دونوں عالم ہیں نورُٗ علی نور کیوں
کیسی رونق فضا آج کی رات ہے
یہ مسرت ہے کس کی ملاقات کی
عید کا دن ہے یا آج کی رات ہے
باغِ عالم میں بادِ بہاری چلی
سرورِ انبیاء کی سُواری چلی
یہ سُواری سُوئے ذاتِ باری چلی
ابرِ رحمت اُٹھا آج کی رات ہے
طُور چوٹی کو اپنی جھکانے لگا
چاندنی چاند ہر سُو دِکھانے لگا
عرش سے فرش تک جگمگانے لگا
رشکِ صبحِ صفا آج کی رات ہے
طُور پر رفعتِ لامکانی کہاں
لَن تَرانی کہاں مَنْ رّاٰنی کہاں
جس کا سایہ نہیں اُس کا ثانی کہاں
اُن کا اِک معجزہ آج کی رات ہے
خوابِ راحت میں تھے ام ہانی کے گھر
آکے جبریل نے یہ سنائی خبر
چلیے چلیے شہنشاہِ والا گوہر
حق کو شوقِ لقاء آج کی رات ہے
عطرِ رحمت فرشتے چھڑکتے چلے
جس کی خوشبو سے رستے مہکتے چلے
چاند تارے جِلوں میں چمکتے چلے
کہکشاں زیرِ پا آج کی رات ہے
جذبِ حسنِ طلب ہر قدم ساتھ ہے
دائیں بائیں فرشتوں کی بارات ہے
سرپہ نورانی سہرے کی کیا بات ہے
شاہ دُولہا بنا آج کی رات ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Thanks for you