30/04/2022

ماہ رمضان بس الوداع ہے

الوداع الوداع الوداع ہے
ماہ رمضان بس الوداع ہے

دن تیرے آنے سے معتبر تھے نور میں ڈوبے شام و سحر تھے
تیرے جانے سے دل رو رہا ہے ماہ رمضان بس الوداع ہے

الوداع الوادع الوداع ہے
ماہ رمضان بس الوداع ہے

رحمتوں کا تُو پیغام لایا برکتوں کا امکان لایا
رتبہ اعلی و افضل تیرا ہے ماہِ رمضان بس الوداع ہے

جام رحمت کے تُو نے پلاۓ گُل مرادوں کے تُو نے گھلاۓ
تُو جدا ہم سے اب ہو رہا ہے ماہِ رمضان بس الوداع ہے

الوداع الوداع الوداع ہے
ماہِ رمضان بس الوداع ہے

چل دیا تُو جو رب کی جانب اہلِ ایماں کے پُر نم ہیں قالب
قلب عشرت بھی غم سے بھرا ہے ماہِ رمضان بس الوداع ہے

الوداع الوداع الوداع ہے
ماہِ رمضان بس الوداع ہے

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...