خدا کے فضل سے ملی انھیں وہ عظمت گراں
کوئی نہ تول پائے گا جلالت معاویہ
رسول اللہﷺ کی ہیں بالیقین نعمت معاویہ
تو ہے کاتب وحی کا اور محبوبِ شہہ دیں ہے
بھلا کیسے بیاں ہو تیری اب رفعت معاویہ
بھلا عیَّار کے لب پر تشیُّن کیوں ترا ہوگا
فقط حق والے کرتے ہیں تری مدحت معاویہ
نسب میں ہیں تجلیاں قبیلۂ رسول کی
قُریشیت سے بڑھ گئی شرافتِ معاویہ
جو تیرا ہو نہیں پایا حسن کا ہو نہیں سکتا
یہ ہے حق والوں کا اعلان اے حضرت معاویہ
شفاعت جب کرائیں گے ہماری تو منافق سب
تحیُّر دیکھ کر ہوں گے تری عظمت معاویہ
یہ دل خستہ ہے اے آقاﷺ مصائب گھیر رکھے ہیں
تمیم اشرفی پر ہو کرم حضرت معاویہ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Thanks for you