29/08/2025

Aankhon ka Tara Naam e Muhammad

آنکھوں کا تارا نامِ محمد ﷺ
دل کا اجالا نامِ محمد ﷺ

اللہ اکبر رب العلی نے
ہر شے پہ لکھا نامِ محمد ﷺ

ہیں یوں تو کثرت سے نام لیکن
سب سے ہے پیارا نامِ محمد ﷺ

دولت جو چاہو دونوں جہاں کی
کرلو وظیفہ نامِ محمد ﷺ

شیدا نہ کیوں ہوں اُس پر مسلماں
رب کو ہے پیارا نامِ محمد ﷺ

اللہ والا دم میں بنا دے
اللہ والا نامِ محمد ﷺ

صَلِّ علیٰ کا سہرہ سِجا کر
دولھا بنا یا نامِ محمد ﷺ

نوح و خلیل و موسیٰ و عیسیٰ
سب کا ہے آقا نامِ محمد ﷺ

سارے چمن میں لاکھوں گلوں میں
گل ہے ہزارا نام محمد ﷺ

پائیں مرادیں دونوں جہاں میں
جس نے پکارا نامِ محمد ﷺ

مومن کو کیوں ہو خطرہ کہیں پر
دل پر ہے کندہ نامِ محمد ﷺ

رکھو لحد میں جس دم عزیزو
مجھ کو سنانا نامِ محمد ﷺ

پڑھتی درودیں دوڑیں گی حوریں
لاشہ جو لےگا نامِ محمد ﷺ

روز قیامت میزان و پل پر
دے گا سہارا نامِ محمد ﷺ

پوچھے گا مولیٰ لایا ہے کیا کیا
میں یہ کہوں گا نامِ محمد ﷺ

غم کی گھٹائیں چھائی ہیں سر پر
کردے اشارہ نامِ محمد ﷺ

رنج و الم میں ہیں نام لیوا
کردے اشارہ نامِ محمد ﷺ

بیڑا تباہی میں آگیا ہے
دے دے سہارا نامِ محمد ﷺ

زخمی جگرپر مجروح دل پر
مرہم لگا جا نامِ محمد ﷺ

دل میں عداوت خر کی بھر ی ہے
نجدی نہ لے گا نامِ محمد ﷺ

اپنے رضا کے قربان جاؤں
جس نے سکھایا نامِ محمد ﷺ

آنکھوں میں آکر دل میں سما کر
رنگت رچا جا نامِ محمد ﷺ

اپنے جمؔیلِ رضوی کے دل میں
آجا سما جا نامِ محمد ﷺ

 

26/08/2025

1500 Jashn e Wiladat

جانِ جناں و رونقِ گلزار آگئے
آج آمنہ کے گھر شہِ اَبرار آگئے

ظاہر ہوا وہ جلوۂ صورت جناب کا
قدسی بھی لینے صدقۂ رخسار آگئے

اَرض و َسماں زَمان و مکاں یک زباں ہے آج
خلّاقِ کائنات کے شہکار آگئے

مہرِ سَماں ستارے قمر اور کہکشاں
خیرات لینے نور سے انوار آگئے

یہ رسمِ عاشقی ہے اَدا اِس کو کیجئے
دِیدہ و دل بچھایئے دِلدار آگئے

میلاد کی سہانی گھڑی آگئی چلو
نعرے لگاو جھوم کے سرکار آگئے

دامن پسارو مانگ لو جو مانگنا ہے آج
اللہ کے خزانوں کے مختار آگئے

بَرسے گی آج بارشِ اَنوار اے عبیدؔ
لو کھول کے وہ گیسوئے خمدار آگئے

الحاج محمد اویس رضا قادری

https://khushbueraza.blogspot.com/

 

1500 Sala Jashn e Wiladat

پندرہ سو سالہ جشنِ ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

گھر گھر سجائیں گے، خوشیاں منائیں گے
آقا ﷺ سے پیار ہے سب کو بتائیں گے

پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں
پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

آ گئے جگ میں شاہِ مدینہ، نور بھرا ہے پیارا مہینہ
چھوڑ کے سارے کام دیوانوں ! آؤ نبی کی بزم سجائیں

