28/02/2022

Raat Hai Ye Meraj E Nabi Ki

 رات ہے یہ معراج نبیﷺ کی ہم بھی جشن منائیں گے

آج ہمارے پیارے آقا ﷺ رب سے ملنے جائیں گے


آج سجے گا عرش خدا رک جائیں گے سب لمحے

اللہ کے محبوب نبیﷺ کو قدسی لینے آئیں گے


اقصی کی نوری مسجد میں حکمِ الٰہی سے لوگوں

سب نبیوں کی آج امامت میرے نبیﷺ فرمائیں گے 


نوریوں کا سردار رُکے گا سدرہ کی منزل پر جب

آگے ہم خود جائیں گے اب آقا ﷺ فرمائیں گے


راز و نیاز کی باتیں ہوں گی عرشِ بریں کی خلوت میں

پانچ نمازوں کا تحفہ بھی آقا ﷺ لے کر آئیں گے


دے دو سارے گنہگاروں کو خوشخبری یہ فاروقی 

آج ہمارے واسطے آقا ﷺ اپنے رب کو منائیں گے


 

Hain Saf Aara Sab Hoor O Malak


ہیں صَف آرا سب حُور و ملک اور غِلماں خُلد سجاتے ہیں

اِک دھوم ہے عرشِ اعظم پرمِہمان خُدا کے آتے ہیں

ہے آج فلک روشن روشن، ہیں تارے بھی جگمگ جگمگ
محبوب خُدا کے آتے ہیں محبوب خُدا کے آتے ہیں

جِبریل امین بُراق لئے جنّت سے زمیں پر آپہنچے
بارات فِرِشتوں کی آئی مِعراج کو دولہا جاتے ہیں

دیوانو! تصوُّر میں دیکھو! اَسرٰی کے دولہا کا جلوہ
جُھرمُٹ میں ملائک لےکرانہیں مِعراج کا دولہا بناتے ہیں

اقصٰی میں سُواری جب پہنچی جِبریل نے بڑھ کے کہی تکبیر
نبیوں کی امامت اب بڑھ کرسلطانِ جہاں فرماتے ہیں

وہ کیسا حسیں منظر ہوگا جب دولہا بنا سروَر ہوگا
عُشّاق تصوُّرکر کر کے بس روتے ہی رہ جاتے ہیں

یہ شاہ نے پائی سعادت ہے خالِق نے عطاکی زیارت ہے
جب ایک تجلّی پڑتی ہے موسیٰ تو غش کھاجاتے ہیں

مِعراج کی شب تو یاد رکھا پھر حشر میں کیسے بھولیں گے
عطارؔ اِسی اُمّید پہ ہم دن اپنے گزارے جاتے ہیں

