27/04/2022

مدینے سے بلاوا آ رہا ہے

مدینے سے بلاوا آرہا ہے

میرا دل مجھ سے پہلے جارہا ہے

شبِ فرقت سے دل گھبرا رہا ہے
مدینہ آپ کا یاد آرہا ہے

یہاں مرضی نہیں چلتی کسی کی
مدینے والا ہی بلوا رہا ہے

عجب ہیں سبز گنبد کے نظارے
نگاہوں کو خدا یاد آرہا ہے

نواسوں کا وہ صدقہ بانٹتے ہیں
زمانہ اُن کا صدقہ کھا رہا ہے

میرا دل بھی تو اپنے ساتھ لے جا
اکیلا کیوں مدینے جارہا ہے

بلائیں گے تجھے بھی سرورِ دین
دلِ محمود تو کیوں گھبرا رہا ہے

*معـزز احبــاب!*

🍃ثـواب حـاصـل کـرنـے کـی نـیـت سـے 
  زیـادہ سـے زیـادہ شــئـیـر کیجیئے🍃

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...