21/02/2022

سلام ان پر

SalamUnper
ہزاروں ہوں درود اُن پر، ہزاروں ہوں سلام اُن پر

وہ ہیں سلطانِ بحر و بر، ہزاروں ہوں سلام اُن پر


اشارے سے قمر توڑیں، بُلائیں تو شجر دوڑیں

گواہی جن کی دیں پتھر، ہزاروں ہوں سلام ان پر


مدینے کے وہ بام و در، پکڑ کر اور جھکا کر سر

کہیں ہم سب یہی مل کر، ہزاروں ہوں سلام ان پر


جو رحمت کی رِدائیں دیں، جو دشمن کو دُعائیں دیں

عطا و جود کے پیکر، ہزاروں ہوں سلام ان پر


کوئی بے گھر بھی آجائے، کوئی بے زر بھی آ جائے

وہ لوٹاتے ہیں بھر بھرکر، ہزاروں ہوں سلام ان پر


مِرا آصف یہ ہے ایماں، ہر اک دکھ کے ہیں وہ درماں

وہی دکھیوں کے ہیں یاور، ہزاروں ہوں سلام ان پر

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...