27/02/2022

شاہ دُولہا بنا آج کی رات ہے


 دونوں عالم ہیں نورُٗ علی نور کیوں

کیسی رونق فضا آج کی رات ہے

یہ مسرت ہے کس کی ملاقات کی

عید کا دن ہے یا آج کی رات ہے


باغِ عالم میں بادِ بہاری چلی

سرورِ انبیاء کی سُواری چلی

یہ سُواری سُوئے ذاتِ باری چلی

ابرِ رحمت اُٹھا آج کی رات ہے


طُور چوٹی کو اپنی جھکانے لگا

چاندنی چاند ہر سُو دِکھانے لگا

عرش سے فرش تک جگمگانے لگا

رشکِ صبحِ صفا آج کی رات ہے


طُور پر رفعتِ لامکانی کہاں

لَن تَرانی کہاں مَنْ رّاٰنی کہاں

جس کا سایہ نہیں اُس کا ثانی کہاں

اُن کا اِک معجزہ آج کی رات ہے


خوابِ راحت میں تھے ام ہانی کے گھر

آکے جبریل نے یہ سنائی خبر

چلیے چلیے شہنشاہِ والا گوہر

حق کو شوقِ لقاء آج کی رات ہے


عطرِ رحمت فرشتے چھڑکتے چلے

جس کی خوشبو سے رستے مہکتے چلے

چاند تارے جِلوں میں چمکتے چلے

 کہکشاں زیرِ پا آج کی رات ہے


جذبِ حسنِ طلب ہر قدم ساتھ ہے

دائیں بائیں فرشتوں کی بارات ہے

سرپہ نورانی سہرے کی کیا بات ہے

شاہ دُولہا بنا آج کی رات ہے


25/02/2022

محمد مصطفےٰ ﷺ جانے


خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفٰیﷺ جانے

مقام مصطفٰےﷺ کیا ہے محمد کا خدا جانے

صدا کرنا میرے بس میں تھا میں نے تو صدا کردی
وہ کیا دیں گے میں کیا لوں گا سخی جانے گدا جانے

مریض مصطفٰے ﷺ ہوں میں طبیبوں چھیڑو نہ مجھے
مدینے مجھ کو پہنچا دو مرض جانے دارالشفا جانے

میری مٹی مدینے پاک کی راہ میں بچھا دینا
کہاں لے جائیگی اس کو مدینےکی ہوا جانے

مدینے پاک کی تم مانگتے رہنا دعا یارو
اثر ہوگا نہیں ہوگا دعا جانے خدا جانے

ہمیں تو سرخرو ہونا ہے آقاﷺ کی نگاہوں میں
زمانے کا ہے کیا ناصؔر برا جانے بھلا جانے 

