31/05/2022

سانس تو آنی جانی ہے

میں بھی فانی تو بھی فانی دنیا ساری فانی ہے

سانس پہ مت اترا رے بندے سانس تو آنی جانی ہے

چھوڑ دے سارے کالے دھندے توڑ دے سب شیطانی پھندے
دو روٹی کی سوچ رے بندے دو ہی تونے کھانی ہے

حسن جوانی دولت شہرت عزت طاقت اور مزہ
کبھی نہ ان کے دام میں آنا ٹھنڈی لحد جو پانی ہے

کتنے آئے کون بچا ہے کیسے تو بچ پائے گا
اس بابت تو سب یکساں ہے سب کی ایک کہانی ہے

گو کہ بظاہر گل سی خوشی ہے خار سے غم ہیں دنیا میں
لیکن نَفْسُ الْأَمر میں سب کی ایک حقیقت پانی ہے

میرے جسم پہ میری مرضی کیسی یہ نادانی ہے
راہِ خدا سے ہٹ کر تونے خود پر آفت ڈھانی ہے

نا تو خود دنیا میں آیا نہ ہی خود سے جائے گا
چھوڑ دے دو پل کی من مانی آگے دیکھا جائے گا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thanks for you

Popular

Koi Gul Baqi Rahega

کوئی گل باقی رہے گا نہ کلی رہ جائے گی پھر بھی زیرِ آسماں حب نبی رہ جائے گی نامیوں کے نام کا نقطہ بھی نہ رہ جائے گا عظمتِ صدیق کی مہر جلیں رہ...