31/07/2025

Shukriya Ahmed Raza

آپ سے سیکھا ہے ہم نے اے رضا عشقِ نبی
آپ نے ہم کو بنایا عاشقِ مولیٰ علی
آپ کا احسان یہ کیسے بھلایا جائے گا
تیرا ہی چرچہ رہے گا اے بریلی کے رضا

آپ اہل شر کی خاطر حیدری شمشیر ہیں
حضرت مولیٰ عمر کے قہر کی تصویر ہیں
ذکر ہو گا جب اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارْ کا
تیرا ہی چرچہ رہے گا اے بریلی کے رضا

سنیوں کو آپ نے بخشا فتاویٰ رضویہ
کنزالایماں دے کے ایمان اور پختہ کر دیا
جب بھی ایمان و عقیدے پر چھڑے گا تبصرہ
تیرا ہی چرچہ رہے گا اے بریلی کے رضا

نعت پڑھنا نعت لکھنا نعت سننا کام تھا
آپ کا خامه فقط خیر الوریٰ کے نام تھا
جب تلک جاری سفر ہے مدحت سرکار کا
تیرا ہی چرچہ رہے گا اے بریلی کے رضا

آپ سے سیکھا ادب سرکار کے اصحاب کا
سیدہ کا اور اُن کی آل کا احباب کا
جب تلک قائم رہے گا سیدوں کا سلسلہ
تیرا ہی چرچہ رہے گا اے بریلی کے رضا

لاکھ ہو جائے مخالف کل جہاں کچھ غم نہیں
مجھ کو ان سے عشق ہے جو ہو گا ہر گز کم نہیں
عمر بھر شوقِؔ فریدی میں کہوں گا برملا
تیرا ہی چرچہ رہے گا اے بریلی کے رضا

 

15/07/2025

Ulfat Rasool ki

کیوں کر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
جنت میں لے کے جائے گی چاہت رسول کی

چلتا ہوں میں بھی قافلے والو ! رکو ذرا
ملنے دو بس مجھے بھی اجازت رسول کی

پوچھیں جو دین و ایماں نکیرین قبر میں
اس وقت میرے لب پہ ہو مدحت رسول کی

تڑپا کے ان کے قدموں میں مجھ کو گرادے شوق
جس وقت ہو لحد میں زیارت رسول کی

سرکار ﷺ نے بلا کے مدینہ دکھا دیا
ہو گی مجھے نصیب شفاعت رسول کی

یا رب دکھا دے آج کی شب جلوۂ حبيب
اک بار تو عطا ہو زیارت رسول کی

جنت تو ان کے صدقے میں مل جائے گی مگر
اے کاش ہو نصیب رفاقت رسول کی

دامن میں ان کے ! لے لو پناہ آج منکرو
مہنگی پڑے گی ورنہ عداوت رسول کی

تو ہے علام ان کا عبید رضا تیرے
محشر میں ہوگی ساتھ حمایت رسول کی

 

09/07/2025

Dariya Hai Hamara

 
غازی عباس علمدار غازی عباس علمدار
غازی عباس علمدار غازی عباس علمدار

عباس علمدار کے دیوانوں کا نعرہ
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا
غازی کے وفاداروں نے مل کے پکارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

مشکیزہ لیے دریا پہ جاؤں گا سکینہ
ہر حال میں پانی اور میں لاؤں گا سکینہ
پھر اپنے ہی ہاتھوں سے پلاؤں گا سکینہ
باطل نے مگر کہہ کے یہی تیر سے مارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

آقاﷺ کے دلاروں کو ستانے پہ تلے ہو
حیدر کی نشانی کو مٹانے پہ تلے ہو
لالچ میں ہو دنیا کے خزانے پہ تلے ہو
تم جس پہ اکڑتے ہو وہ صدقہ ہے ہمارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

اتنا نہ تکبر کرو اے تخت نشینوں
اوقات میں اپنی رہو ورنہ اے لعینوں
اک بار میں واللہ میں کہتا ہوں کمینوں
اس جنگ کا نقشہ ہی بدل جائے گا سارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

