26/11/2022

Itna kafi Hai Zindagi ke liye

اتنا کافی ہے زندگی کے لیے
رکھ لیں آقا جو نوکری کے لیے

ماہ و خورشید ان کی چوکھٹ پر
روز آتے ہیں روشنی کے لیے

دونوں عالم بنائے مولا نے
یا نبی صرف آپ ہی کے لیے

تک کے اُن کو ایوب کے گھر نے
محل ترسے ہیں جھونپڑی کے لیے

لمبے سجدے کیے نبیﷺ نے کہا
اے نواسے تیری خوشی کے لیے

آ گئے قبر میں بھی چھڑوانے
درد کتنا ہے اُمتی کے لیے

دید مانگی ہے اُن کی اے حاکم
میں نے بس وقتِ آخری کے لیے

 

22/11/2022

Tujhe Salam

اسلام کے اے مَردِ مجاہد تجھے سلام
اے کاروانِ عشق کے مُرشِد تجھے سلام

آواز تیری شعلہ و شمشیر بن گئی 
اے جانشینِ "طارق و خالد " تجھے سلام

تو دے گیا ہے عشقِ نبی کو نئی حیات
اعداد اور شمار سے زائد تجھے سلام

تاعمر کی حفاظتِ ناموسِ مصطفیٰ
اے سُنّیوں کے رہبرِ راشد تجھے سلام

نبضِ جہاں ٹھہر گئی تیری وفات پر
سب رو کے کہہ رہے ہیں اے قائد تجھے سلام

لکھّی ہوئی رہے گی دلوں پر تری حیات
تازہ رہیں گے تیرے شواہد ، تجھے سلام

جبر و ستم کی چھاؤں میں بھی تو ڈٹا رہا
رسمِ حُسَینیت کے مُجدّد تجھے سلام

میداں کو تو نے سجدہ گہِ عشق کر لیا
اے کربلائے وقت کے عابد تجھے سلام

پیغامِ حق سنایا بھی ، اُس پر چلایا بھی
اے عشقِ مصطفائی کے قاصد تجھے سلام

تجھ پر فدا اے ختم نبوت کے پہریدار
اے پاسبانِ باغِ عقائد تجھے سلام

کردار میں بھری تھیں عزیمت کی بجلیاں
تجھ کو جھکا سکے نہ شَدائد، تجھے سلام

ماں باپ سے بھی بڑھ کے ہمیں تو عزیز ہے
اے جلوۂ خودی کے مُشاہد تجھے سلام

اعزاز میں جبینِ جہاں ہے جھکی ہوئی
سب کر رہے ہیں غائب و شاہد، تجھے سلام

فکر رضا میں ڈھل گیا تیرا وجودِ ناز
محرابِ حق پرستی کے ساجد تجھے سلام

ملت میں روحِ عشق کو بیدار کردیا
ہیں سارے اہلِ حق ترے حامد ، تجھے سلام

اے سنیت کے شیر ، نہ بھولیں گے ہم تجھے
حاصل کریں گے تیرے مقاصد ، تجھے سلام

مشغول ہیں دعا میں فریدی کے جان و دل
فضلِ خدا ہو تیرا مُساعِد تجھے سلام

از فریدی صدیقی مصباحی مسقط عمان

 

08/11/2022

Charcha Ghous E Azam Ka

زمانے میں ہر اک جانب ہے چرچا غوث اعظم کا 
ہر اک جن وبشر رہتا ہے شیدا غوث اعظم کا

بنایا غوث نے اک چور کو ابدال پل بھر میں
اسی سے جان لو کیسا ہے رتبہ غوث اعظم کا

تمہیں جائز ہے کوا نجدیو پھر شوق سے کھاؤ 
ہمارے واسطے کافی ہے مرغا غوث اعظم کا 

خدا نے کس قدر اعلیٰ کیا ہے مرتبہ ان کا
کہ کل ولیوں کی گردن پر ہے تلوا غوث اعظم کا 

کوئی عاشق شہ جیلاں کا صدقہ کھائے کیا حیرت
"زمانہ پل رہا ہے کھا کے ٹکڑا غوث اعظم کا"