24/02/2022

ہمارا دل ہماری جان ہیں حضرت معاویہ

خدا کے فضل سے ملی انھیں وہ عظمت گراں

کوئی نہ تول پائے گا جلالت معاویہ

ہمارا دل ہماری جان ہیں ، حضرت معاویہ

رسول اللہﷺ کی ہیں بالیقین نعمت معاویہ

تو ہے کاتب وحی کا اور محبوبِ شہہ دیں ہے
بھلا کیسے بیاں ہو تیری اب رفعت معاویہ

بھلا عیَّار کے لب پر تشیُّن کیوں ترا ہوگا
فقط حق والے کرتے ہیں تری مدحت معاویہ

نسب میں ہیں تجلیاں قبیلۂ رسول کی
قُریشیت سے بڑھ گئی شرافتِ معاویہ

جو تیرا ہو نہیں پایا حسن کا ہو نہیں سکتا
یہ ہے حق والوں کا اعلان اے حضرت معاویہ

شفاعت جب کرائیں گے ہماری تو منافق سب
تحیُّر دیکھ کر ہوں گے تری عظمت معاویہ

یہ دل خستہ ہے اے آقاﷺ مصائب گھیر رکھے ہیں
تمیم اشرفی پر ہو کرم حضرت معاویہ 

23/02/2022

فضیلت معاویہ


 مُسَـلَّـمُ الثُّبـوت ہـے ، فضیلتِ معـاویہ

عیاں ہے شمس کی طرح کرامتِ معاویہ


وہ جس سے روٹھ جاٸیں تو رسول اُس سے روٹھ جاٸیں

نبیﷺ سے اِس طرح کی ہے قَرابتِ معاویہ


خداکےفضل سے ملی، اُنھیں وہ عظمتِ گراں

کـوئی نہ تول پائے گا ، جلالتِ معاویہ


نسَب میں ہیں تجلیاں قبیلۂ رسول کی

قُریشیت سے بڑھ گئی شرافتِ معاویہ


ہیں انکی خواہرِ عزیز، جملہ مومنوں کی ماں

بـڑی شَرَف ماٰب ہے ، نَجابتِ معاویہ


گُلِ حیات اُن کا ہےصحابیت سے عطر بیز

اِسی لئے ہے نَو بہ نو ، نَضارتِ معاویہ


تمام مومنوں کے آپ پیارے ماموں جان ہیں

ہمیں بہت عزیز ہے ، یہ نسبتِ معاویہ


حَسَن کےدستِ پاک سے بنے خلیفۂ رسول

رضائے آل مصطفٰی ، خلافتِ معاویہ


معاویہ کے پیار سے ہمارا بیڑا پار ہے

گنـاہ بخشوائےگی ، شفاعتِ معاویہ


اُنھیں کوئی برا کہے تو اُسکے منہ میں خاک و آگ

نہ سن سکیں گے ہم کبھی اہانتِ معاویہ


جوعاشقِ رسول ہیں وہ ان سے پیار کرتے ہیں

فقط منافقوں کو ہـے ، عداوتِ معاویہ


یزیدکےفریب کا، معاویہ سےکیا حساب

نبھا نہ پایا وہ شقی ، نیابتِ معاویہ


وہ کرگئے نصیحتیں، اصولِ حق پہ چلنے کی

پسر کے فعلِ بد سے ہے ، براءَتِ معاویہ


ہر ایک بغض و کینہ سے، حیات انکی پاک ہے

سدا ہو عزت علی ، اِرادت معاویہ


جہانِ علم و فضل کے وہ دونوں آفتاب ہیں

نہ کم ہے طلعت علی، نہ طلعت معـاویہ


بڑوں کےاختلاف میں، پڑیں نہ ہم، یہی ہے خیر

ہو دل میں الفت علی، عقیدت معاویہ


وہ نجمِ برجِ رُشد ہیں وہ ہادئیِ رہِ ارم

فـلاح دوجہاں بنی ، قیادتِ معاویہ


مِلااُنھیں بھی افتخار، وحٸِ پاک لکھنے کا

ہـے لازوال تا ابد ، کتابتِ معاویہ


کہاہےعادل وثِقَہ ، محدثین نے اُنھیں

حدیث میں ہے مستند ، روایتِ معاویہ


اُنھیں دعا نبی نـے دی ہے مہدی اور ہادی کی

ہر ایک شک سے دور ہے ہدایتِ معاویہ


تبرکات مصطفٰی، لحد کےواسطے چنے

عقیدے کاچراغ ہـے ، وصیّتِ معاویہ


کشادہ انکا دستِ پاک آسمان کی طرح

مثالِ بارشِ رواں ، سـخاوتِ معاویہ


صحابہ،تابعین ہوں، کہ اولیاءِ دین ہوں

سب اہلِ حق نے مانی ہے امامتِ معاویہ


نہ رافضی نہ خارجی، فقط ہیں سنی معتدل

یزید سـے جدائی اور رَفاقتِ معاویہ


ہراک عـدو پہ لعنتیں، خدا کی اور رسول کی

ہـے باعث رضائے رب، اطاعتِ معاویہ


یہ گوہرحیات ہے، یہ توشۂ نجات ہے

دلِ فریؔدی کو ملی ، محبتِ معاویہ

شاعر: فرید صدیقی مصباحی مسقط عمان

21/02/2022

تیرے دامن کرم میں جسے نیند آگئی ہے

 ترے دامن کرم میں جسے نیند آگئی ہے

جو فنا نہ ہوگی ایسی اسے زندگی ملی ہے


مجھے کیا پڑی کسی سے کروں عرض مدعا میں

مری لو تو بس انہیں کے درِ جود سے لگی ہے


وہ جہان بھر کے داتا مجھے پھیردیں گے خالی؟

مری توبہ اے خدا یہ مرے نفس کی بدی ہے


جو پئے سوال آئے مجھے دیکھ کر یہ بولے!

