02/02/2023

Lo Madine ki Tajalli se

لَو مدینے کی تجلّی سے لگائے ہوئے ہیں

دل کو ہم مطلعِ انوار بنائے ہوئے ہیں

اِک جھلک آج دِکھا گنبدِ خضرٰی کے مکِیں
کچھ بھی ہے دُور سے دِیدار کو آئے ہوئے ہیں 

سر پہ رکھ دیجے ذرا دستِ تسلّی آقا ﷺ
غم کے مارے ہیں زمانے کے ستائے ہوئے ہیں

بوسۂ دَر سے نہ روک ان کو تو اب اے دربان
خود نہیں آئے یہ مہمان بلائے ہوئے ہیں

نام آنے سے ابوبکر و عمر کا لَب پر
کیوں بِگڑتا ہے وہ پہلُو میں سُلائے ہوئے ہیں

حاضر و ناظر و نُور و بشر و غیب کو چھوڑ
شُکر کر وہ تیرے عیبوں کو چُھپائے ہوئے ہیں

کٹ گیا ہے تیری تعلیم سے رشتہ اپنا
صرف رسم و رہِ دُنیا ہی نِبھائے ہوئے ہیں

قبر کی نیند سے اُٹھنا کوئی آسان نہ تھا
ہم تو محشر میں انہیں دیکھنے آئے ہوئے ہیں

تیری نِسبت کی بدولت ہی تو ہم جیسے لوگ
کُفر کے دور میں ایمان بچائے ہوئے ہیں

کیوں نہ پلڑا تیرے اعمال کا بھاری ہو نصؔیر
اب تو میزان پہ سرکارﷺ بھی آئے ہوئے ہیں

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...