03/05/2023

Ye na poochho kidhar ja raha hun

یہ نہ پوچھو کدھر جا رہا ہوں

آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں

دوستو اب نہ آنسو بہانا
قبر ہی تو ہے اصلی ٹھکانہ
یہ نہ سمجھو مر جا رہا ہوں
آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں

پاس میرے نہیں سونے چاندی
ہاتھ میرے ہیں دونوں ہی خالی
چھوڑ کر مال و زر جا رہا ہوں
آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں

قبر میں سامنے روئے سرکار ہوگا
قبر میں ان کا دیدار ہوگا
بس یہی سوچ کر جا رہا ہوں
آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں

دفن کر کے مجھے مت بھلانا
قبر پر تم میری آنا جانا
سن لو لختِ جگر جا رہا ہوں
آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...