آمنہ کی جان، بارھویں کا چاند نور بن کے آیا، ہر لب ہے مسکرایا

پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں
پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

سارا جہاں کہنے لگا ! مرحبا یا مصطفیٰ  سارا جہاں کہنے لگا ! مرحبا یا مصطفیٰ

آئے ہیں آقا ﷺ کلمہ پڑھانے راہِ ہدایت ہم کو دکھانے
اُنکی ولادت فضلِ خدا ہے، کیوں نہ منائیں کیوں نہ منائیں

آمنہ کی جان، بارھویں کا چاند نور بن کے آیا، ہر لب ہے مسکرایا

پندرہ سو سالہ جشنِ ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں
پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

آئے میرے مصطفیٰ ! مرحبا یا مصطفی آج ہے سب کی سدا ! مرحبا یا مصطفى
ابر کرم چھا گیا ! مرحبا یا مصطفیٰ نور والا آ گیا ! مرحبا یا مصطفیٰ

جشنِ ولادت شاہِ زمن کا عشق ہے واللہ اہلِ سنن کا
جھنڈے لگا کر گھر کو سجا کر آؤ نبی کی نعت سنائیں

آمنہ کی جان، بارھویں کا چاند نور بن کے آیا، ہر لب ہے مسکرایا

پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں
پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

میرے نبی لا جواب ہیں ! میرے نبی لا جواب ہیں

صدیوں سے جاری ہے یہ روایت جشنِ نبی ہے سُنّی ثقافت
تھام کے پرچم پیارے نبی کا اپنے مشن کو آگے بڑھائیں

آمنہ کی جان، بارھویں کا چاند نور بن کے آیا، ہر لب ہے مسکرایا

پندرہ سو سالہ جشنِ ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں
پندرہ سو سالہ جشنِ ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

سارا جہاں کہنے لگا ! مرحبا یا مصطفیٰ سارا جہاں کہنے لگا ! مرحبا یا مصطفیٰ 

اُن کی ثنا سے دل ہے منور آنکھ ہے روشن روح معطر
نعتِ نبی سے شوقِ فریدی اپنا مقدر کیوں نہ جگائیں

آمنہ کی جان، بارھویں کا چاند نور بن کے آیا، ہر لب ہے مسکرایا

پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں
پندرہ سو سالہ جشن ولادت پیارے نبی کا مل کے منائیں

 

18/08/2025

Unki Mehak Ne

غمگیں دل کے سارے دکھ غم مٹادیئے ہیں
چاک جگر کسی نے گویا سلا دیئے ہیں
پز مردہ من کے رستے گلشن بنا دیئے ہیں
ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلادیئے ہیں
جس راہ چل گئے ہیں کوچے بسا دیئے ہیں

مرض گناہ کیا ہے ، بیمار اسکا کتنا
کیا رنج ہے جگر کا، اسکا فگار کتنا
اپنی سکت ہی کیا ہے، اپنا شعار کتنا
اک دل ہمارا کیا ہے آزار اس کا کتنا
تم نے تو چلتے پھرتے مردے جلا دیے ہیں

تن خاکسار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو
دل بے قرار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو
غم کا شکار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو
ان کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو
جب یاد آگئے ہیں سب غم بھلا دیے ہیں

ہر گزنہ آگ سے پھر عاصی نبرد ہو گا
آزاد نار سے اب ایک ایک فرد ہو گا
امت کا کب گوارا آقا کو درد ہو گا
اللہ کیا جہنم اب بھی نہ سرد ہو گا
رورو کے مصطفیٰ نے دریا بہا دیے ہیں

افلاک مل گئے جو تارا کسی نے مانگا
اعلی دیا ہے گر جو ادنی کسی نے مانگا
ملک جہاں ملی جو ذرہ کسی نے مانگا
میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا
دریا بہادیے ہیں دربے بہا دیے ہیں

اہل سخن جبینیں کرتے ہیں جس جگہ خم
وہ ہے کرم ، رضا کے زور قلم کا اک دم
ہے داغ کا یہ کہنا، تصدیق میں مقدم
ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں

 

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...