مُسَـلَّـمُ الثُّبـوت ہـے ، فضیلتِ معـاویہ
عیاں ہے شمس کی طرح کرامتِ معاویہ
وہ جس سے روٹھ جاٸیں تو رسول اُس سے روٹھ جاٸیں
نبیﷺ سے اِس طرح کی ہے قَرابتِ معاویہ
خداکےفضل سے ملی، اُنھیں وہ عظمتِ گراں
کـوئی نہ تول پائے گا ، جلالتِ معاویہ
نسَب میں ہیں تجلیاں قبیلۂ رسول کی
قُریشیت سے بڑھ گئی شرافتِ معاویہ
ہیں انکی خواہرِ عزیز، جملہ مومنوں کی ماں
بـڑی شَرَف ماٰب ہے ، نَجابتِ معاویہ
گُلِ حیات اُن کا ہےصحابیت سے عطر بیز
اِسی لئے ہے نَو بہ نو ، نَضارتِ معاویہ
تمام مومنوں کے آپ پیارے ماموں جان ہیں
ہمیں بہت عزیز ہے ، یہ نسبتِ معاویہ
حَسَن کےدستِ پاک سے بنے خلیفۂ رسول
رضائے آل مصطفٰی ، خلافتِ معاویہ
معاویہ کے پیار سے ہمارا بیڑا پار ہے
گنـاہ بخشوائےگی ، شفاعتِ معاویہ
اُنھیں کوئی برا کہے تو اُسکے منہ میں خاک و آگ
نہ سن سکیں گے ہم کبھی اہانتِ معاویہ
جوعاشقِ رسول ہیں وہ ان سے پیار کرتے ہیں
فقط منافقوں کو ہـے ، عداوتِ معاویہ
یزیدکےفریب کا، معاویہ سےکیا حساب
نبھا نہ پایا وہ شقی ، نیابتِ معاویہ
وہ کرگئے نصیحتیں، اصولِ حق پہ چلنے کی
پسر کے فعلِ بد سے ہے ، براءَتِ معاویہ
ہر ایک بغض و کینہ سے، حیات انکی پاک ہے
سدا ہو عزت علی ، اِرادت معاویہ
جہانِ علم و فضل کے وہ دونوں آفتاب ہیں
نہ کم ہے طلعت علی، نہ طلعت معـاویہ
بڑوں کےاختلاف میں، پڑیں نہ ہم، یہی ہے خیر
ہو دل میں الفت علی، عقیدت معاویہ
وہ نجمِ برجِ رُشد ہیں وہ ہادئیِ رہِ ارم
فـلاح دوجہاں بنی ، قیادتِ معاویہ
مِلااُنھیں بھی افتخار، وحٸِ پاک لکھنے کا
ہـے لازوال تا ابد ، کتابتِ معاویہ
کہاہےعادل وثِقَہ ، محدثین نے اُنھیں
حدیث میں ہے مستند ، روایتِ معاویہ
اُنھیں دعا نبی نـے دی ہے مہدی اور ہادی کی
ہر ایک شک سے دور ہے ہدایتِ معاویہ
تبرکات مصطفٰی، لحد کےواسطے چنے
عقیدے کاچراغ ہـے ، وصیّتِ معاویہ
کشادہ انکا دستِ پاک آسمان کی طرح
مثالِ بارشِ رواں ، سـخاوتِ معاویہ
صحابہ،تابعین ہوں، کہ اولیاءِ دین ہوں
سب اہلِ حق نے مانی ہے امامتِ معاویہ
نہ رافضی نہ خارجی، فقط ہیں سنی معتدل
یزید سـے جدائی اور رَفاقتِ معاویہ
ہراک عـدو پہ لعنتیں، خدا کی اور رسول کی
ہـے باعث رضائے رب، اطاعتِ معاویہ
یہ گوہرحیات ہے، یہ توشۂ نجات ہے
دلِ فریؔدی کو ملی ، محبتِ معاویہ
شاعر: فرید صدیقی مصباحی مسقط عمان
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Thanks for you