ولایت کی جہاں خیرات بنٹتی ہے جہاں بھر میں
علی شیر خدا بابا ہے کس کا ؟ غوث اعظم کا 

ہر اک غوث و قطب ابدال جن پر ناز کرتے ہیں 
ہے بغداد معلی میں وہ روضہ غوث اعظم کا

خدا کے فضل سے اور شاہ بطحا کی عنایت سے
زہے قسمت شکیل احمد ہے منگتا غوث اعظم کا

از۔شکیل نان پوری،سیتا مڑھی بہار

 

07/11/2022

Sultan E Auliya ko Hamara Salam Ho

سلطانِ اولیاء کو ہمارا سلام ہو

جِیلاں کے پیشوا کو ہمارا سلام ہو

پیارے حَسن حُسین کے، حیدر کے لاڈلے
محبوبِ مصطَفٰے کو ہمارا سلام ہو

وہ غوث جس کے خوف سے جِنّات کانپ اُٹھیں
اُس دافعِ بلا کو ہمارا سلام ہو

چھوڑا ہے ماں کا دودھ بھی ماہِ صِیام میں
سرتاجِ اتقیا کو ہمارا سلام ہو

سب اَولیاکی گردنیں زیرِ قدم ہیں خم
سردارِ اصفیا کو ہمارا سلام ہو

دل کی جو بات جان لے روشن ضمیر ہے
اُس مردِ باصفا کو ہمارا سلام ہو

بھٹکے ہوؤں کو راستہ سیدھا دکھا دیا
عالَم کے رہنما کو ہمارا سلام ہو

گرتے سنبھالیں، ڈوبتی کِشتی بچائیں جو
غمخوارِ غم زَدہ کو ہمارا سلام ہو

پوری مُراد جو کرے اور جھولیاں بھرے
اُس مَخزنِ عطا کو ہمارا سلام ہو

اِذنِ خدا ئے پاک سے مُردے جِلائے جو
اُس مَظہرِ خدا کو ہمارا سلام ہو

کہہ کر کے’’ لَاتَخَف‘‘ ہمیں بے خوف کردیا
اُس رحمتِ خدا کو ہمارا سلام ہو

پڑھتے رہو مُدام یہ عطارؔ قادِری
سلطانِ اولیا کو ہمارا سلام ہو

 

05/11/2022

Ghous E Azam Baman E Be Saro Saman Madade

غوث اعظم بمنِ بے سرو ساماں مد دے
قبلۂ دیں مد دے، کعبۂ ایماں مدد دے

ہند میں رہتا ہوں، دل رکھتا ہوں سوئے بغدادؔ
نگۂ لطف اِدھر اے شہ جیلاں مدد دے

داغِ دل کھول کے دکھلا نہیں سکتا لیکن
نذر میں لایا ہوں اک چاکِ گریباں مدد دے

پھر بہار آئے تو زنجیر بکف ہو کے پڑھوں
سلسلے والوں میں ہوں اے شہِ پیراں مد دے

تیرے دربار کی پیزاروں کا رکھوالا ہوں
اپنے اس منصبِ عالی پہ ہوں نازاں مد دے

میں تہی دست ہوں، نذرانۂ سر لایا ہوں
لاج رکھ لے مرے آقائے غلاماں مدد دے

سارے ولیوں کے سروں پہ قدمِ عالی ہے
ایک ٹھوکر، کہ مرا سر بھی ہو رقصاں مد دے

شاہِ حمزہ کی غزل پڑھ کے نواسنج ہوں میں
مہر اشرفؔ پہ ہو اے ماہ درخشاں مدد دے

 

04/11/2022

Shah E Jeelan Peer Peeran

شاہِ جیلاں پیرِ پیراں
مرشد میرے غوث پاک

اپنے در پر اپنے منگتے کو بُلائیں غوثِ پاک
اور اپنی دید کا شربت پِلائیں غوثِ پاک

ہو رہی ہے آپ کی ہم پر عطائیں غوثِ پاک
کیوں نہ پھر ہم آپ کے نعرے لگائیں غوثِ پاک

ہے وہ تیرا دبدبہ کہ تیرے نامِ پاک سے
ہر طرح کے ہیں سبھی جنّ و بَلائیں غوثِ پاک

آپ میرے دل جگر میں اور آنکھوں میں رہیں
یاد بن کر میری نس نس میں سمائیں غوثِ پاک

بے وفا ہیں ہم نبھا پائیں نہ کچھ بھی آپ سے
حشر تک بس آپ ہی ہم کو نبھائیں غوثِ پاک

جاکنی کا وقت ہے بحرِ علی المرتضٰی
اپنے خاکی کے سرہانے آپ آئیں غوثِ پاک

 

