30/04/2022

ماہ رمضان بس الوداع ہے

الوداع الوداع الوداع ہے
ماہ رمضان بس الوداع ہے

دن تیرے آنے سے معتبر تھے نور میں ڈوبے شام و سحر تھے
تیرے جانے سے دل رو رہا ہے ماہ رمضان بس الوداع ہے

الوداع الوادع الوداع ہے
ماہ رمضان بس الوداع ہے

رحمتوں کا تُو پیغام لایا برکتوں کا امکان لایا
رتبہ اعلی و افضل تیرا ہے ماہِ رمضان بس الوداع ہے

جام رحمت کے تُو نے پلاۓ گُل مرادوں کے تُو نے گھلاۓ
تُو جدا ہم سے اب ہو رہا ہے ماہِ رمضان بس الوداع ہے

الوداع الوداع الوداع ہے
ماہِ رمضان بس الوداع ہے

چل دیا تُو جو رب کی جانب اہلِ ایماں کے پُر نم ہیں قالب
قلب عشرت بھی غم سے بھرا ہے ماہِ رمضان بس الوداع ہے

الوداع الوداع الوداع ہے
ماہِ رمضان بس الوداع ہے

 

28/04/2022

عطار کی ہمت کا کیا کہنا

امیر اہلسنت آپ کی ہمت کا کیا کہنا

جو بد کو نیک کر دیتی ہے اس دعوت کا کیا کہنا

جو صحبت میں تیری آئے وہ عشق مصطفی پائے
میرے محسن تیری مجلس تیری صحبت کا کیا کہنا

یہاں پر ایک شمع دل سے لاکھوں دیپ جلتے ہیں
ضیائی قادری درویش کی برکت کا کیا کہنا

مساجد سے نکل کر بستیوں تک خیر پہنچانا
جزاک اللہ تیری غم خوار کی عادت کا کیا کہنا

شعور و علم و آگاہی ملے جس سے مسلماں کو
تیرے پیارے نظامِ علم اور حکمت کا کیا کہنا

جسے تم پیار سے دیکھو تمہارا دل سے شیدا ہو
محبت بانٹنے والی تیری فطرت کا کیا کہنا

ضیائی قادری فیضان بٹتا ہے تیرے در سے
نبی کے عشق میں سرمست جمیعت کا کیا کہنا

شفیع المذنبیں تک تیرا شجرہ لاکھوں کو لایا
نبی سے جوڑ دینے والی اس نسبت کا کیا کہنا

جہاں میں بانٹے والے بہت کچھ بانٹ دیتے ہیں
جو دولت تو نے بانٹی ہے تیری دولت کا کیا کہنا

جہاں شمع محبت پائی پروانہ سجا پہنچا
فقیرِ بدر تیری واہ تیری عادت و خصلت کیا کہنا

 

27/04/2022

مدینے سے بلاوا آ رہا ہے

مدینے سے بلاوا آرہا ہے

میرا دل مجھ سے پہلے جارہا ہے

شبِ فرقت سے دل گھبرا رہا ہے
مدینہ آپ کا یاد آرہا ہے

یہاں مرضی نہیں چلتی کسی کی
مدینے والا ہی بلوا رہا ہے

عجب ہیں سبز گنبد کے نظارے
نگاہوں کو خدا یاد آرہا ہے

نواسوں کا وہ صدقہ بانٹتے ہیں
زمانہ اُن کا صدقہ کھا رہا ہے

میرا دل بھی تو اپنے ساتھ لے جا
اکیلا کیوں مدینے جارہا ہے

بلائیں گے تجھے بھی سرورِ دین
دلِ محمود تو کیوں گھبرا رہا ہے

*معـزز احبــاب!*

🍃ثـواب حـاصـل کـرنـے کـی نـیـت سـے 
  زیـادہ سـے زیـادہ شــئـیـر کیجیئے🍃

 

24/04/2022

میرا دل اور میری جان مدینے والے

 میرا دل

میرا دل اور میری جان مدینے والے

تجھ پہ سو جان سے قربان مدینے والے

لکھ دے لکھ دے میری قسمت میں مدینہ لکھ دے
ہے تیری مِلک قلم دان مدینے والے

پھر تمنائے زیارت نے کیا دل بے چین
پھر مدینے کا ہے ارمان مدینے والے

سبز گنبد کی فضاؤں میں بلالو مجھ آقاﷺ
تیرا غافل ہے پریشان مدینے والے

کام آتی ہے تیری ذات ہر اک دکھیا کے
میری مشکل بھی ہو آسان مدینے والے

سگ طیبہ مجھے سب کہہ کے پکارے بیدم
یہی رکھے میری پہچان مدینے والے

21/04/2022

بے خود کیے دیتے ہیں

بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ

آ دِل میں تُجھے رکھ لُوں اے جلوہ جَانَانَہ

کِیوں آنکھ مِلائی تِھی کیوں آگ لگائی تِھی
اب رُخ کو چُھپا بیٹھے کر کے مُجھے دِیوانہ