اسے چین سے سلائو کے یہ بندۂ نبی ہے


میں مروں تو میرے مولیٰ یہ ملائکہ سے کہہ دیں

کوئی اس کو مت جگانا ابھی آنکھ لگ گئی ہے


میں گناہ گارہوں اور بڑے مرتبوں کی خواہش

تو مگر کریم ہے خو تری بندہ پروری ہے


تری یاد تھپکی دیکر مجھے اب شہا سلا دے

مجھے جاگتے ہوئے یوں بڑی دیر ہوگئی ہے


اے نسیم کوئے جاناں ذرا سوئے بد نصیباں

چلی آ کھلی ہے تجھ پہ جو ہماری بے کسی ہے


ترا دل شکستہ اخترؔ اسی انتظار میں ہے

کہ ابھی نوید وصلت ترے در سے آرہی ہے


کلام : حضور تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ


علیہ

سلام ان پر

SalamUnper
ہزاروں ہوں درود اُن پر، ہزاروں ہوں سلام اُن پر

وہ ہیں سلطانِ بحر و بر، ہزاروں ہوں سلام اُن پر


اشارے سے قمر توڑیں، بُلائیں تو شجر دوڑیں

گواہی جن کی دیں پتھر، ہزاروں ہوں سلام ان پر


مدینے کے وہ بام و در، پکڑ کر اور جھکا کر سر

کہیں ہم سب یہی مل کر، ہزاروں ہوں سلام ان پر


جو رحمت کی رِدائیں دیں، جو دشمن کو دُعائیں دیں

عطا و جود کے پیکر، ہزاروں ہوں سلام ان پر


کوئی بے گھر بھی آجائے، کوئی بے زر بھی آ جائے

وہ لوٹاتے ہیں بھر بھرکر، ہزاروں ہوں سلام ان پر


مِرا آصف یہ ہے ایماں، ہر اک دکھ کے ہیں وہ درماں

وہی دکھیوں کے ہیں یاور، ہزاروں ہوں سلام ان پر

18/02/2022

شاہِ مدینہ شاہِ مدینہ

سارے نبی تیرے دَر کے سوالی
جلوے ہیں سارے تیرے ہی دم سے
آباد عالم تیرے کرم سے
باقی ہر اک شے نقش خیالی
سارے نبی تیرے در کے سوالی
شاہِ مدینہ، طیبہ کے والی

تیرے لیے ہی دنیا بنی ہے
نیلے فلک کی چادر تنی ہے
تُو اگر نہ ہوتا دنیا تھی خالی
سارے نبی تیرے در کے سوالی
شاہِ مدینہ، طیبہ کے والی

تُو نے جہاں کی محفل سجائی
تاریکیوں میں شمع جلائی
ہر سمت چھائی، رات کالی
سارے نبی تیرے در کے سوالی
شاہِ مدینہ، طیبہ کے والی

قدموں میں تیرے عرش بریں ہے
تجھ سا جہاں میں کوئی نہیں ہے
کاندھے پہ تیرے کملی ہے کالی
سارے نبی تیرے در کے سوالی
شاہِ مدینہ، طیبہ کے والی

مذہب ہے تیرا سب کی بھلائی
مسلک ہے تیرا مشکل کشائی
شاہا دیکھ امت کی کچھ خستہ حالی
سارے نبی تیرے در کے سوالی
شاہِ مدینہ، طیبہ کے والی

ہے نور تیرا شمس و قمر میں
تیرے لبوں کی سرخی سحر میں
پھولوں نے تیری خوشبو چرا لی
سارے نبی تیرے در کے سوالی
شاہِ مدینہ، طیبہ کے والی
💚💚💚
 

امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ


 

15/02/2022

نصیبوں کو جگایا ہے علی نے


 نصیبوں کو جگایا ہے علی نے

ہمیں اپنا بنایا ہے علی نے

 

وہ تطہیر وہ عزت بیٹیوں کی

بچانا خود سکھایا ہے علی نے


مٹے گی مصطفیﷺ کی نسل کیسے

کہ جب شجرہ چلایا ہے علی نے


علی کے نام پر ہم کیوں مرے نہ

ہمیں جینا سکھایا ہے علی ن 


غموں نے جب بھی مجھکو آکے گھیرا

مجھے آکر بچایا ہے علی نے


گدا شہباؔز ان کے در کا ہوں میں

جنہیں اپنا بنایا ہے علی نے

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...