زہرا کے دلاروں کا اگر صدقہ نہ پاتے
کس کے درِ دولت پہ یہ دامن کو بچھاتے
تکلیف جو دل میں ہے کِسے جا کے سناتے
تم سب کا مگر ہوتا ہے اس در سے گزارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

اے بغض کے مارو ، ذرا تم ہوش میں آؤ
تم ہم کو زر و مال خدارا نہ دِکھاؤ
اے ظالموں میں پوچھ رہا ہوں یہ بتاؤ
اس گلشنِ ہستی میں بھلا کیا ہے تمہارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

جس وقت علمدار نے تلوار اٹھائی
گھمسان کی کربل میں ہوئی خوب لڑائی
اور ظالم و جابر کی ہوئی سخت پٹائی
بے خوف ہر اک مردِ قلندر نے پکارا
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

بچپن سے علی مولا کے سائے میں رہا ہوں
اور فاطمہ زہرا کی دعاؤں سے پلا ہوں
یہ بھول کے مت سوچنا تم سب سے ڈرا ہوں
ہمت ہے تو تم سامنے آجاؤ دوبارہ
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

عباس علمدار کا جذبہ ہے یہ پیارا
جرأت ہے غضب کفر کا ایوان اجاڑا
کربل میں کئی لشکرِ ظالم کو پچھاڑا
اور قلعۂ باطل کو بھی ہے جڑ سے اکھاڑا
کہہ کر یہی اسلام کے گلشن کو سنوارا
عباس علمدار کے دیوانوں کا نعرہ

مشہود رضا سر پہ کفن باندھ کے حلیے
گستاخ کے نرغے میں شب و روز یہ کہیے
اے منکرِ اسلام ذرا دھیان سے سنیے
بے خوف علمدار کے متوالو ، کا نعرہ
دریا ہے ہمارا دریا ہے ہمارا

04/07/2025

Mera Hussain baghe nabuwat ka phool Hai

میرا حسین باغِ نبوت کا پھول ہے
حیدر کی اس میں جان ہے خونِ بتول ہے

ایسی عظیم ذات ہے مولا حسین کی
جس کیلئے رسول کے سجدوں میں طول ہے

دنیا میں اور کون ہے شبیر کے سوا
ایسا سوار جس کی سواری رسولﷺ ہے

گزرا جہاں جہاں سے نواسہ رسولﷺ کا
اب تک وہاں خدا کے کرم کا نزول ہے

جس کے لیے یزید نے اتنے ستم کیے
وہ تاج تو حسین کے قدموں کی دھول ہے

آل نبیﷺ کا پیار ہے ایماں کی زندگی
ان سے نہیں ہے پیار تو سب کچھ فضول ہے

تو ان کے در سے مانگ لے جو کچھ بھی جی کرے
مالک سبھی جہان کی آلﷺ رسول ہے

محشر میں میں کہوں میں غلامِ حسین ہوں
سن کر کہے حسین ہم کو قبول ہے

جھکنا اے راؔز فاسق و فاجر کے سامنے
توہینِ بندگی ہے شکست اصول ہے

 

03/07/2025

Aaya Na Hoga is Tarah

آیا نہ ہوگا اس طرح حسن و شباب ریت پر
گلشنِ فاطمہ کے تھے سارے گلاب ریت پر

جانِ بتول کے سوا کوئی نہیں کھلا سکا
قطرہٗ آب کے بغیر اتنے گلاب ریت پر 

جتنے سوال عشق نے آلِ رسول سے کیے
اک سے بڑھ کے اک دیا، سب نے جواب ریت پر

ترسے حسین آب کو، میں جو کہوں تو بے ادب
لمسِ لبِ حُسین کو ترسا ہے آب ریت پر

لذّتِ سوزش ِ بلال، شوقِ شہادتِ حُسین 
جس نے لیا یونہی لیا اپنا خطاب ریت پر

عشق میں کیا بچایئے، عشق میں کیا لُٹایئے
آلِ نبی نے لکھ دیا سارا نصاب ریت پر

آل نبی کا کام تھا آل نبی ہی کر گئے
کوئی نہ لکھ سکا ادیبؔ، ایسی کتاب ریت پر

 

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...