اِتنا تو کرم کرنا اے چِشمِ کریمانہ
جب جان لبوں پر ہو تُم سامنے آ جانا

اب موت کی سختِی تو برداشت نہیں ہوتِی
تُم سامنے آ بیٹھو دم نِکلے گا آسانہ

دُنیا میں مُجھے اپنا جو تُم نے بنایا ہے
محشر میں بِھِی کہہ دینا یہ ہے مرا دیوانہ

جاناں تُجھے مِلنے کی تدبِیر یہ سوچِی ہے
ہم دِل میں بنا لیں گے چھوٹا سا صنم خانہ

میں ہوش حواس اپنے اِس بات پہ کھو بیٹھا
تُو نے جو کہا ہنس کے یہ ہے میرا دیوانہ

پینے کو تو پِی لُوں گا پر عَرض ذرّا سی ہے
اجمیر کا ساقِی ہو بغداد کا میخانہ

کیا لُطف ہو محشر میں شِکوے میں کیے جاوں
وہ ہنس کے یہ فرمائیں دیوانہ ہے دیوانہ

جِی چاہتا ہے تحفے میں بھِیجُوں اُنہیں آنکھیں
درشن کا تو درشن ہو نذرانے کا نذرانَہ

محشر میں میرے مُرشِد تم پاس کھڑے رہنا
کیا جانے خدا پوچھے کیا کہہ دے یہ دیوانہ

معلوم نہیں بیدم میں کون ہوں اور کیا ہوں
یوں اپنوں میں اپنا ہوں بیگانوں میں بیگانہ

بیدمؔ میری قِسمت میں سجدے ہیں اُسِی دّر کے
چُھوٹا ہے نہ چُھوٹے گا سنگِ درِّ جَانَانَہ

 

17/04/2022

یا رسول اللہ انظر حالنا

مصطفیٰﷺ نظرِ کرم فرمائیں گے

ایک دن ہم بھی مدینے جائیں گے

سبز گنبد پر نظر جب جائے گی
کام سب بگڑے ہوئے بن جائیں گے

گنبدِ خضریٰ کی ٹھنڈک پائیں گے
ہم بھی اُسکے سائے میں سو جائیں گے

شبر و شبیر جانِ فاطمہ
اپنے نانا سے ہمیں ملوائیں گے

شبر و شبیر کے نانا ہیں وہ
وہ ہمیں خالی نہیں لوٹائیں گے

جاگ اٹھے گی تیری قسمت اے علؔیم
جب قدم ان کے تیرے گھر آئیں گے

 

08/04/2022

Rab Ka Mehman Ramzan Hai

السلام اے ماہِ رمضان السلام اے ماہِ رمضان

میرے آقا کا فرمان ہے رب کا مہمان رمضان ہے

سحری افطار کی چاشنی اور تراویح کی دلکشی
تجھکو بن مانگے جو مل گئی تجھ پہ رب کا یہ احسان ہے

جس میں قرآن نازل ہوا قرب رحمان حاصل ہوا
ذکر سے دل نہ غافل ہوا یہ وہی ماہِ رمضان ہے

کر تلاوتِ تو قرآن کی قدر کر رب کے فرمان کی
تاکہ رحمت ہو رحمن کی بس یہی تیری پہچان ہے

راہِ قرآن و سنت پہ چل تاکہ حاصل ہو جنت کے پھل
نفس و شیطاں ہے دشمن سنبھل تیرا غافل کدھر دھیان ہے

 

04/04/2022

آمد رمضان

چاروں طرف ہے روشنی رمضان کی آمد ہوئی
کھلنے لگی دل کی کلی رمضان کی آمد ہوئی

دنیا کے پیچھے مت پڑو روزے رکھو مسجد چلو
کرتے رہو ذکر نبی ﷺ رمضان کی آمد ہوئی

جو مانگنا ہے مانگ لو رحمت خدا کے لوٹ لو
ہوگی دعا پوری سبھی رمضان کی آمد ہوئی

ماں باپ کی عزت کرو ان سے دعائیں خوب لو
اس میں ہے آقاﷺ کی خوشی رمضان کی آمد ہوئی

افطار و سحری کا مزہ فضل خدا سے ہے ملا
مولا نے دی پھر یہ خوشی رمضان کی آمد ہوئی

پھیلا عجب رنگ کے وفا ہر سمت رحمت کی فضا
ہر لب پے ہے یہ نغمگی رمضان کی آمد ہوئی

یا رب دعا مقبول ہو آقاﷺ کو بھی منظور ہو
تفؔسیر کی یہ شاعری رمضان کی آمد ہوئی

 

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...