03/05/2023

Wo Sheher E Mohabbat

وہ شہر ے محبت جہاں مصطفیٰ ہیں وہیں گھر بنانے کو دل چاہتا ہے
وہ سونے سے کنکر وہ چاندی سی مٹی نظر میں بسانے کو دل چاہتا ہے

جہادِ محبت کی آواز گونجی کہا حنظلہ نے یہ دلہن سے اپنی
اجازت اگر دو تو جامِ شہادت لبوں سے لگانے کو دل چاہتا ہے

جو پوچھا نبی نے کہ کچھ گھر بھی چھوڑا تو صدیقِ اکبر کے ہونٹوں پہ آیا
وہاں مال و دولت کی کیا ہے حقیقت جہاں جاں لٹانے کو دل چاہتا ہے

ستاروں سے چاند یہ کہتا ہے ہر دم تمہیں کیا بتائیں وہ ٹکڑوں کا عالم
اشاروں میں آقا کے اتنا مزہ تھا کہ پھر ٹوٹ جانے کو دل چاہتا ہے

وہ ننھا سا اصغر وہ ایڑی رگڑ کر یہی کہہ رہا ہے وہ خیمے میں رو کر
اے بابا میں پانی کا پیاسا نہیں ہوں میرا سر کٹانے کو دل چاہتا ہے

کہ جو دیکھا ہے روئے جمالِ رسالت تو طاہر عمر مصطفی سے یہ بولے
بڑی آپ سے دشمنی تھی مگر اب غلامی میں آنے کو دل چاہتا ہے

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...