03/11/2022

Masha Allah Ya Abdul Qadir

آل نبی اولاد علی ہیں قطب ربانی

ولیوں کے سردار ہیں میرے غوث پیا جیلانی
ہے محبوبِ سبحانی عبدالقادر جیلانی

ماشاء اللہ یا عبد القادر ماشاء اللہ
ماشاء اللہ یا غوثِ اعظم ماشاء اللہ

بدکاروں کو ولی بنا دے چوروں کو ابدال
منگتے در پر آئیں تو کرتے ہیں مالا مال
ان کی عطا کا ان کی سخا کا کوئی نہیں ہے ثانی
ہے محبوبِ سبحانی عبدالقادر جیلانی

ماشاء اللہ یا عبد القادر ماشاء اللہ
ماشاء اللہ یا غوثِ اعظم ماشاء اللہ

پیدا ہوتے ہی رکھتے ہیں رمضاں کے روزے
سحری سے افطاری تک وہ دودھ نہیں پیتے
ماں کے پیٹ سے حفظ ہے اٹھارہ پارے قرآنی
ہے محبوبِ سبحانی عبدالقادر جیلانی

ماشاء اللہ یا عبد القادر ماشاء اللہ
ماشاء اللہ یا غوثِ اعظم ماشاء اللہ

رب کی عطا سے دیتے ہیں وہ مانگنے سے نا دان
ان سے مانگنے آتے ہیں اِس دنیا کے سلطان
اپنے گداؤں کو دیتے ہیں عالم کی سلطانی
ہے محبوبِ سبحانی عبدالقادر جیلانی

ماشاء اللہ یا عبد القادر ماشاء اللہ
ماشاء اللہ یا غوثِ اعظم ماشاء اللہ

سب سے بڑے داتا ہیں وہ تو سب سے بڑے ہیں پیر
یوں ہی نہیں کہتی دنیا ان کو روشن ضمیر
بڑھ جاتا ہے عشق سے ان کے جزبۂ ایمانی
ہے محبوبِ سبحانی عبدالقادر جیلانی

ماشاء اللہ یا عبد القادر ماشاء اللہ
ماشاء اللہ یا غوثِ اعظم ماشاء اللہ

دنیا بھی آباد ہے ہوگی عقبیٰ بھی آباد
تم ہو قادری عکسؔ ہمیشہ رکھنا ہے یہ یاد
جب تک جاں ہے کرتے رہنا اُنکی مدحت خوانی
ہے محبوبِ سبحانی عبدالقادر جیلانی

ماشاء اللہ یا عبد القادر ماشاء اللہ
ماشاء اللہ یا غوثِ اعظم ماشاء اللہ

 

01/11/2022

Yaa Ghous Al Madad

پیروں کے آپ پیر ہیں یا غوث المدد

اہل صفا کے میر ہیں یا غوث المدد

رنج و الم کثیر ہیں یا غوث المدد
ہم عاجز و اسیر ہیں یا غوث المدد

ہم کیسے جی رہے ہیں یہ تم سے کیا کہیں
ہم ہیں الم کے تیر ہیں یا غوث المدد

تیرے نظر سے پھیر دو سارے الم کے تیر
کیا یہ الم کے تیر ہیں یا غوث المدد

تیرے ہی ہاتھ لاج ہے یا پیر دستگیر
ہم تجھ سے دستگیر ہیں یا غوث المدد

کس دل سے ہو بیاں بےداد ظالماں
ظالم بڑے شریر ہیں یا غوث المدد

صدقہ رسول پاک کا جھولی میں ڈال دو
ہم قادری فقیر ہیں یا غوث المدد

دل کی سنائے اخؔتر دل کی زبان میں 
کہتے یہ بہتے نیر ہیں یا غوث المدد

 

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...