ اکبر اللہ اکبر

یاد آگئیں جب اپنی خطائیں اشکوں میں ڈھلنے لگیں التجائیں
رویا غلافِ کعبہ پکڑ کر، اللہ اکبر اللہ اکبر

بھیجا ہے جنت سے تجھکو خدا نے، چوما ہے تجھکو میرے مصطفٰی نے
اے سنگِ اسود تیرا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر

دیکھا صفا اور مروٰہ بھی دیکھا رب کے کرم کا جلوہ بھی دیکھا
دیکھا وہاں اک سروں کا سمندر، اللہ اکبر اللہ اکبر

مولٰی صبیؔح اور کیا چاہتا ہے، بس مغفرت کی عطا چاہتا ہے
بخشش کے طالب پہ اپنا کرم کر، اللہ اکبر اللہ اکبر

 

05/07/2022

Lo Aagai Qurbani

سنت ہے ابراہیمی ہے شیوۂ ایمانی

لو آگئی قربانی لو آگئی قربانی

خواب تھا جو آیا رب کے خلیل کو
قربان کر رہے ہیں وہ اسماعیل کو
سمجھے تھے ابراہیم کہ یہ حکم ہے ربانی
لو آگئی قربانی لو آگئی قربانی

فرمایا اسمٰعیل کو رب کی رضا کو مان
بیٹے خدا کی راہ میں تجھے ہونا ہے قربان
سنتے ہی اسمٰعیل نے فوراً یہ بات مانی
لو آگئی قربانی لو آگئی قربانی

آنکھوں پہ پٹی باندھ کے سیدھا لٹا دیا
گردن پہ تیز چھری کو لاکے ٹِکا دیا
جبرائیل لے آئے وہیں دنبۂ آسمانی
لو آگئی قربانی لو آگئی قربانی

اللہ کو ابراہیم کی آئی ادا پسند
ہر ایک مسلمان کو رب نے کیا پابند
تا حشر ہے خلیل کی سنت ہمیں نبھانی
لو آگئی قربانی لو آگئی قربانی

 

03/07/2022

Main Hazir Hun

اے ربِ ملائک و جن و بشر، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں
خدمت میں تری شرمندہ نظر، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں

جو تیری ثنا کے لائق ہو، اک حرف بھی ایسا پاس نہیں
کیا تابِ سخن، کیا عرضِ ہنر، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں

قطرے کی نگاہِ حیراں پر دریا کی حقیقت کیسے کھلے
میں جانتا ہوں یہ بات مگر، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں

میرے چاروں طرف ہیں دروازے، میرا سرمایہ کچھ اندازے
مجھ بے خبرے کو بخش خبر، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں

یہ ارض وسما کی پہنائی،یہ میری ادھوری بینائی
ہے شوقِ سفر ہی زادِ سفر، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں

مرے کان تری آہٹ سے سجیں ، مرے سانس تری خوشبو میں پلیں
مری آنکھیں اپنے خواب سے بھر ، میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں

اے نورِ ازل ، اے حسنِ ابد، سبحان اللہ سبحان اللہ
رہیں روشن تیرے شمس و قمر، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں

 

02/07/2022

Huzoor e Kaaba Hazir Hein

حضور کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے
بڑی سرکار میں پہنچے مقدر یاوری پر ہے

نہ ہم آنے کے لائق تھے نہ قابل منہ دکھانے کے
مگر ان کا کرم ذرہ نواز و بندہ پرور ہے

خبر کیا ہے بھکاری کیسی کیسی نعمتیں پائیں
یہ اونچا گھر ہے اس کی بھیک اندازہ سے باہر ہے

تصدق ہو رہے ہیں لاکھوں بندے گرد پھر پھر کر
طواف خانۂ کعبہ عجب دلچسپ منظر ہے

خدا کی شان یہ لب اور بوسہ سنگ اسود کا
ہمارا منہ اور اس قابل عطائے رب اکبر ہے

جو ہیبت سے رکے مجرم تو رحمت نے کہا بڑھ کر
چلے آؤ چلے آؤ یہ گھر رحمن کا گھر ہے

مقام حضرت خلت پدر سا مہرباں پایا
کلیجہ سے لگانے کو حطیم آغوش مادر ہے

لگاتا ہے غلاف پاک کوئی چشم پر نم سے
لپٹ کر ملتزم سے کوئی محو وصل دلبر ہے

وطن اور اس کا تڑکا صدقے اس شام غریبی پر
کہ نور رکن شامی روکش صبح منور ہے

ہوئے ایمان تازہ بوسۂ رکن یمانی سے
فدا ہو جاؤں یمن و ایمنی کا پاک منظر ہے

یہ زمزم اس لیے ہے جس لیے اس کو پئے کوئی
اسی زمزم میں جنت ہے اسی زمزم میں کوثر ہے

شفا کیوں کر نہ پائیں نیم جاں زہر معاصی سے
کہ نظارہ عراقی رکن کا تریاق اکبر ہے

صفائے قلب کے جلوے عیاں ہیں سعی مسعی سے
یہاں کی بے قراری بھی سکون جان مضطر ہے

ہوا ہے پیر کا حج پیر نے جن سے شرف پایا
انھیں کے فضل سے دن جمعہ کا ہر دن سے بہتر ہے

نہیں کچھ جمعہ پر موقوف افضال و کرم ان کا
جو وہ مقبول فرما لیں تو ہر حج حج اکبر ہے

حسنؔ حج کر لیا کعبہ سے آنکھوں نے ضیا پائی
چلو دیکھیں وہ بستی جس کا رستہ دل کے اندر ہے

حاضری حرمین شریفین 
از: علامہ حسن رضا بریلوی علیہ الرحمہ 

 

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...