![]() |
پڑھا ہے امت کے پیشواؤں نے خوب خطبہ معاویہ کا
کلامِ ربّ کے ہوئے وہ کاتب ، بنے نبی کے عظیم صاحب علی کے لختِ جگر نے ان کو ، کیا خلیفہ، ہوئے ہیں راضی کتاب و سُنت کے ہیں یہ عالم ، رُموز و اَسرار کے ہیں عارف تبرکاتِ نبی کو اپنے کفن میں لے کر لحد میں اُترے ہوئے صحابہ کی صَف میں شامل ، غلام آقا کے ہیں یہ کامل عَدو جنابِ معاویہ کا،ذلیل و رُسوا و خوار ہوگا شَرَف خُدا نے ہے کیسا بخشا ، ہیں ان کی خواہَر نبی کی زوجہ نگاہ کرکے،دعائیں دے کر، عنایتیں کرکے خاص اپنی لبوں پہ سرکار کے ہے آیا ، اِسی لیے ہم کو بھی ہے بھایا علی کے لختِ جِگر نے ہاتھوں میں ہاتھ انکے دِیا ہے دیکھو یزید کے فعلِ بد کا ان سے ، کرو نہ ہر گِز موازنہ تُم کمانِ بُرہان سے نِکل کر ، کیا ہے باطل کے تَن کو گھائل مُحبِّ اَصحاب و آل ہو کر ، ہمیشہ رہنا انہیں کا چاکر از قلم✒️: ابوالحقائق راشد علی رضوی عطاری مدنی |

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Thanks for you